تبادلۂ خیال:جامعہ اوکسفرڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسے آکسفورڈ کی بجائے ’’اوکسفرڈ‘‘ لکھا جانا چاہیے۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے یہی املا اپنایا ہے۔ --عمار ابنِ ضیا (تبادلۂ خیالشراکتیں) 10:54, 17 نومبر 2014 (م ع و)

شعیب بھائی کیا خیال ہے؟ کیونکہ میری رائے میں جب اردو میں ایسے حروف تہجی موجود ہیں جو اصل زبان کے تلفظ (آواز) کو صحیح صحیح بیان کر سکتے ہیں تو کیا اسے قبول کر لینا چائیے، مگر یہ مسئلہ بھی ہے کہ کم از کم پاکستان کی حد تک تو مجھے پتہ ہے کہ جتنے بھی اسکولوں کے ناموں میں اوکسفرڈ آتا ہے وہ اسے آکسفورڈ ہی لکھتے ہیں۔ اور باقی بھی آج تک یہی استعمال ہو رہا ہے (میری معلومات کے مطابق)۔۔۔۔۔

کئی شہروں کے ناموں میں آکسفورڈ ہے آکسفورڈ (ضد ابہام)۔
عمار بھائی، اوکسفرڈ میں مدیر ہیں، عمار بھائی امید ہے آپ اوکسفرڈ انگریزی لغت (اسی کے اندر اس کے دیگر تراجم بھی آسکتے ہیں) پر مضمون کو لکھ دیں یا انگریزی ویکی سے ترجمہ کر دیں --Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:30, 17 نومبر 2014 (م ع و)

اوکسفرڈ ہی درست ہے، آکسفورڈ کو اوکسفرڈ سے تبدیل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہاں معیاری املا کا خیال رکھنا ضروری ہے. :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  18:38, 17 نومبر 2014 (م ع و)
جی میں نے آئی پی اے سے بھی تسلی کر لی ہے، عربی، فارسی والے اور دیگر اس طرز کی زبانوں میں بھی آکسفورڈ ہے، شاید وہی بیماری کہ ایک دوسری کی دیکھا دیکھی تلفظ اپنا لیتے ہیں۔ طاہر بھائی سے بول دیں کہ شہروں کے نام (اگر وہ اس بات سے متفق ہو تو!) وہ خود تبدیل کر دیں، تا کہ بدمزگی پیدا نہ ہو۔ --Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:01, 17 نومبر 2014 (م ع و)
نمونے کے طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی ویب سائٹ سے اردو کتب کا صفحہ جہاں ہر کتاب کے سرورق پر اوکسفرڈ لکھا ہوا واضح ہے۔ اسی طرح ایک بی بی سی اردو کا حوالہ بھی۔--عمار ابنِ ضیا (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:48, 18 نومبر 2014 (م ع و)
تلفظ سنیے۔ اردو میں آکسفورڈ یا آکسفرڈ یا اوکسفرڈ ہر طرح سے لکھا ہو مل جائے گا۔ قریب ترین تلفظ آکسفرڈ ہے (میرے خیال میں)
آکسفورڈ
اسی طرح آکسفرڈ اور اوکسفرڈ بھی لکھے ملیں گے، لیکن زیادہ مستعمل آکسفورڈ ہے۔ دراصل جو نام کسی زبان میں رائج ہے وہی استعمال کیا جاتا ہے۔ Paris کو پیرس ہی لکھا اور پڑھا جاتا ہے، فرانسیسی میں بالکل مختلف ہے۔ وائس آف امریکہ والے بھی امریکہ ہی لکھ رہے ہیں امیریکا نہیں، جبکہ انگریزی بولنے میں امریکہ غلط ہے۔ سعودی شہر الریاض کو ریاض لکھا اور تلفظ تقریبا "ریاز" کی طرح ہے جبکہ عربی میں ریاد کی طرح بولا جاتا ہے۔ لندن کو لنڈن نہیں لکھا جا سکتا۔ اسی طری لینڈ کے سابقے والے ناموں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔ Scotland کو اسکاٹ لینڈ یا سکاٹ لینڈ ہی لکھا اور بولا بھی جاتا ہے سکاٹلنڈ تو شاید ہی کہیں ملے۔ --طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:57, 18 نومبر 2014 (م ع و)
متفق! میرے خیال میں شہر اور دیگر مقامات و ادارے جو اپنے نام کی خاص املا پر اصرار نہیں کرتے، ان کا نام اپنی زبان کے مطابق لکھا جاسکتا ہے، جیساکہ جب مقام کی بات ہو تو آکسفورڈ یا آکسفرڈ، لیکن جب کسی خاص ادارے یا شخصیت کا معاملہ ہو جیساکہ جامعہ اوکسفرڈ یا اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس ایک ادارے کا نام ہے تو وہ ادارہ اپنے نام کی جس املا پر اصرار کرتا ہو، اسے اسی طرح لکھنا مناسب رہے گا۔ باقی جو احباب کی مرضی! --عمار ابنِ ضیا (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:18, 18 نومبر 2014 (م ع و)
اسی طرح مقطعیہ (syllable) کا معاملہ بھی ہوتا ہے اکثر غیر اردو زبانوں کے یک مقطعیہ ناموں کو دو مقطعیہ میں لکھا جاتا ہے۔ --طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:29, 18 نومبر 2014 (م ع و)
عمار بھائی آپ ضرور اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس یا متعلقہ مضامین بنائیے۔ دواصل آکسفورڈ اور اوکسفرڈ دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ بی بی سی پر دیکھیے "اوکسفرڈ" کی تلاش کے لیے 139 نتائج اور "آکسفورڈ" کی تلاش کے لیے 191 نتائج۔ ایک اور بات کہ برطانوی انگریزی تلفظ اور امریکی انگریزی تلفظ میں بھی فرق ہے۔ عام طور پر آکسفورڈ زیادہ ملے گا، لیکن جیسے آپ کہ رہے ہیں کہ اگر کسی ادارے نے اپنا نام اردو میں واضح طور پر بیان کیا ہے تو وہی استعمال ہونا چاہے۔ --طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:01, 18 نومبر 2014 (م ع و)
جی، بالکل! میں اس ضمن میں آپ کے موقف سے اتفاق کرتا ہوں۔ مناسب یہی رہے گا کہ شہروں اور مقامات میں رائج املا ہی لکھا ہو لیکن جہاں جامعہ کا ذکر ہے، وہاں جامعہ اوکسفرڈ کر دیں اور جامعہ آکسفورڈ کا منتقلی صفحہ بنادیں۔ --عمار ابنِ ضیا (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:06, 18 نومبر 2014 (م ع و)