ترائن کی جنگیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شہاب الدین غوری افواج کا زبردست جنگجو اور سپہ سالار تھا۔ وہ اپنی ریاست کو محمود غزنوی کی ریاست سے بھی وسیع کرنا چاہتا تھا۔ اس نے 1175ء میں ہندوستان پر پہلی بار حملہ کرکے ملتان کو فتح کر لیا، اس کے بعد وہ اچ پہنچا جو اب بہاولپور ڈویژن میں ہے ہندوستان کے لیے ہونیوالی جنگ نہایت نزدیک تھی شہاب الدین کے پاس اجمیر و دہلی کے راجہ اور زبردست لڑاکا پرتھوی راج سے مقابلے کے لیے اچھی فوج موجود تھی۔

پہلی جنگ[ترمیم]

درمیان پہلے معرکے میں پرتھوی راج کا پلہ بھاری رہا شہاب الدین کو جنوب مشرقی پنجاب میں تھانیسار کے نزدیک ترائین کے مقام پر شکست ہوئی شہاب الدین نہایت شدید زخمی ہوا اور غوری افواج میدان چھوڑکر بھاگ گئیں،جس پر شہاب الدین کو شدید شرمندگی ہوئی اور اس نے اپنے ان تمام فوجیوں کو سزا دی جنہوں نے دشمن کو پیٹھ دکھائی تھی۔

دوسری جنگ[ترمیم]

1192ء میں شہاب الدین غور مکمل تیاری اور پہلے سے مضبوط فوج کے ساتھ واپس آیا پرتھوی راج بھی اپنے اتحادیوں کے ہمراہ آگے بڑھا۔ محمد قاسم فرشتہ کے مطابق پرتھوی راج چوہان کی تین لاکھ گھڑ سوار فوج 3000 ہاتھیوں کے ساتھ غور کے حکمران شہاب الدین محمد کے سامنے کھڑی تھی۔ غوری کی فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار افغان، تاجک اور ترک فوجی شامل تھے جو ملتان اور لاہور سے گزرتے ہوئے ترائن پہنچے تھے۔صبح غوری نے حملے کا آغاز کیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک ہولناک جنگ چھڑی۔ ایک پہر دن چڑھنے پر غوری نے پسپائی اختیار کرنے کی چال چلی۔ چوہان فوج نے پرتھوی راج کے حکم پر پسپا ہوتی غوری فوج کا تعاقب شروع کیا اور دوپہر ہونے تک چوہان فوج غوری کے دس ہزار تیر اندازوں اور ریزرو فوج کے نرغے میں آچکی تھی۔ اسی پسپائی کی چال کے دوران افغان فوج بھی واپس پلٹی اور چوہان فوج پر پل پڑی۔ تیسرے پہر تک ایک لاکھ چوہان قتل ہو چکے تھے اور پرتھوی راج چوہان کو سرسہ کی جانب فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا جا چکا تھا جسے بعد ازاں اجمیر لے جا کر قتل کر دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]