تسائی لون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تسائی لون
An 18th-century Qing dynasty print depicting Cai Lun as the patron of paper making
An 18th-century Qing dynasty print depicting Cai Lun as the patron of paper making

معلومات شخصیت
مقام پیدائش لییانج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 121[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
چین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت ہان خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ موجد،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

تسائی لون 105عیسوی میں جس نے لکڑی کی چھال، باریک جال اوربانس کو باریک کوٹ کرکاغذ ایجادکیا،یہ ایک چینی تھا جس کے بارے سارے اہل چین متفق ہیں کہ کاغذ اس نے ایجاد کیا، کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مخنث (خواجہ سرا)تھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

تحقیق سے ثابت ہے کہ تسائی لون ایک چینی مخنث تھا جو شاہی دربار سے بھی منسلک تھا۔ اس نے 105 عیسوی میں چینی بادشاہ "ہوتی" کو اپنے بناۓ ہوۓ کاغذ کے نمونے پیش کیے۔ ہان خاندان" کی سرکاری دستاویزات میں کاغذ ایجادکرنے کی ساری کہانی لکھی ہوئی ملی ہے۔ بادشاہ اس کی ایجاد سے بہت خوش ہوا اور اس کو اشرافیہ کا خطاب ملا ،عہدہ عطا کیا گیا اورانعام سے بھی نوازا گیا۔بعد ازاں وہ شاہی محل کی اندونی سازشوں میں شریک ہو گیا جس نے آخر اسے معتوب ٹھہرایا۔ چینی دستاویزات میں لکھا ہے کہ اپنے جرم کی سزا کے طور پر اس نے غسل کیا، عمدہ لباس زیب تن کیا اور زہر پی لیا۔ کاغذ کا یہ آسان کلیہ جس سے تسائی لون نے کاغذ بنایا، اس کو خفیہ رکھا گیا دوسری اقوام تک اس راز کو نہ پہنچنے دیا گيا۔ اس بات کا اندازا اس سے ہو جاتا ہے کہ ایسا کاغذ یورپ میں تسائی لون کے ہزار سال بعد استعمال ہونا شروع ہوا۔جو عربوں کے ذریعے وہاں پہنچا۔ [2] کاغذ قبل مسیح میں مصر میں استعمال ہو رہا تھا، مگر وہ ایک مشکل، مہنگا اور جلد خراب ہو جانے والا مواد ثابت ہوتا تھا۔ اس نے پہلی دفعہ کاغذ سازی کے طریقے کو بہتر کیا اور اس کی ساخت میں نئے مواد کو شامل کیا، جس سے چین میں علمی سرگرمیوں میں کافی تیزی آئی۔ [3]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/139284036 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. Needham 1985، صفحات۔ 38–40
  3. Needham 1985، صفحہ۔ 41

بیرونی روابط[ترمیم]