تسلیم فاضلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تسلیم فاضلی
پیدائش اظہار انور
1947ء
دہلی، برطانوی ہندوستان
وفات 17 اگست 1982(1982-08-17)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام تسلیم فاضلی
پیشہ شاعر
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف فلمی نغمہ نگاری
اہم اعزازات نگار ایوارڈ (1976ء 1977ء 1980ء)

تسلیم فاضلی (پیدائش: 1947ء - وفات: 17 اگست، 1982ء) پاکستان کے ممتاز فلمی نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے پاکستانی فلم آئینہ، شبانہ اور بندش پر بہترین نغمہ نگار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

تسلیم فاضلی 1947ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3][4]۔ ان کا اصل نام اظہار انور تھا۔ تسلیم فاضلی کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد دعا ڈبائیوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں فلم عاشق کے نغمات لکھ کر اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے لاتعداد فلموں کے لیے نغمات لکھے جن میں فلم ایک رات، ہل اسٹیشن، اک نگینہ، اک سپیرا، افشاں، تم ملے پیار ملا، جلے نہ کیوں پروانہ، انصاف اور قانون، من کی جیت، شمع، شبانہ، میرا نام ہے محبت، دامن اور چنگاری، آئینہ، بندش، طلاق اور میرے حضور کے نام سرفہرست ہیں۔ تسلیم فاضلی نے اپنے دور عروج میں معروف اداکارہ نشو سے شادی کی تھی۔ ہندوستان کے مشہور نغمہ نگار ندا فاضلی ان کے حقیقی بھائی ہیں۔[3]

مشہور نغمات[ترمیم]

  • یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم (میرا نام ہے محبت)
  • تجھے پیار کرتے کرتے میری عمر بیت جائے (میرا نام ہے محبت)
  • مجھے دل سے نہ بھلانا (آئینہ)
  • خدا کرے محبت میں وہ مقام آئے (افشاں)
  • رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے (زینت)
  • سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جانِ من تجھ کو میں دے سکون گا (بندش)

اعزازت[ترمیم]

تسلیم فاضلی کو فلم شبانہ (1976ء)، آئینہ (1977ء) اور بندش (1980ء) کے نغمات پر انہیں نگار ایوارڈز بھی عطا کیے گئے۔[3]

وفات[ترمیم]

تسلیم فاضلی 17 جون، 1982ء کو کراچی، پاکستان میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔[2][3][4][1]

حوالہ جات[ترمیم]