تمل ناڈو توحید جماعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تمل ناڈو توحید جماعت
قیام 2004 (سرکاری طور پر اندراج کا سال، اگر چیکہ تنظیم کا دعوٰی ہے کہ وہ تیس سال سے بر سر خدمت ہے)
بانی پی زین العابدین (جنہیں بعد میں تنظیم ان کی ناہموار کار روائیوں کی وجہ سے ہٹا دیا گیا)
قسم مذہبی اور ثقافتی اسلامی تنظیم
مقصد اسلامی معلومات کا فروغ
صدر مقام چینائی
Region
تمل ناڈو اور سری لنکا
ارکان
800,000
دفتری زبان
تمل اور انگریزی

تمل ناڈو توحید جماعت تمل ناڈو، بھارت کے مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے۔ اس جماعت کی تاسیس 30 سال پہلے رکھی گئی اگرچیکہ اس کا اندراج 2004ء میں ہوا۔ جماعت کے ذرائع کے مطابق اس کے ارکان کی تعداد 800,000 ہے۔ جماعت کی مختلف سرگرمیوں میں یتیم خانوں اور دارالمعمرین کا انتظام، طلبہ کی تعلیمی رہنمائی، اسلام کی تعلیمات کا فروغ اور 800 عبادت گاہوں کی دیکھ ریکھ ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم ریاست گیر سطح پر مخالف دہشت گردی کی کلاسیں بھی چلا چکی ہے۔ اس صدر دفتر چینائی میں ہے جب کہ ایک شاخ سری لنکا میں بھی بر سر خدمت ہے۔[1] [2]

2019ء میں سری لنکا میں دہشت گرد حملہ[ترمیم]

اپریل 2019ء میں سری لنکا میں دہشت گرد حملہ ہوا جس میں کچھ گرجا گھروں اور عالیشان ہوٹلوں میں خود کش دھماکے کیے گئے۔ اس سلسلے میں دو تنظیموں کے نام سامنے آئے، ایک نیشنل توحید جماعت اور دوسرے داعش۔ چونکہ نیشنل توحید جماعت کا نام تمل ناڈو توحید جماعت سے مشابہ ہے، اس لیے شک کی سوئی اس پر گھومنے لگی۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ اس کا سری لنکائی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ سری لنکا میں اس شاخ کا نام سری لنکا توحید جماعت ہے اور اس تنظیم نے اس المیے کے وقت وہاں کی حکومت کے شانہ بہ شانہ کام کیا جس میں رضا کاروں کی جانب سے متاثرین کے لیے خون کی 100 بوتلوں کا اکٹھا کیا جانا شامل ہے۔[1] [2]

واضح رہے کہ سری لنکائی دھماکوں کی ذمے داری اطلاعات کے مطابق بعد میں داعش نے اپنے سر لی اور اسے نیو زی لینڈ کے مسلمانوں پر کچھ وقت پہلے انجام پانے والے حملے کا انتقام قرار دیا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]