تنویر سپرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تنویر سپرا
لقب ادیب اور شاعر
ذاتی
پیدائش 1929ء
وفات 13,دسمبر 1993ء
مذہب اسلام
مرتبہ
دور جدید دور

تنویر سپرا جہلم کے نامور شاعر ہیں۔

نام[ترمیم]

قلمی نام تنویر سپرا جبکہ اصل نام محمد حیات تھا والد کا نام غلام محمد سپرا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

تنویر سپرا 1929ء جہلم (پنجاب) - پاکستان

حالات زندگی[ترمیم]

تنویر سپرا جہلم کے ایک مزدرو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا، کچھ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی، لاہور میں کچھ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ واضح رہے کہ محنت مشقت کے ساتھ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔

شاعری[ترمیم]

شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے۔ ان کا مجموعہ کلام " لفظ کھردرے " 1980 میں منظر عام پر آیا۔ 1988 میں انھیں وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

وفات[ترمیم]

دسمبر13 1993ء اسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔[1]

تالیف[ترمیم]

لفظ کھردرے۔ گندھارا بکس، راولپنڈی، 1993.،(اُردو و پنجابی کلام)[2]

نمونہ کلام[ترمیم]

  • شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
  • روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے
  • اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
  • الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے
  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
  • جونہی مرا مکان گرا، اَبر چَھٹ گئے
  • دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
  • جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے
  • سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
  • میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

حوالہ جات[ترمیم]