تہذیب نسواں (اخبار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تہذیب نسواں
مدیرہ محمدی بیگم
قسم زنامہ اخبار
دورانیہ ہفت روزہ
بانی مولوی سید ممتاز علی
سنہ تاسیس 1898ء
پہلا شمارہ جولائی 1، 1898؛ 120 سال قبل (1898-07-01)
آخری شمارہ 1949ء
ملک Flag of برطانوی ہند برطانوی ہندوستانی
بمقام لاہور
زبان اردو

ہفت روزہ تہذیب نسواں ہفت روزہ اخبار تھا جسے شمس العلماء مولوی سید ممتاز علی نے 1898ء کو لاہور سے جاری کیا تھا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یہ اخبار خواتین کے لیے جاری گیا تھا۔ اس اخبار کی اولین مدیرہ ان کی اہلیہ محمدی بیگم تھیں۔

تہذیب نسواں کا پہلا شمارہ یکم جولائی 1898ء کو منظر عام پر آیا۔[1] یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا۔ اس اخبار کا نام تہذیب الاخلاق سے مشابہ سر سید احمد خان نے تجویز کیا تھا۔ اس اخبار کی ادارت مولوی سید ممتاز علی کی اہلیہ محمدی بیگم کے سپرد تھی۔1908ء میں ان کی اہلیہ کے انتقال کے بعد مولوی ممتاز کی صاحبزادی وحیدہ بیگم نے اس اخبار کی ادارت سنبھالی۔ وحیدہ بیگم 1917ء میں اللہ کو پیاری ہوگئیں تو کچھ عرصے کے لیے مولوی ممتاز کی بڑی بہو آصف جہاں اس کی مدیرہ رہیں۔ اس کے بعد مولوی ممتاز کے صاحبزادے اور اردو کے نامور ادیب امتیاز علی تاج نے اس کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔ انہیں دیگر علم دوست خواتین کے ساتھ اپنی اہلیہ ممتاز مصنفہ حجاب امتیاز علی کا تعاون بھی حاصل رہا۔ امتیاز علی تاج اس اخبار کے آخری مدیر تھے۔ اس اخبار کے صفحات شروع میں آٹھ اور پھر بارہ ہوئے، اس کے بعد سولہ اور آخر میں چوبیس ہو گئے۔[2]

تہذیب نسواں کے اپنے اجرا کے بعد بہت جلد ہندوستان کے متوسط طبقے کے اردو داں مسلم گھرانوں میں پہنچنے لگا اور اس کی وجہ سے معمولی تعلیم یافتہ پردہ نشین خواتین میں تصنیف و تالیف کا شوق پیدا ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر مسکین علی حجازی، پنجاب میں اردو صحافت، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور، مئی 1995ء، ص 176
  2. ممتاز گوہر، منتخباتِ تہذیب نسواں، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور، ستمبر 1988ء، ص 7