جامعہ ملیہ احتجاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jamia protest
Part of شہریت (ترمیم) بل کے خلاف مظاہرے
JMI students and locals protesting against CAA NRC.jpg
تاریخ
11 دسمبر 2019 -
(2 سال، 348 دن)
مقام
باب ابو الکلام آزاد، جامعہ ملیہ اسلامیہ
طریقہ کاراحتجاج، دھرنا، احتجاجی مارچ، سول نافرمانی، فن (Graffiti، شاعری
صورتحالموقوف

جامعہ احتجاج شہریت ترمیمی بل 2019ء کے رد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کا ردِ عمل ہےـ یہ احتجاج 11 دسمبر 2019ء سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باب مولانا ابو الکلام آزاد معروف گیٹ نمبر 7 پر عرصے تک جاری رہا۔ـ [1] کورونا وبا کی وجہ سے جامعہ کوآرڈینیشین کمیٹی نے احتجاج کو موقوف کیا ہے۔

واقعات[ترمیم]

  1. ) 13 دسمبر 2019 جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کا مارچ پارلیمنٹ کے لئے نکلا مگر دہلی پولیس نے بیریکیڈ لگا دیے اور ہولی فیملی ہسپتال سے آگے نہیں بڑھنے دیا، اسی دن پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج بھی ہوا اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے جس میں بہت سے طلباء زخمی ہوئے اور پچاس سے زیادہ طلباء کو گرفتار بھی کیا گیاـ
  2. ) اسی طرح 15 دسمبر کو ایک مارچ نکالا گیا جس میں پولیس نے وحشیت اور بربریت کے سارے حدود پار کر دیے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر اقدامی حملہ کردیا جس میں سینکڑوں طلباء زخمی ہوگئےـ کسی کے ہاتھ ٹوٹے، کسی کے پاؤں تو کسی کے سر پھوٹے اور ایک طالب علم کی آنکھ چلی گئی. سانحہ میں پولیس نے جامعہ کی سینٹرل لائبریری اور ریڈنگ ہال اور مسجد وغیرہ میں بھی بہت زیادہ توڑ پھاڑ کی. شاہین باغ احتجاج اسی بربریت کے رد میں شروع ہواـ[2]
  3. ) ایک اہم مارچ 30 جنوری 2020 کو گاندھی کے یوم وفات کے وقع پر راج گھاٹ کے لیے نکالا گیا، اس مارچ کو بھی ہولی فیملی ہسپتال سے آگے نہیں بڑھنے دیا گیا اور اس مارچ میں ایک آر ایس ایس کے گوپال شرما نامی لڑکے نے فائرنگ بھی کی جس میں شاداب نامی جامعہ کا ایک طالب علم زخمی ہوا اور رات تک یہ مارچ چلا پولیس والے لاٹھی چارج کیے اور بہتوں کو گرفتار بھی کیاـ [3]
  4. ) ایک اہم مارچ 10 فروری 2020 کو پارلیمنٹ کے لیے نکالا گیا؛ مگر آج بھی ہولی فیملی ہسپتال سے آگے نہیں جانے دیا گیا، طلباء اور پولیس میں جھڑپ بھی ہو گئی، پولس نے اوپر سے لاٹھی چلانے کے بجائے نیچے سے لاٹھی چارج کیا اور طلباء پر حملہ کیا، لات اور گھونسے سے بھی طلباء کی پٹائی کی جس میں متعدد طلباء زخمی ہوگئے، پولیس نے طلباء کے پرائیویٹ پارٹس تک پر اٹیک کیا ہے،اس انداز سے پولیس نے اٹیک کیا ہے کہ سب کو اندرونی چوٹ لگی ہے اور متعدد طلبہ ایمرجنسی وارڈ میں ہیں پولیس نے طلباء کو منتشر کرنے کے لیے کیمکل کا بھی استعمال کیا ہے جس بہت سے طلباء کے ہاتھوں میں زخم آگیا-[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "سی اے اے احتجاج: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی کم نہیں ہورہی ہے ناراضگی، احتجاج کا سلسلہ جاری". اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2020. 
  2. "Their Library Vandalised, Jamia Students 'Read for Revolution'". اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2020. 
  3. "Jamia assailant identified as Ram Bhagat Gopal Sharma, was on FB live before firing". اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2020. 
  4. "Cops hit us in our private parts: Over 10 Jamia students admitted after scuffle with police". اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2020.