جسمانی استحصال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Bullying on Instituto Regional Federico Errázuriz (IRFE) in March 5, 2007.jpg
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
آئی سی ڈی-10 T74.1
آئی سی ڈی-9 995.81

جسمانی استحصال کسی بھی طرح کا ارادی فعل ہے جو زخم یا ایذا کسی دوسرے شخص یا جانور کو پہنچائے، جو جسمانی ربط کے ذریعے انجام پائے۔ کئی معاملوں میں بچے جسمانی استحصال کے شکار ہوتے ہیں، مگر بالغ لوگ بھی مظلوم ہو سکتے ہیں، جیسے کہ گھریلو تشدد یا کام کی جگہ کی جارحیت۔ اس کے لیے مستعمل متبادل اصطلاحات میں جسمانی حملہ یا جسمانی تشدد ہیں اور اس میں کبھی جنسی استحصال بھی شامل ہو سکتا ہے۔ جسمانی استحصال میں کئی بار ایک سے زائد استحصال کنندے ہو سکتے ہیں اور اسی طرح ایک سے بڑھ کر مظلوم ہو بھی ہو سکتا ہے۔

شکلیں[ترمیم]

جسمانی استحصال سے مراد ایسا کوئی بھی غیر اتفاقی عمل یا رویہ جو زخم یا ایذا کسی دوسری جسمانی تکلیف یا جسمانی نقصان پہنچائے۔ بچوں پر کئی بار استحصالی عمل اس وقت سرزد ہو سکتا ہے جب ماں باپ بچوں کی تادیب کے لیے حد سے زیادہ جسمانی سزا کا استعمال کرتے ہیں۔[1][2]

وجوہ[ترمیم]

جسمانی استحصال کے لیے، جو بہ طور خاص بچوں پر مرکوز ہو سکتا ہے، کئی وجوہ شامل ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ میاش اور وولف کے مطابق یہ ہیں:

  • کئی استحصالی اور نظر اندازی والدین مثبت پرورش کے نمونوں سے کم ہی واقف رہے ہیں اور ان کے ماحول میں خاندان کے ماحول پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
  • معلومات کا تجزیہ کرنے کی غلطیوں میں یہ ممکن ہے کہ والدین بچوں کے رویوں کو غلط سمجھیں یا اسی بعید از حقیقت کچھ اور سمجھیں، جس سے نامناسب رد عمل پر وہ پہنچ سکتے ہیں۔
  • اکثر اس بات پر سے کم ہی واقفیت یا سمجھ ہوتی ہے کہ ترقیاتی طور پر مناسب توقعات کیا ہیں۔[3]

اثرات[ترمیم]

جسمانی طور استحصال کردہ بچے آگے چل کر بین شخصی مسائل کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں جس میں جارحانہ رویہ ظاہر ہو سکتا ہے اور بالغوں میں منشیات کے استحصال کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تناؤ کی علامات، جذباتی تناؤ اور خود کشانہ رجحان بھی عام طور سے ان لوگوں کی خصوصیات ہیں جو جسمانی طور استحصال کا شکار ہوئے ہیں۔ مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایسے بچے جن کے پاس جسمانی استحصال کی تاریخ کی تاریخ ہو، وہ ڈی ایس ایم آئی وی ٹی آر کی اہلیت پر کھرے اترتے ہیں اور انہیں مابعد ایذا تناؤ بدنظمی کے زمرے میں آتے ہیں۔[3] زائد از ایک تہائی بچے جو جسمانی استحصال سے گزر چکے ہیں، وہ اس بات کا خطرہ رکھتے ہیں کہ وہ بھی بہ طور بالغ استحصال کریں۔[4]

محققین نے یہ اشارہ کیا ہے کہ بچوں کے جسمانی استحصال کے نفسیاتی حیاتیاتی اثرات ہیں جو پرورش کے دوران ظاہر ہوتے ہیں جب استحصالی بچے سن بلوغ کو پہنچتے ہیں۔ یہ دریافت، کم از کم جزوی طور پر یک گونہ جرثومیاتی تبدیلیاں لا سکتی ہے جو تناؤ سے جوجنے میں جسم کی اثر انگیزی کی دیکھ ریکھ میں دخل رکھتی ہیں۔[5][6] کئی اور بااثر اہم نتائج بچپن کے جسمانی استحصال کی وجہ سے نوجوانی اور بالغوں کی جسمانی اور دماغی صحت اور ترقی پر ہو سکتے ہیں اور یہ نامساعد بچپن کے تجربوں کے مطالعات (Adverse Childhood Experiences studies - ACE ) میں رقم کیے گئے ہیں۔[7]

علاج[ترمیم]

جسمانی استحصال سے جوجنے والے زیادہ تر لوگوں کے لیے علاج کا پانا ناممکن ہے اور جو لوگ علاج پاتے بھی ہیں وہ بھی کسی قانونی مجبوری کے تحت حاصل کرتے ہیں۔ جسمانی استحصال کے شکار بچوں کے لیے روک تھام اور علاج میں حسب ذیل شامل ہیں: ماں باپ اور بچوں کے تعلقات کے تجربے میں مثبت پیش رفت کو بڑھانا، اس کے علاوہ ماں باپ کی تعلیم کا طریقہ بدلنا، تادیب اور بچوں کے ساتھ شریک ہونا۔

شواہد پر مبنی طریقوں میں شعوری رویے کا علاج، ویڈیو کے ذیعے فیڈبیک کا طریقہ اور بچوں اور والدین کا نفسیاتی حرکیاتی علاج شامل ہے؛ ان سب میں خاص طور پر غصے کی قسموں اور نامناسب سوچ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ تربیت اور/یا عکاسی، حمایت، نمونہ سازی جو پروش کی صلاحیتوں اور توقعات اور مزید یہ کہ بچوں کے لیے ہم دردانہ سوچ کا فروغ بچوں کے نقطہ نظر سے کرتے ہیں۔[8][9][10]

اس قسم کے علاجوں میں سماجی صلاحیت اور روزآنہ کے مطالبات کے نظم کی تربیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد ماں باپ کا تناؤ گھٹانا، جسے جسمانی استحصال کے عوامل میں سے ایک سمجھا گیا ہے۔ حالاں کہ یہ علاج اور روک تھام کی حکمت ہائے عملی استحصال سے متاثرہ بچوں اور ماں باپ کے لیے ہیں، ان میں سے کچھ طریقے ان بالغوں پر بھی اپنائے جا سکتے ہیں جو کبھی جسمانی استحصال کے شکار ہوئے تھے۔[3]

دیگر جان داروں میں[ترمیم]

جسمانی استحصال کی اطلاع اڈیلی پینگوئن میں بھی ہے جو انٹارکٹکا میں پائے جاتے ہیں۔[11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Child physical abuse". American Humane Association.
  2. Giardino, A.P.; Giardino, E.R. (12 December 2008). "Child Abuse & Neglect: Physical Abuse". WebMD.
  3. ^ ا ب پ Eric Mash۔ Abnormal Child Psychology۔ Belmont,California: Wadsworth Cengage Learning۔ صفحات 427–463۔ آئی ایس بی این 9780495506270۔
  4. Oliver JE (1993). Intergenerational transmission of child abuse: rates, research, and clinical implications. Am J Psychiatry, 150(99): 1314-24.
  5. Schechter DS, Moser DA, Paoloni-Giacobino A, Stenz A, Gex-Fabry M, Aue T, Adouan W, Cordero MI, Suardi F, Manini A, Sancho Rossignol A, Merminod G, Ansermet F, Dayer AG, Rusconi Serpa S (epub May 29, 2015). Methylation of NR3C1 is related to maternal PTSD, parenting stress and maternal medial prefrontal cortical activity in response to child separation among mothers with histories of violence exposure. Frontiers in Psychology. To view the online publication, please click here: http://www.frontiersin.org/Journal/Abstract.aspx?s=944&name=psychology_for_clinical_settings&ART_DOI=10.3389/fpsyg.2015.00690&field=&journalName=Frontiers_in_Psychology&id=139466
  6. Weder N, Zhang H, Jensen K, Yang BZ, Simen A, Jackowski A, Lipschitz D, Douglas-Palumberi H, Ge M, Perepletchikova F, O'Loughlin K, Hudziak JJ, Gelernter J, Kaufman J (2014). Child abuse, depression, and methylation in genes involved with stress, neural plasticity, and brain circuitry. J Am Acad Child Adolesc Psychiatry,53(4):417-24.e5. doi: 10.1016/j.jaac.2013.12.025.
  7. Hillis SD, Anda RF, Dube SR, Felitti VJ, Marchbanks PA, Marks JS (2004). The association between adverse childhood experiences and adolescent pregnancy, long-term psychosocial consequences, and fetal death. Pediatrics. 2004 Feb;113(2):320-7.
  8. Kolko, D. J. (1996). Individual cognitive-behavioral treatment and family therapy for physically abused children and their offending parents: A comparison of clinical outcomes. Child Maltreatment, 1, 322-342.
  9. Schechter DS, Myers MM, Brunelli SA, Coates SW, Zeanah CH, Davies M, Grienenberger JF, Marshall RD, McCaw JE, Trabka KA, Liebowitz MR (2006). Traumatized mothers can change their minds about their toddlers: Understanding how a novel use of videofeedback supports positive change of maternal attributions. Infant Mental Health Journal, 27(5), 429-448.
  10. Lieberman، A.F. (2007). "Ghosts and angels: Intergenerational patterns in the transmission and treatment of the traumatic sequelae of domestic violence". Infant Mental Health Journal 28 (4): 422–439. doi:10.1002/imhj.20145. PMID 28640404. 
  11. Robin McKie۔ "'Sexual depravity' of penguins that Antarctic scientist dared not reveal"۔ Guardian.co.uk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]