جوہر دودائیف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جوہر دودائیف
(شیشانیہ میں: ДудагӀеран Мусан ЖовхӀар)،(شیشانیہ میں: Дудин Муса-кӀант Джохар)،(شیشانیہ میں: Dudin Musa-voj Dƶoxar ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1944ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 اپریل 1996ء (52 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن شیشان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سوویت اتحاد
چیچن جمہوریہ اشکیریہ[3]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت اشتمالی جماعت سوویت اتحاد (1968–1991)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد
عملی زندگی
پیشہ پائلٹ،  سیاست دان،  فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان روسی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری سوویت اتحاد،  چیچن جمہوریہ اشکیریہ[5]  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ فضائیہ،  سویت فضائیہ  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ میجر جنرل (1989–)
صدر اعظم (عہدہ) (1996–)  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں افغانستان میں سوویت جنگ،  پہلی چیچن جنگ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
 آرڈر آف ریڈ اسٹار  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 

جوہر موسائیوچ دودائیف (چیچن :دوون موسی کانت جوہر ؛ اردو : جوہر ولد موسی دودن) (فروری 1941ء - 21 اپریل 1996ء) ایک سویت ایئر فورس جنرل اور چیچن رہنما تھے۔ وہ شمالی قفقاز میں روس کے علیحدگی اختیار کرنے والی ریاست چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے پہلے صدر تھے۔

ابتدائی زندگی اور فوجی کیریئر[ترمیم]

\ جوہر دودائیف 1944ء میں، غیر قانونی قرار دی گئی "چیچن انگوش خودمختار سویت جمہوریہ " میں اپنے آبائی گاؤں "یالخوروئی" سے جبری ( جوزف ستالین کے حکم سے تمام چیچن، انگوش، بالکار، کلمیک، کریمیائی تاتار اور دوسری چھوٹی قومیتوں کے ساتھ) بے دخلی کے دوران میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے زندگی کے پہلے 13 سال قازاق سویت سوشلسٹ جمہوریہ میں اندرونی جلاوطنی میں گزارے۔

1957ء میں جبری بے دخلی کے بعد چیچن اور انگوشوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کے بعد انھوں نے چیچن انگوشتیا میں شام کے ایک اسکول میں داخلہ لیا اور الیکٹریشن ڈپلوما لیا۔ 1962ء میں، ولادی قفقاز میں دو سال الیکٹرونکس پڑھنے کے بعد، وہ تمبوف کے پائیلٹوں کے لیے ہائر ملٹری ایوی ایشناسکول میں داخل ہوئے، جہاں سے 1966ء میں گریجوئیشن کی۔ دودائیف نے 1968ء میں سویت یونین (سویت اتحاد) کی کیمونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1971ء تا 1974ء اعلیٰ معیار کی گیگارین ایئر فورس اکیڈیمی میں تعلیم حاصل کی۔

انھوں نے، ایک روسی شاعرہ "آلا" سے شادی کی، جس سے ان کے تین بچے ہیں۔

دودائیف نے سائیبیریا اور یوکرین میں سویت فضائیہ کی ہیوی بمبار یونٹ میں خدمات سر انجام دیں اور افغانستان میں سویت جنگ میں بھی حصہ لیا۔ وہ سویت فضائیہ میں اس وقت نمایاں ہوئے، جب 1987ء میں انھوں نے میجر جنرل کے رینک کے ساتھ، تارتو اسٹونیا میں سویت سٹریٹیجک ایئر فورس کے ایئر بیس کی کمانڈ سنبھالی۔ دودائیف نے اسٹونی زبان سیکھی اور اسٹونوی قوم پرستی کے لیے نرم گوشہ رکھا، جب انھوں نے اسٹونوی پارلیمنٹ اور ٹیلی ویژن کو بند کرنے کے احکامات پر عمل درآمد کروانے کی بجائے، ایک فوجی گشتی باورچی خانہ وہاں بھیجا۔ 1990ء میں اس کے ایئر ڈویژن کا اسٹونیا سے انخلا عمل میں آیا اور دودائیف نے سویت فوج سے استیفی دے دیا۔

چیچن سیاست[ترمیم]

مئی 1990ء میں دودائیف، چیچنیا کے دار الحکومت گروزنی لوٹ آیا اور خود کو مقامی سیاست کے لیے وقف کر دیا۔ وہ غیر سرکاری حزب اختلاف "چیچن لوگوں کی کل قومی کانگرس"(آل نیشنل کانگرس آف دی چیچن پیپل) کے سربراہ منتخب ہوئے، جو چیچنیا کی سویت یونین کی علاحدہ جمہوریہ کے طور پر حاکمیت اعلیٰ کی وکالت کرتی تھی (جب کے اس وقت چیچن انگوش خودمختار جمہوریہ کی حثیت "روسی وفاقی سویت سوشلسٹ جمہوریہ کی ایک خود مختار جمہوریہ کی تھی)۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14644136t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000021275 — بنام: Dschochar Dudajew — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. یوٹیوب ویڈیو آئی ڈی: https://www.youtube.com/watch?v=5O7ZX092Lms
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14644136t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. یوٹیوب ویڈیو آئی ڈی: https://www.youtube.com/watch?v=KInS8mu9xkM