چیچن جمہوریہ اشکیریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چیچن جمہوریہ اشکیریہ
Chechen Republic of Ichkeria
Noxc̈iyn Pac̈ẋalq Noxc̈iyc̈ó/Ic̈keria
Нохчийн Пачхьалкх Нохчийчоь
Чеченская Республика Ичкерия
جلاوطن حکومت 2000 سے

1991–1999
 

پرچم قومی نشان
ترانہ
Joƶalla ya mars̈o
موت یا آزادی
قفقاز علاقے میں چیچن جمہوریہ کا مقام
دارالحکومت گروزنی(آئينی)
لندن (درحقیقت)
زبانیں چیچن · روسی[1]
مذہب سیکولرازم[2]
اسلام (اسلامی جمہوریہ کے دوران)
حکومت جمہوریہ (1991–1998)
اسلامی جمہوریہ (1998–2007)
جمہوریہ (2007–تاحال)
صدر
 - 1991–1996 جوہر دودائیف  
 - 1996–1997 Zelimkhan Yandarbiyev  
 - 1997–2005 Aslan Maskhadov  
 - 2005–2006 شیخ عبد حلیم  
 - 2006–2007 دوکا عمروف
تاریخ
 - سوویت یونین کی تحلیل
7 فروری 1990
 - چیچن-انگش خودمختار سوویت اشتراکی جمہوریہ کی تحلیل
1 نومبر 1991
 - پہلی چیچن جنگ 11 دسمبر 1994 – 31 اگست 1996
 - دوسری چیچن جنگ
26 اگست 1999
رقبہ
 - 2002 15,300 مربع کلومیٹر (5,907 مربع میل)
آبادی
 - 2002 تخمینہ 1,103,686 
     کثافت 72.1 /مربع کلومیٹر  (186.8 /مربع میل)
سکہ روسی روبل
چیچن ناہر (میں منصوبہ بندی 1994)
Warning: Value specified for "continent" does not comply

چیچن جمہوریہ اشکیریہ (چیچن زباں میں :نوخچیین ریسپوبلیکا نوخچییچو ؛ روسی زبان میں : چیچنسکایا ریسپوبلیکا اچکیریا) ، چیچنیا کی غیر تسلیم شدہ علیحدگی پسند حکومت تھی ۔ چیچنیا شمالی کوہ قفقاز ( کوہ قاف) میں واقع وفاق روس کی ایک مسلمان ریاست ہے ۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں روسی کرائی ( علاقے ) ستاوروپول کرائی ، شمال مشرق میں داغستان ، جنوب میں جارجیا ( گرجستان)اور مغرب میں انگوشتیا اور شمالی اوسیتیا سے ملتیں ہیں ۔ چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے قیام کا اعلان جوہر دودائیف نے 1991ء میں کیا ، جس کے بعد چیچن علیحدگی پسندوں اور روسی فیڈریشن ، جو علیحدگی کی مخالف تھی ، کے درمیان دو خونریز جنگیں لڑی گئیں ۔ 2007ء میں اشکیریہ کے جلاوطن صدر دوکا عمروف نے جمہوریہ کا نام نوخچییچو رکھنے اور اسے نئی مجوزہ امارت قفقاز ( جو کہ شمالی کوہ قفقاز یعنی کوہ قاف کے تمام مسلمان علاقوں پر مشتمل ہوگئی ) کے ایک صوبے میں بدلنے کا اعلان کیا اور خود اس مجوزہ امارت کے امیر ہونے کا اعلان کیا ۔ چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے جلاوطن حکومت کے کئی ارکان اور دوسرے علیحدگی پسند گروپوں نے ، جو جمہوریہ کا وجود چاہتے تھے ، جمہوریہ کی حثیت میں تبدیلی کو مسترد کر دیا ۔

اشکیریہ غیر نمائندہ قوموں اور لوگوں کی تنظیم کا رکن ہے ۔ جارجیا میں زویاد گامساخوردیا کی حکومت نے 1992ء میں چیچن جمہوریہ اشکیریہ کی آزادی کو تسلیم کیا اور یہ دنیا کا اشکیریہ کو تسلیم کرنے والا واجد ملک ہے ۔ لیکن اب یہ تسلیم موثر نہیں ہے ۔


تاریخ[ترمیم]

1994ء - 1991ء

نومبر 1990ء میں جوہر دودائیف ، چیچنیا کی غیر سرکاری حزب اختلاف " چیچن لوگوں کی کل قومی کانگرس" کی ایگزیکٹو کمیٹی کا سربراہ منتخب ہوا ، جو چیچنیا کی سویت اتحاد کے اندر ایک علیحدہ خود مختار جمہوریہ کے طور پر مطالبہ کرتی تھی ۔ 1991ء کا انتخاب جوہر دودائیف نے جیتا ، اور چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے صدر کے طور پر جوہر دودائیف نے یک طرفہ طور پر جمہوریہ کی آزادی اور سویت اتحاد اور وفاق روس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔ جارجیا کی زویاد گامساخوردیا حکومت کے سوا کسی بھی دوسرے ملک نے جمہوریہ کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا ، وفاق روس سے مسلسل حملے کے خطرے کے باعث اشکیریہ کا وجود غیر مستحکم رہا ۔

دودائیف کا 1990ء کی دہائی کے شروع کا دور حکومت بدامنی دا دور رہا ، جو پورے ، ایک قسم کے حقیت میں آزاد ، چیچنیا میں رہا ۔ دودائیف کے حلیفوں اور مخالفوں ( جو کہ زیادہ تر روسی تھے) جو کہ اقتدار کے لئے لڑ رہے تھے ، کے درمیان تنازعات پیدا ہوتے رہتے جو کبھی کبھی بھاری ہتھیاروں کی لڑائی میں بدل جاتے ۔ جن کے دوران چیچنیا کی نسلی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی اور ناروا سلوک بھی کیا جاتا ، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں جمہوریہ کے غیر چیچن رہائشی ( جن میں زیادہ تر سلاوی نسل کے لوگ تھے) روس یا روسی علاقے شمالی اوسیتیا فرار ہو گئے ۔

دودائیف حکومت نے چیچن جمہوریہ کا آئین تشکیل دیا ، جو مارچ 1992ء میں نافذ کیا گیا ۔ اسی ماہ روسی حزب اختلاف کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی ، جس کو طاقت کے ذریعے ختم کر دیا گیا ۔ اس کے ایک ماہ بعد جوہر دودائیف نے صدارتی نظام متعارف کروایا اور پارلیمان کو تحلیل کر دیا ۔ اوسیتی - انگوش تنازع کے لئے بھیجی گئی وفاقی فوجوں کو اکتوبر 1992ء میں چیچن سرحد پر جانے کا حکم دے دیا گیا ۔ دودائیف نے اس حکم کو چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے خلاف جارحیت کے مترادف قرار دیا ، اور ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ، اور دھمکی دی اگر روسی فوجی دستوں نے چیچنیا کی سرحد سے انخلا نا کیا تو وہ اپنی فوجوں کو مکمل حرکت کا حکم دے دیں گے ۔ چیچنیا کی حزب اختلاف نے 1993ء میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک اور کوشش کے بعد ، چیچنیا کی متبادل حکومت کے طور پر ایک پرویژنل کونسل کی تشکیل کی اور ماسکو سے مدد مانگی ۔

1996ء - 1994ء

1999ء -1996ء

1999ء کے بعد

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Constitution of Chechen Republic of Ichkeria
  2. ^ According to 1992 Constitution, the "religious associations are separated from the State, independently operate their business and act independently of its organs. The state supports the socially beneficial activities of religious associations." 1992 Constitution of the Chechen Republic of Ichkeria.