"محمد فضولی" کے نسخوں کے درمیان فرق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
1 مآخذ کو بحال کرکے 1 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.8
2 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.8.2
سطر 46: سطر 46:
<center><gallery perrow="6" widths=200 heights=200>
<center><gallery perrow="6" widths=200 heights=200>
Stamp of USSR 2266.jpg|<small>سوویت یونین کے ٹکٹ [[1958]]</small>
Stamp of USSR 2266.jpg|<small>سوویت یونین کے ٹکٹ [[1958]]</small>
Stamps of Azerbaijan, 1994-209.jpg|<small>آذربائیجان کی مہر [[1994]]</small><ref>[http://www.azermarka.az/en/1994.php?subaction=showfull&id=1131437008&archive=&start_from=&ucat=10& The 500 Anniversary of Muhammed Fizuli, the poet]</ref>
Stamps of Azerbaijan, 1994-209.jpg|<small>آذربائیجان کی مہر [[1994]]</small><ref>{{Cite web |url=http://www.azermarka.az/en/1994.php?subaction=showfull&id=1131437008&archive=&start_from=&ucat=10& |title=The 500 Anniversary of Muhammed Fizuli, the poet |access-date=2015-09-08 |archive-date=2012-07-30 |archive-url=https://archive.today/20120730124818/http://www.azermarka.az/en/1994.php?subaction=showfull&id=1131437008&archive=&start_from=&ucat=10& |url-status=dead }}</ref>
</gallery></center>
</gallery></center>



نسخہ بمطابق 20:18، 26 اکتوبر 2021ء

محمد بن سلیمان/محمد فضولی
نظامی گنجوی
Artistic rendition of Fuzûlî
پیدائش1494 (اندازہ)
کربلا، آق قویونلو، اب عراق
وفات1556
کربلا، سلطنت عثمانیہ، اب عراق
دور15-16ویں صدی
اصنافرومانوی Azeri رزمیہ، wisdom literature
نمایاں کامقصہ لیلیٰ مجنوں (لیلی مجنوں)

محمد سلیمان اوگلو فضولی ((آذربائیجانی: Məhəmməd Füzuli)‏ ،1556-1494) کلاسیک آذربائیجانی ادب کا عظیم نمائندہ، شاعر اور مفکر تھا۔[1]

مشرق وسطی کے سب سے بڑے غنائی شاعر فضولی نے عراق کے کربلا شہر میں جنم لیا تہا، کیوں کہ اس کا خاندان آذربائیجان سے بغداد میں منتقل ہوا تھا۔[1]

تخلیقی

فضولی آذربائیجان، عرب اور فارسی میں لکھے گئے مکمل قصیدہ، غزل اور ربائیوں، ریند ڑاہد، صحتی مرض، بنگ بادہ، صحبت الاصمر، شکایات نامہ جیسے نظموں کا مصنف ہے۔[1]

فضولی کے تخلیق کی رکی لیلی و مجنون نظم آذربائیجان اور مشرق اور دنیا کی نظم کے نادر تخلیقوں میں سے ہے۔ باوجود کے نظامی گنجوی کے پہلی بار لکہی ادب میں لے آیا لیلی و مجنون کا مضمون ترک، فارسی، ہندی، ازبکی اور تاجکی شاعروں کی طرف سے بہی لکہا گیا تہا، فضولی کے مادری زبان میں غزل سے وسیع طور پر استعمال کیا تخلیق اپنی تخلیقی قوت سے اس موضع میں پہلے لکہے گئے نظموں سے فرق رکہتا ہے ۔[1]

فضولی کی نظم صرف آذربائیجان، ترکی، عراق، مرکزی ایشیا میں نہیں بلکہ روس اور مغریب کے ممالکوں میں وسیع طور پر پہیل گئی یہی۔ اس کے بہت مسوّدہ یوروپ کے مشہور کتبخانہ اور عخائب گہروں میں محفوظ کیے جاتے ہے ۔[1]

کلیسیک آذربائیجانی نشتہ ثانیہ کے عظیم نمائندوں سے ایک محمد فضولی ہمیشہ دنیا کے مشرق علمی کے نقطہ ماسکہ میں تہا۔ یوروپ میں ہمّر پورگیتال، براون ریو، بیگلی،آیب، روس میں د۔ اسمیرنوف،آ۔ کریمسکی، ای۔ بیرٹیلس جیسے منصفوں فضولی کے تخلیق کے تحقیق کرنے والے تہے ۔[1]

1994ء یونیسکو کی طرف سے فضولی کا سال بیان کیا گیا ہے اور دنیا کے چند ممالکوں میں عظیم شاعر کے جوبلی کے متعلق کارروائ منظّم کی گی تہی۔[1]

آذربائیجان کے ملّی بنک نے 1996ء میں آذربائیجان کے عظیم شاعر اور متفکّر محمد فضولی کی زندگی اور تخلیق کے 500ویں سالگراہ کے موقع پر 100 مانات کے سونے کے اور 50 مانات کے چاندنی کے یادی سکّے بنائے تہے ۔[2]

1996ء کے اکتوبر میں آذربائیجان جمہوریہ کے صدر حیدر علیوف کے فرمان سے مسوّدہ کے اینسٹیٹیوٹ پر عظیم شاعر اور متفکّر کا نام دیا گیا تہا۔ عظیم آذربائیجانی شاعر کے جنم کے 500ویں سالگراہ کے موقع پر جشن کے شام میں تقریر کرتے ہوئے حیدر علیوف نے دنیا کی تہذیب کو مالامال کیے ہوئے فوضولی کی ورثہ کی بڑی قدر کی ۔[1]

عزئیر حاجیبایوف کا فضولی کی لیلی اور مجنون نظم کے بنیاد پر بنائ ہوئ اوپیرا، نغمہ نگار جہانگیر جہانگیروف (1992-1921) کا فضولی کنٹاٹا، فضولی کا باکو میں عظیم یادگار، جمہوریہ کے علاقوں میں سے ایک کو اس کا نام دینا آذربائیجانی عوام کے اس عظیم شاعر کی ورثہ پر کی گئی قیمت کا اظہار ہے ۔[1]

ڈاک ٹکٹ

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح آذربایحان جمہوریہ کے صدر حیدر علیف کی عظیم آذربایحانی شاعر محمد فضولی کے جنم کے 500ویں سالگراہ کے موقع پر جشنی شام میں تقریر (جمہوریہ مہل،8 نومبر 1996ء)، تاریخی معلومات. lib.aliyevheritage.org
  2. 1992-2012-cu illərdə dövriyyəyə buraxılmış sikkələr
  3. "The 500 Anniversary of Muhammed Fizuli, the poet"۔ 30 جولا‎ئی 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 ستمبر 2015 

بیرونی روابط