"قلعہ نندنہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
660 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
[[File:Ancient Temple Nandna Near Village Baghanwala hall Fallen inside view.jpg|thumb|Ancient Temple Nandna Near Village Baghanwala hall Fallen inside view]]
'''قلعہ نندنہ''' [[چوآسیدن شاہ]] سے 12 میل مشرق کی طرف واقع ہے نندنہ درہ چوآسیدن سے شروع ہوتا ہے
* قلعہ نندنہ دسویں صدی عیسوی کی تعمیر ہے۔ جس کا رقبہ45 کنال 16 مرلے ہے چوآسیدن شاہ سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے۔ جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔اس میں ایک شہر اور مندر کے آثار ہیں۔ اس پر ہندو شاہی سلسلے کے راجا گیارہویں صدی تک حکمران رہے جنہیں محمود نے یہاں سے مار بھگایا۔ اس کے اندر ہندو شاہی راجا انند پال کے بیٹے جے پال نے شیو کا مندر تعمیر کرایا تھا۔ سنسکرت میں نندنہ کا مطلب ’’بیٹا‘‘ ہے اس قلعے کا نام اِندرَ دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
* [[ابو ریحان البیرونی]] نےنےاسی یہیںمقام سےپر کھڑے ہو کر ہاتھ کی ایک چھڑی کے ذریعے پورے کرۂ زمینارض کا قطر ناپا تھا جس میں موجودہ قطر سے 43 فٹ کا فرق ہےہے۔
* سر اورل کے مطابق یہ راستہ [[سکندر]] کی افواج نے بھی [[دریائے جہلم]] کو پار کرنے کے لیے اختیار کیا جو اس نے [[جلالپور]] (بوکے قالیہ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور [[محمود غزنوی]] کی فوجوں [[1014ء]] میں میدان جنگ بنا۔
* محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نندنہ پر ہوگیا یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقرر کیا۔
* التتمش کی فتوحات کے زمرہ میں بھی نندنہ قلعہ کا نام آتا ہے [[التتمش]] کے بیٹے محمود نے [[1247ء]] میں کوہ نمک کے راجہ کو سزا دینے کے لیے حملہ کیا جو چنگیز خان فوج کا ہمرکاب تھا اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زمانہ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا۔
* اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر شدہ مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پر نمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔ <ref>پاکستان کے آثارِ قدیمہ،شیخ نوید اسلم</ref>
== حوالہ جات ==
 

فہرست رہنمائی