خلائی شٹل
Space Shuttle Discovery launches at the start of STS-120. | |
| Function | Manned partially re-usable launch and reentry system |
|---|---|
| Manufacturer | United Space Alliance: Thiokol/Alliant Techsystems (SRBs) Lockheed Martin (Martin Marietta) – (ET) Rockwell/بوئنگ (orbiter) |
| Country of origin | |
| Size | |
| Height | 184 ft (56.1 m) |
| Diameter | 28.5 ft (8.69 m) |
| Mass | 4,470,000 lb (2,030 t) |
| Stages | 2 |
| Capacity | |
| Payload to LEO | 24,400 kg (53,600 lb) |
| Payload to GTO |
3,810 kg (8,390 lb) |
| Launch history | |
| Status | Active |
| Launch sites | LC-39, Kennedy Space Center SLC-6, وینڈنبرگ ایئرفورس بیس (unused) |
| Total launches | 129 |
| Successes | 128 |
| Failures | 1 (launch failure, Challenger) |
| Other | 1 (re-entry failure, Columbia) |
| Maiden flight | April 12, 1981 |
| Notable payloads | Tracking and Data Relay Satellites Spacelab Great Observatories Galileo Magellan Space Station components |
| Boosters (Stage 0) - Solid Rocket Boosters | |
| No boosters | 2 |
| Engines | 1 solid |
| Thrust | 2,800,000 lbf each, سطح سمندر liftoff (12.5 MN) |
| Specific impulse | 269 s |
| Burn time | 124 s |
| Fuel | solid |
| First stage - External Tank | |
| Engines | (none) (3 SSMEs located on Orbiter) |
| Thrust | 1,225,704 lbf total, sea level liftoff (5.45220 MN) |
| Specific impulse | 455 s |
| Burn time | 480 s |
| Fuel | LOX/LH2 |
| Second stage - Orbiter | |
| Engines | 2 OME |
| Thrust | 53.4 kN combined total vacuum thrust (12,000 lbf) |
| Specific impulse | 316 s |
| Burn time | 1250 s |
| Fuel | MMH/N2O4 |
خلائی شٹل (space shuttle) ایک ایسی مکوک کو کہا جاتا ہے کہ جسے فضاء میں نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہو؛ یعنی اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خلائی شٹل اصل میں فضائی نقل و حمل کا ایک وسیلہ ہے جسے امریکی ادارے ناسا کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ مکوک کو فارسی (قدیم) میں مکو بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں الفاظ ؛ مکوک اور مکو اردو میں بھی مستعمل ملتے ہیں۔ خلائی شٹل کو انسانی فضائی پرواز کے مقاصد میں استعمال کیا جاتا ہے؛ ابتدائیییی چار خلائی شٹل اپنی نوعیت میں اختباری تھیں جو 1981ء چلائی گئیں جبکہ ان کے بعد 1982ء میں اشتغالیہ پروازوں (operational flights) کا آغاز ہوا۔
ناسا کے خلائی جہاز جنہیں انگریزی میں سپیس ٹرانسپورٹیشن سسٹم بھی کہا جاتا ہے، امریکی حکومت انسان بردار خلائی جہاز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ دو پروں والے اس خلائی جہاز کو عمودی انداز میں اڑایا جاتا ہے۔ عموماً ہر پرواز میں 5 سے 7 تک خلاباز ہوتے ہیں تاہم بعض اوقات 8 خلاباز بھی جہاز میں بٹھائے گئے ہیں۔ انسانوں کے علاوہ 50000 پاؤنڈ یعنی 22700 کلو وزن کو بھی یہ خلائی جہاز خلا میں نچلے مدار تک لے جاتی ہے۔ جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ خلائی جہاز خود کو مدار سے الگ کر لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان میں خصوصی انجن لگے ہوتے ہیں۔ مدار سے الگ ہونے کے بعد یہ جہاز زمین کی فضاء میں دوبارہ داخل ہو جاتے ہیں۔ اترنے کے دوران خلائی جہاز گلائیڈر کی طرح کام کرتے ہوئے اپنے اڑان کے نظام کی مدد سے اترتا ہے۔
سپیس شٹل دنیا کا واحد پر دار خلائی جہاز ہے جو خلائی مدار تک پہنچ اور واپس آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ واحد خلائی جہاز ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے مقاصد میں مختلف مداروں تک آنا جانا، خلائی مرکز تک خلاباز اور آلات اور خوراک وغیرہ پہنچانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کئی مصنوعی سیاروں کو اس جہاز کی مدد سے زمین پر واپس لایا گیا ہے تاہم اس مقصد کے لیے خلائی جہاز کا استعمال انتہائی کم ہوتا ہے۔ ان خلائی جہازوں کی مدد سے بین الاقوامی خلائی مرکز سے بڑی مقدار میں سامان واپس زمین پر لایا جاتا ہے۔ روسی خلائی جہاز سویوز میں خلائی مرکز سے سامان زمین پر لانے کی گنجائش بہت کم ہے۔ ہر خلائی جہاز سو مرتبہ استعمال یا دس سال کی مدت کے لیے بنایا گیا تھا۔
ان خلائی جہازوں کا منصوبہ 1960 کی دہائی کے اواخر میں شروع کیا گیا تھا۔ 1970 کی دہائی میں ناسا کے لیے انسان بردار خلائی سفر کے لیے یہی جہاز استعمال ہوئے تھے۔ ویژن فار سپیس ایکسپلوریشن کے مطابق ان خلائی جہازوں کا استعمال 2010 میں بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر کے بعد ختم کر دیا جانا تھا۔ ناسا کا منصوبہ ہے کہ ان خلائی جہازوں کی بجائے اورین نامی خلائی جہاز استعمال کیے جائیں تاہم فی الوقت مالی مشکلات کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔