عبدالواحد بن زید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ عبدالواحد بن زید نام اور کنیت ابوالفضل تھی
عبد الواحد بن زيد جنہیں امام ذھبی نے شیخ العباد کا لقب دیا ابو عبیدہ بصری کے نام سے بھی معروف ہیں ان کا ذکر رواۃ حدیث میں ملتا ہے جنہیں صوفی اور واعظ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے انہوں نےحسن بصری،عطاء بن ابی رباح ،عبادة بن نسی ،عبد الله بن راشد ،وكيع ومحمد بن السماك ،زيد بن الحباب ،ابو سُلَيْمَان الدارانی اورمسلم بن ابْرَاهِيم اور کثیر جماعت نے روایت کیں[1].
سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگ آپ کا تعلق بصرہ سے تھا اورخواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور انہی سے خرقہ خلافت پایا۔آپ کثرت سے مجاہدے کیا کرتے تھے۔ چالیس روز سخت مجاہدہ کرنے کے بعد آپ نے حضرت حسن بصری کے ہاتھ پر بیعت کی۔عبدالواحد بن زیدنے حکم قرآنی کے مطابق ایک عرصے تک سیر و سیاحت کی اور اس دوران عبادت وریاضت بھی کرتے رہے۔
آپ نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اکتساب علم کیا۔ آپ سے بے شمار کرامات کاظہور ہوا۔ چنانچہ ایک دفعہ درویشوں کی ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر تھی جب ان پر بھوک نے غلبہ کیا تو انہوں نے حلوہ کی خواہش کی لیکن فی الوقت کوئی چیز دستیاب نہ تھی۔ آپ نے اپنا چہرہ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تبارک و تعالٰی سے درویشوں کی اس جماعت کے لیے خواستگار ہوئے۔ اسی وقت آسمان سے دینار برسنے لگے۔ آپ نے درویشوں سے فرمایا کہ صرف اسی قدر دینار اٹھا لو جتنے کہ حلوہ کی تیاری کے لیے کافی ہوں۔ درویشوں نے بموجب حکم بقدر ضرورت دینار اٹھائے اور حلوہ تیار کر کے کھایا لیکن آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حلوہ میں سے ایک لقمہ بھی تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اپنی کرامت سے اپنا رزق حاصل کرنا پسند نہ کرتے تھے۔
[2] آخری عمر میں خواجہ عبدالواحد نہایت بیمار ہو گئے۔ آپ کے جسم میں حرکت کی طاقت بھی نہ رہی۔ایک خادم موجود تھا جو آپ کو وضو کروا تا تھا۔ایک دن خادم موجود نہ تھا جو وضو کرواتا ۔آپ نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ایسا وقت بھی آ گیا ہے کہ نماز کے لیے وضو کرنے کی بھی ہمت نہیں رہی ۔مجھے کم از کم اتنی صحت تو دے کہ میں وضو کر کے نماز پڑھ لوں۔ اس کے بعد جو تیرا حکم ہو گا وہ بجا لاؤں گا۔آپ اسی وقت اٹھے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے وضو کیا نماز ادا کی ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ پھر بیمار ہو گئے۔

وفات[ترمیم]

سفینۃ الاولیا اور اخبار الاولیا کے مطابق آپ 27 صفر 177ھ کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے آپ کا مزار مبارک بصرہ میں واقع ہے۔ ۔

حوالہ جات[ترمیم]

(سفینۃ الاولیاء : از دارا شکوہ قادری)

  1. سير اعلام النبلاء مؤلف : شمس الدين ابو عبد الله محمد بن احمد الذَهَبی
  2. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 19مکتبہ نبویہ لاہور