خیر پور ٹامیوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خیرپورٹامیوالی ضلع بہاولپور میں واقع ایک شہر ہے۔ یہ تحصیل خیر پور ٹامیوالی کا صدر مقام ہے


ضلع بہاولپور کا قصبہ اور تحصیل، بہاولپور کے مشرق کی طرف ۶۵ کلو میٹر جبکہ حاصل پور سے ۳۰ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایس ایم بی لنک اور بہاول نہر اس کے قرب و جوار سے گزرتی ہیں۔ اسے سب سے پہلے ۱۷۴۱ء میں سردار جدول خاں نے اپنے بھتیجے خیر محمد کے نام پر آباد کیا تھا چونکہ یہ قصبہ ایک اونچے ٹیلے پر آباد ہوا تھا، جو ٹامیوالی یا ٹانویوالی کہلاتا تھا۔ اس لئے اس کا نام خیر پور ٹامیوالی مشہور ہوا۔ ٹامہ مقامی زبان میں ٹیلہ کو کہتے ہیں۔ بہت جلد داؤد پوترہ سردار معروف خان نے اس پر قبضہ کرلیا۔ ۱۷۴۶ء میں یہ آبادی سیلاب کی نذر ہو گئی۔ دریا اس کی زمین کو ساتھ لے گیا، مگر اس کے بدلے ناقص ریت چھوڑ گیا چنانچہ سردار معروف خان نے موجودجگہ پر ۱۷۶۰ء میں شہر کو از سر نو تعمیر کرایا اور ایک مسجد خیر المساجد کے نام سے تعمیر کرائی۔ شہر کے اردگرد کچے قلعے اور گڑھیاں تعمیر ہوئیں جو یہاں کے رئیسوں کی ملکیت تھیں۔ انہی رئیسوں کے نام سے قصبہ میں چار محلے، صدقانی، معروف خانی، جمانی اور کرمانی وجود میں آ گئے۔ بعد ازاں ۱۷۹۰ء میں نواب بہاول خان نے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یہ قصبہ ریاست بہاولپور کا حصہ رہا۔ یہاں ایک قدیم تہذیب و ثقافت کی یادگار مسجد خانو والی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ عباسی حکمرانوںکی رہائش کے لیے ایک دولت خانہ بھی بنایا گیا تھا۔ اسے بہاولپور ریاست میں ضلع اور تحصیل صدر مقام کا درجہ بھی حاصل رہا۔ بہاولپور سٹیٹ گزیٹیر ۱۹۰۴ء کے مطابق اس دور میں یہاں تین باغات سرکاری، شاہ صاحب والا اور ملک تیرتھ داس کے نام سے موجود تھے جبکہ اینگلو ورنیکلر مڈل سکول، تھیولو جیکل سکول، ڈاکخانہ، ڈسپنسری اور میونسپل آفس بھی موجود تھے۔ قصبے کے بازار اور گلیاں ہر وقت چولستان کی اُڑتی ریت سے اَٹے رہتے تھے۔ گزیٹیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ خیر پور کے لوگ مقدمہ بازی میں بہت مشہور ہیں اس وجہ سے بعض لوگ خیرپور کو طنزاً شر پور بھی کہتے ہیں۔ ۱۸۸۳ء میں یہاںمیونسپلٹی قائم کی گئی۔ قیام پاکستان سے قبل یہاں ہندو معقول تعداد میں آباد تھے، جو ۱۹۴۷ء میں نقل مکانی کرکے بھارت چلے گئے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۷۰ء میں حاصل پور کو جب تحصیل بنایا گیا تو اس میں خیر پور ٹامیوالی بھی شامل کیا گیا۔ ۱۹۹۰ء میں خیر پور ٹامیوالی کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ یہ تحصیل ۸۸۸مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ ۱۹۹۸ء میں اس تحصیل کی آبادی ۱۸۴۹۱۴ نفوس پر مشتمل تھی۔ ماضی میں یہاں لنگی ، سالاری اور دوہر جیسے کپڑے تیار کئے جاتے تھے اور اسی وجہ سے یہ شہر مشہور تھا۔ کھیس ، دریوں اور چھاپے کی دستکاری کا کام آج بھی یہاں ہوتا ہے۔ کھجور کے پتوں کی چٹائیاں دستی پنکھے اور چنگیریں بھی عام بنتی ہیں۔ یہاں کا سوہن حلوہ بھی بہت مشہور ہے۔ یہاں ریلوے اسٹیشن ، تھانہ، لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈگری کالجز، غلہ منڈی ریسٹ ہاؤس محکمہ انہار، طلباء و طالبات کے متعدد سرکاری و غیر سرکاری ہائی و پرائمری سکولز، تحصیل سطح کے دفاتر و عدالتیں اور ہسپتال موجود ہیں۔ معروف جمانی، صدقانی لشکر خانی، بوہراں ، غنی پور اور غریب آباد یہاں کی رہائشی بستیاں ہیں جبکہ مین بازار، فیصل بازار اور رحیم مارکیٹ تجارتی مراکز ہیں۔ یہاں تین غلہ منڈیاں بھی ہیں سب سے قدیم منڈی اب متروک ہو چکی ہے۔قصبہ خیر پورکا شمار علاقے میں اہم علمی مرکز کے طور پر ہوتا آیا ہے۔ یہاں پہلے پہل ہمدانی سلسلے کے ایک بزرگ سیّد ہاشم شاہ ہمدانی تشریف لائے جو حضرت شاہ ولی اللہ کے ہم زمانہ تھے۔ خاندان ہمدانیہ کے اکثر بزرگ صاحب کمال صوفی اور صاحب تصنیف شاعر تھے۔ ان میں سے سید زمان شاہ نیازی قابل ذکر ہیں