دنیا کی سو عظیم کتابیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دنیا کی سو عظیم کتابیں غالباً انگلستان کے رٹن سیمورسمتھ Martin Seymour-Smith (1928ء-1998ء) کی انگریزی کتاب “The 100 Most Influential Books Ever Written” کا اردو ترجمہ ہے کیونکہ مصنف ستار طاہر صاحب نےاپنی اس کتاب میں اس انگریزی کتاب کاکوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔ اس ایک کتاب میں قدیم انسانی تاریخ سے لیکر اب تک 20 لکھی گئی سو منتخب کتابوں کا بھر پور تعارف اور تنقیدی تجزیہ پیش کیا گیا ۔ جنھوں نے ہماری اس دنیا پر حکمرانی کی۔

مندرجات[ترمیم]

اس کتاب کا آغاز دنیا کی عظیم ترین کتاب القرآن الحکیم سے ہوتا ہے۔ دوسرا مضمون حدیث کی مشہور کتاب صییح بخاری پر ہے۔ تیسرا مضمون عہد نامہ عتیق (Old Testament)پر ہے ، ایک طرح سے یہ یہودیوں کی مذہبی کتاب تورات کی تحریف شدہ شکل سمجھ لیں۔ چوتھا مضمون عہد نامہ جدید یعنی انجیل مقدس پر ہے ۔ پانچواں مضمون ہندوﺅں کی مقدس کتاب بھگوت گیتاجبکہ چھٹے مضمون میں چینی مفکر اور مذہبی رہنما کنفیوشس کے اقوال کا احاطہ کیا گیا، ساتوان مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی کتاب دھماپد اور آٹھوں مضمون سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب پر ہے۔پچاس باون صفحات پر مشتمل یہ سات مضامین پڑھنے سے آپ اسلام، یہودیت، عیسائیت، ہندوازم، کنفیوشس ازم، بدھ ازم اور سکھ مت کی بنیادی تعلیمات اور مقدس کتابوں کی تفصیل سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد چند مضامین چند شاہکار کلاسیکل ادب پاروں پر ہیں۔ان میں یونانی شاعر ہومر کی کتاب ایلیڈ جس پر چند سال پہلے مشہور فلم ٹرائے بنی ، ورجل کا شاہکاراینیڈ، کلیلہ دمنہ کی کہانیاں، ایسوپ کی حکایتیں،داستان الف لیلہ،انگریز شاعر چاسر کی کنٹربری ٹیلز، قبل مسیح دور کے دو یونانی ڈراما نگارسفوکلیز کا” ایڈی پس“ اور یوری پیڈیز کا” الیکٹرا“ ، قدیم ہندی شاعرکالی داس کا ”شکنتلا “شامل ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خطبات اور خطوط پر مشتمل مشہور کتاب نہج البلاغہ، تصوف کے شیخ کبیر ابن العربی کی فصو ص الحکم،سیدنا عثمان علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کی کتاب کشف المحجوب، فردوسی کا شاہکارشاہنامہ ، مولانا روم کی مثنوی،عمر خیام کی رباعیات، شیخ سعدی کی گلستان، حافظ شیرازی کا دیوان حافظ ، روسی انقلابی شاعر پشکن کی نظمیں، بودیلیئر کی بدی کے پھول، ایزرا پاﺅنڈ کے کینٹوز، علامہ اقبال کا جاوید نامہ، وارت شاہ کی ہیر پر جامع مضامین شامل ہیں۔ تاریخ کی چار شاندار کتابوں” تواریخ“ از ہیروڈوٹس ، ابن خلدون کی” مقدمہ“ ، گبن کی” انحطاط وزوال سلطنت روما“ اور ٹائن بی کی” اے سٹڈی آف ہسٹری“ شامل ہیں۔ مشہور ڈراموںمیں شیکسپیئر کا ”ہیملٹ“، گوئٹے کا فاﺅسٹ، ابسن کا اے ڈالز ہاﺅس شامل ہیں۔ ہیملٹ پر مضمون میں شیکسپیئر کی شخصیت اور اس کے دیگر مشہور ڈراموں کا بھی احاطہ کیا گیا۔ ناولوںمیں تاریخ انسانی کے چند عظیم ترین شاہکاروں کا ذکر ملتا ہے۔ ٹالسٹائی کا حیران کن ناول جنگ اور امن، دوستﺅ فسکی کا ”کرامازوف برادران“، وکٹر ہیوگو کا” لامزرابیلز“، ترگنیف کا ”فادر اینڈ سنز“،کافکا کا ”دی ٹرائل(مقدمہ)“،فلابیئر کا ”مادام بوواری“، میکسم گورگی کا ”ماں“،ڈکنز کا ”ڈیوڈ کاپر فیلڈ“،میلول کا ”موبی ڈِک“،کامیو کا ”دی فال“بالزاک کا ”ڈیوائن کامیڈی“، سر وانٹیز کا ”ڈان کیخوٹے“،گوگول کا ”ڈیڈسولز“،لرمنتوف کا ”ہیروآف آور ٹائم“، ستاں دال کا ”سرخ وسیاہ“،پرووست کا ”مانوں لاکاﺅ“جیمز جوائس کا”یولیسز“ہیریت سٹووو کا” انکل ٹامز کیبن“، مارسل پروست کا ”ری ممبرنس آف تھنگز پاسٹ “،ایملی برونٹے کا” ودرنگ ہائیٹس“جوناتھن سوئفٹ کا گلیورز ٹریولز، ڈینیئل ڈیفو کا رابنسن کروسو، وغیرہ شامل ہیں۔ چیخوف کی” چھوٹی بڑی کہانیاں“، موپساں کی ”کہانیاں“،اینڈرسن کی” فیئری ٹیلز “ پر بھی جامع مضامین ہیں۔ فلسفہ اور فکری کتب کے حوالے سے اعلیٰ درجے کے مضامین لکھے گئے۔ افلاطوں کی ”ریاست“،ارسطو کی ”سیاسیات“کانٹ کی ”تنقید عقل محض“، والٹئیر کی ”فلاسفیکل ڈکشنری،“ میکاویلی کی ”پرنس“، روسو کی ”معاہدہ عمرانی “، شوپنہار کی ”دی ورلڈ ایز وِ ل اینڈ آئیڈیا“، سارتر کی ”بینگ اینڈ نتھنگ نس“، سپنسر کی ”پرنسپلز آف سوشیالوجی“، نطشے کا شاہکار ”اور زرتشت نے کہا“، ہیگل کی” لاجک “، کارل مارکس کی مشہورزمانہ کتاب” داس کیپیٹل“،کروچے کی ایستھٹک ، ڈیکارٹ کی میڈی ٹیشنز،برگساں کی ”کرئیٹوایوولوشن “ہیولاک ایلس کی سٹڈیز ان دی سائیکالوجی آف سیکس، مالتھس کے ایسے آن دی پرنسپل آف پاپولیشن،مونٹین کی ایسز جبکہ نفسیات کے موضوع پر سگمنڈ فرائیڈ کی مشہور ترین کتاب”سائیکو اینالائسز“ثونگ کی ”میموریز، ڈریمز، ری فلیکشنز“شامل ہیں۔