سب رس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملا وجہی کی سب رس[ترمیم]

پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں: ” سب رس “اپنے موضوع، زبان اور اسلوب کے اعتبار سے ایک ایسی تصنیف ہے کہ جسے اس دور کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ ادبی اہمیت کی مالک ہونے کا مقام حاصل ہے۔ جسے موضوع کی دلچسپی، جذبے کی موجودگی، زبان کی دلکشی اور اسلوب کی انفرادیت پر خالص ادبی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے۔“

سب رس ایک تمثیل[ترمیم]

سب رس کو عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ وجہی کہ اپنی طبع ذاد نہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ (نثر) کو نثر کے پیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتائوں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔

سنگ میل[ترمیم]

سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکا رہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا۔ جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

اسلوب[ترمیم]

سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصر وں کی زبان و اسلوب سے علاحدہ ہو گئی۔ پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں:

” جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔“ اسلوب کی خصوصیات 1:قصہ کی دلچسپی 2:جذبات کی فراوانی 3َ:زبان کی دلکشی 4:اسلوب کی ندرت 5:مقفی و مسجع

قافیہ بندی[ترمیم]

وجہی نے اپنے ترقی یافتہ اسلوب بیان میں قافیہ بندی کا بڑا خیال رکھا ہے۔ وجہی کی عبارتوں میں دو دو تین تین جملے عام طور پر باہم قافیہ دار ہوتے ہیں۔ اسے مسجع اور مقفٰی نثر کا بڑا شوق ہے۔ یہ شوق شاید قران پاک کی تلاوت سے پیدا ہوا۔ فارسی کے تتبع میں بھی وجہی نے مقفٰی او ر مسجع عبارت لکھی ۔”سب رس“ میں تقریباً ہر فقرہ دوسرے فقرے کے ساتھ ہم قافیہ نظرآتا ہے۔ مثلاً ” یو کتاب سب کتاباں کا سرتاج، سب باتاں کا راج، ہر بات میں سو سو معراج، اس کا سواد سمجے نا کوئی عاشق باج، اس کتاب کی لذت پانے عالم سب محتاج۔“

نثر میں شاعری[ترمیم]

سب رس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا غزل کے مصرعوں کی نثر بنادی گئی ہو اور اصل کتاب دیکھیں تو اس میں مقفی اور مسجع عبارت کی بنا پر شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اردو نثر میں اگر رنگین نگاری کا سراغ لگانا مقصود ہو تو نیاز فتح پوری اور یلدرم کی بجائے ملاوجہی تک جانا ہوگا۔ مثال کے طور پر:

” قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی۔ خدا بڑا، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک، ماں نہ باپ “

فارسی اور عربی کااثر[ترمیم]

وجہی کی عبارتوں میں عربی فارسی ضرب الامثال بکثرت موجود ہیں بلکہ ا س نے عربی فارسی ترکیبوں کو اردو میں جذب کرکے زبان کا ڈھانچہ تیار کیا اور پھر ہندوستان بھر کی زبانوں کے مطالعے کی وجہ سے ہر خطے کی زبان اورخصوصاً شمالی ہند کے محاورے کو اپنے ہاں جگہ دی اور ایک وسیع تر زبان کی بنیاد رکھی۔ وجہی نے اس تجربے سے ثابت کر دیا کہ اردو زبان دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وجہی نے اردو زبان کے بارے میں یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ ایک اور آہنگ بھی تیار ہو سکتا ہے۔ وجہی کی زبان آج کل کی زبان کے بہت قریب ہے۔ اس لیے اس میں عربی فارسی کے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔

” دانایاں میں یوں چل ہے بات، المعقل نصف الکرمات“

صرفی نحوی خصوصیات[ترمیم]

”سب رس“ کے متن میں صرفی نحوی نکات جس مہارت سے استعمال ہوئے ہیں ان سے ”سب رس“ کی صرفی و نحوی خصوصیات کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ مثلا ایک طرف اگر عربی الفاظ کے املا کو سادہ کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف فارسی میں ”گی “کا لاحقہ استعمال کرکے بعض الفاظ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً بندہ سے بندگی وغیرہ۔ بقول حافظ محمود شیرانی :

"ادبی پہلو سے قطع نظر اور اوصاف میں جن کی بناءپر یہ کتاب گونا گوں دلچسپیوں کا مرکز بن جاتی ہے۔ لغت و لسان اورقدیم صرف و نحو کے محقق اس کو نعمت غیر متبرقہ سمجھیں گے۔ بالخصوص اس کا وہ حصہ جو قدیم محاورات اور ضرب الامثال سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔"

اردو کے نقوش[ترمیم]

”سب رس “ کی زبان کو اس کا مصنف ہندی زبان کے نام سے یاد کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہندی زبان (شمالی ہند کی زبان، کا دکن والوں پر اتنا اثر پڑ چکا تھا کہ دکن کا مصنف اس زبان کو گجری، گجراتی یا دکنی زبان کہنے کی بجائے ہندی زبان کہتا ہے۔ بظاہر تو یہ معمولی بات ہے لیکن دراصل یہ اس حقیقت کی داعی ہے کہ ”اردویت “ نے سب سے پہلے نمایاں طور پر اس کتاب کے زمانے میں اور اس کے زیر اثر ہی دکن میں زور پکڑا۔ شمالی ہندمیں مغلوں سے پہلے کے سلاطین کے دور میں جو زبان رائج تھی۔ اس میں عربی فارسی کے الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن اس کا نقش مسلمانی نہیں ہے اور اردو زبان کی روح اور اسپرٹ مسلمانی ہے۔ وجہی نے اپنے زمانہ کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس کا اس کو احساس بھی تھا۔ وہ خود لکھتا ہے:

” آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔“

سب رس کی زبان[ترمیم]

سب رس کی زبان تقریبا چار سو سال پرانی اور وہ بھی دکن کی ہے۔ اس میں بہت سے الفاظ ایسے بھی ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں بولتے۔ اس پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ و محاورات آج کل سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وجہی نے اپنے زمانے کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس بات کا خود اسے بھی احساس تھا۔ وجہی نے عربی فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چارسو سال قبل بھی بالکل اسی طرح استعمال کیے جس طرح آج کل ہو رہے ہیں۔

شان نہ گمان، خالہ کا گھر، کہاں گنگا تیلی کہاں راجا بھوج، شرم حضوری اور دیکھا دیکھی، گھر کا بھیدی تے لنکا جائے، دھو کا جلیا چھاچھ پھونک پیتا وغیرہ وغیرہ

لسانی اہمیت[ترمیم]

”سب رس“ اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا، گوالیاری، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلم ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔

کردار نگاری[ترمیم]

کہانی میں کل 76 کردار ہیں جو غیر مجسم کیفیتِ انسانی ہیں جن کو مجسم کرکے پیش کیا گیاہے۔ یوں یہ کہانی انسانی زندگی کا روزمرہ تماشا ہے اور اسی تماشے کو وجہی نے تمثیل کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کسی دیومالا کا سہارا لیے بغیر اپنی کیفیات کو کردار بنا کر پیش کرنے میں یہ خامی ضرور ہے کہ کردار کو اسم بامسمٰی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے کردار اور سیرت سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور کسی مختلف عمل کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ وجہی نے اس قصے کو جاندار بنانے کی حتی الوسع کوشش کی ہے اور اس میں وہ کہیں کہیں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں کہیں اس نے اپنے کسی کردار کی کردار نگاری کی ہے یا کہیں مکالمہ نگاری کی ہے وہ اس کا اپنا کمال ہے اور اس کا تخلیقی عمل ہے۔ مثلاً حسن کاروپ اس طرح پیش کیا ہے:

”حسن ناز، اوتار، خوش گفتار، خوش رفتار، ویدیاں کا سنگار، دل کا آدھار، پھول ڈالی تے خوب لٹکتی، چلنے میں ہنس کوں ہٹ کئی،روایں تے میٹھی بولی بات، آواز تے قمری کو کر ے مات، کنول پھو ل کے پنکھڑیاں جیسے ہات، چمن میں پھول شرم حضور، لاج تے آسمان پر چڑھے۔۔۔“

معاشرت کی عکاسی[ترمیم]

”سب رس “ میں جابجا اس زمانے کی معاشرت او ر تہذیبی و تمدنی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس زمانے کے طرز و بود باش، خوراک، لباس، وضع قطع، ظروف، زیورات، حکومت و حکمت ،تجارت و معیشت غرض کہ ہر پہلو سے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے آثار کی تصویر نظر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک زندہ معاشرے کا ایک نکتہ دان ادیب ہے جس نے اپنے عہد کی معاشرتی زندگی کو بڑی گہری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے خدوخال کو بڑی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لایا ہے۔”سب رس“ اگرچہ ایک تمثیل ہے مگر اس کے مطالعے سے اس عہد کی معاشرتی زندگی، افکار اور رجحانات کی ایک مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔

سیاسی حالات[ترمیم]

وجہی عبد اللہ قلی قطب شاہ کا درباری شاعر اور ادیب ہے۔ وہ دربا ر سے وابستہ تھا اور اس سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اس لیے اس کی نظر درباری معاملات پر بڑی گہری ہے۔ وہ قدیم ایشائی حکومتوں کے رنگ ڈھنگ اور ان کی سیاسی حکمت عملی سے خوب آگاہ ہے۔ وہ ان قدیم مطلق العنان حکومتوں کے درباروں میں ہر قسم کی سیاسی سازشوں اور جوڑ توڑ سے واقف ہے یہی وجہ ہے کہ جب قصے میں کبھی دربار سجتا یا سیاسی مسائل پید ا ہوتے ہیں تو وجہی کا قلم اس تمثیل کی آڑ میں اپنے دربارکی تمام تر سیاسی حکمت عملیوں کا ذکر کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ وہ شہزادے کے عام اخلاقی رویوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور شہزادی کی شراب نوشی کا جواز بھی تلاش کرتا ہے۔ وہ دربار سرکار کے معاملات سے خوب واقف ہے۔ اس واقفیت سے اس نے اپنی کتاب میں خوب کام لیا ہے۔

صوفیانہ خیالات، اخلاقی تعلیمات[ترمیم]

وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات، موضوعات، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوؤں کی برائی کی ہے۔

وجہی پہلا انشائیہ نگار[ترمیم]

بھارت میں ڈاکٹر جاوید شسٹ نے ”ملاوجہی کو ”اردو انشائیہ کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اور اسے مونتین کا ہم پلہ ثبات کیا ہے۔ انہوں نے سب رس میں ایسے 21 حصوں کی نشان دہی کی ہے۔ جن کی بنا پر انہوں نے یہ لکھا: ” میں ملا وجہی کو اردو انشائیہ کا موجد اور باوا آدم قرار دیتا ہوں اور اس کے ان اکسٹھ انشائیوں کو اردو کے پہلے انشائیے ۔۔۔ اردو کے یہ پہلے ایسے انشائیے ہیں جو عالمی انشائیہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔“


مجموعی جائزہ[ترمیم]

زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ اردو نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو طے کیا ہے۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے۔ اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش ہے مگر بہترین کوشش ہے۔