سلیم الطاف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیم الطاف ٹیسٹ کیپ نمبر 53
Saleem Altaf crickter.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں بازو فاسٹ میڈیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس
میچ 21 6 143
رنز بنائے 276 25 3066
بیٹنگ اوسط 14.52 25.00 22.71
سنچریاں/ففٹیاں -/1 -/- 1/11
ٹاپ اسکور 53* 21 111
گیندیں کرائیں 4001 285 20,358
وکٹیں 46 5 336
بولنگ اوسط 37.17 30.19 28.50
اننگز میں 5 وکٹ - - 8
میچ میں 10 وکٹ - n/a 1
بہترین بولنگ 4/11 2/7 7/69
کیچ/سٹمپ 3/- 1/- 63/-
ماخذ: [1]، 7 June 2013

سلیم الطاف بخاری انگریزی: Saleem Altaf Bokhari(پیدائش:19 اپریل 1944ءلاہور، پنجاب) ایک سابق پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 21 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی جبکہ 6 ون ڈے انٹرنیشل میچ بھی کھیلے ایک تیز میڈیم فاسٹ اوپننگ باؤلر سلیم الطاف نے پاکستان میں 1963-64ء سے 1978-79ء پاکستان کے ساتھ لاہور،پی آئی اے،اور پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت کی۔

تیسٹ کرکٹ کا دور[ترمیم]

سلیم الطاف نے 1967ء میں پاکستان کی ٹیم کے ساتھ انگلستان کا دورہ کیا اور انہیں لارڈز ٹیسٹ میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا اگرچہ بیٹنگ میں وہ صرف دو رنز بنا پائے مگر باولنگ میں 78/3 کی کارکردگی سے سب کو متوجہ کر لیا تھا ٹام گریونے ان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بنےجبکہ انگلش کپتان برائن کلوز اور وکٹ کیپر جان مرے بھی ان کے ہتھے چڑھے تھے اوول کے دوسرے ٹیسٹ ان کے حصے میں ایک ہی وکٹ آ سکی اس کے بعد انہیں دو سال انتظار کرنا پڑا جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو وہ دوبارہ ایکشن میں نظر آئے لاہور کے پہلے ٹیسٹ میں 45/3 اور ڈھاکہ میں دوسرے ٹیسٹ میں 45/2 نے انہیں کسی حد تک سرخرو کیا مگر یہ کارکردگی ان کی اعلی صلاحیتوں کا آئینہ دار نہیں تھی دو سال کے وقفہ کے بعد 1971ء میں وہ ایل بار پاکستان ٹیم کے ساتھ انگلینڈ پہنچے لارڑز ٹیسٹ میں انہیں صرف برائن لک ہرسٹ کی وکٹ مل سکی لیکن لیڈز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ان کا داو چل گیا اور 57/5 کی عمدہ کارکردگی سامنے آئی یہ ان کی ٹیسٹ مقابلوں میں بولنگ کے شعبے میں بہترین فگر تھےانگلینڈ کے خلاف سیریز کے اس تیسرے ٹیسٹ میں 11 رن پر 4 وکٹ (14.3-9-11-4) ان کی گیند پر مضبوطی کی آئینہ دار تھی 1972-73ء میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ایڈیلیڈ اور میلبورن کے ٹیسٹ ان کے کیرئیر کا حصہ بنے مگر بیٹنگ میں 26 اور 23 بنا پائے اور بولنگ میں انہوں نے 83/2 اور 99/2 کے اعدادوشمار حاصل کئے تاہم سڈنی کا تیسرا ٹیسٹ ان کے لیے خاصا اہم۔رہا سرفراز نواز اور سلیم الطاف نے آسٹریلیا کے سات کھلاڑی آوٹ کیے دوسری باری میں سرفراز نواز 56/4 اور سلیم الطاف نے 60/4 کے ساتھ اختتام کیا پاکستان کی ٹیم دوسری اننگ میں ایک آسان ہدف حاصل نہ کر سکی اور 52 رنز سے یہ ٹیسٹ ہار گئی حالانکہ ان دونوں نے ٹیسٹ میں 15 وکٹ حاصل کرکے اپنا فرض خوب نبھایا تھا یہ ان کی سب سے کامیاب سیریز تھی، جب انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں 28.45 کی رفتار سے 11 وکٹیں حاصل کیں ظاہر ہے کہ انہوں نے تیز رفتاری سے گیند بازی کی اور گیند کو دیر سے سوئنگ کرتے ہوئے اس سے کسی حد تک مخالفین کو پریشان کیا اسی سیزن میں وہ تین ٹیسٹ میچوں کے لیے نیوزی لینڈ ٹیم کے ہمراہ تھے جہاں انہوں نے ولنگٹن کے پہلے ٹیسٹ میں 85/5 کی صورت میں ایک ڈرا میچ میں رچرڑ ہیڈلی اور رچرڈ کولنج سمیت ٹیری جاروس،بیون کانگڈن اور برائن ہیسٹنگ کی وکٹیں حاصل کیں تاہم ڈوینڈن کے دوسرے ٹیسٹ میں وہ 34 رنز کے عوض کوئی وکٹ نہ لے سکے البتہ اکلینڈ کے تیسرے ٹیسٹ میں ان کا ٹاپ اسکور ناٹ آؤٹ 53 سامنے آیا اس دوران انہوں نے نویں نمبر پر بیٹنگ کی اور پرویز سجاد کے ساتھ مل کر آخری وکٹ کے لیے 48 رنز کی شراکت قائم کی دوسری باری میں وہ صرف 11 رنز بنا سکے اسی سیزن میں انگلستان کے دورہ پاکستان میں ایک بار پھر سلیم الطاف کو پاکستان کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا لاہور کے اولین ٹیسٹ میں 104/3 اور حیدرآباد کے دوسرے ٹیسٹ میں 103/2 نیز کراچی کے تیسرے ٹیسٹ میں 54/1 کے ساتھ سیریز میں صرف 6 وکٹیں ان کے زیادہ موثر ہونے کا سبب نہ تھیں بلکہ بیٹنگ میں 26 رنز ہی ان کے بلے سے امڈ سکے یہی وجہ تھی کہ انہیں اگلے ٹیسٹ میچ کے لیے 3 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا جب ان کو آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں شامل کیا گیا لیکن ان کی کارکردگی کوئی خاص نہ رہی لیکن اس کے باوجود ان کو 1976-77ء میں آسٹریلیا اور 1976-77ء میں ویسٹ انڈیز کے دورہ پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاون کے مقام پر سلیم الطاف نے 103/5 کی کارکردگی پیش کی حالانکہ ہہ ایک ڈرا میچ تھا انہوں نے پہلی اننگ میں 70 رنز کے عوض کلائیو لائیڈ اور اینڈی رابرٹس کی وکٹیں سمیٹ لی تھیں دوسری باری میں وہ محض 33 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں آلیون کالی چرن ،ڈیرک مرے،اور بگ برڈ کے نام سے معروف جوئیل گارنر کو آوٹ کرنے میں ٹیم کی مدد کو پہنچے تاہم پورٹ آف اسپین اور جارج ٹاون کے بقیہ دونوں ٹیسٹوں میں ان کو مزید کوئی وکٹ نہ مل سکی اگلے سیزن میں وہ سلیکٹرز کی توجہ کھو چکے تھے البتہ اس سیزن میں بھارت کی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی تو لاہور کے دوسرے ٹیسٹ میں انہیں شائقین نے آخری بات کسی ٹیسٹ میں دیکھا خوش قسمتی سے ہہ ٹیسٹ پاکستان نے 8 وکٹوں سے جیت لیا تھا سلیم الطاف نے سنیل گواسکر کی ابتدائی وکٹ حاصل کر لی تھی اور یہی واحد وکٹ تھی جو ان کو اپنے آخری ٹیسٹ میں ملی۔

ریٙائرمنٹ کے بعد[ترمیم]

ریٹائرمنٹ کے بعد سلیم الطاف نے 2004ء سے 2006ء تک پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز کے طور پر کام کیا اور بعد ازاں 2006ء سے 2008ء تک ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹس کے طور پر کام کیا۔ انہیں 12 جون 2008ء کو برطرف کر دیا گیا، جب وہ مبینہ طور پر ایک ایشو پر میڈیا کے ہاتھوں ایسے زچ ہوئے کہ انہیں برطرف کر دیا۔ پی سی بی کے چیئرمین نسیم اشرف کی طرف سے طلعت علی (پاکستانی ٹیم منیجر) کو ایک ای میل بھیجی گئی جس میں نسیم اشرف نے بنگلہ دیش میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی 140 رنز کی شکست پر وضاحت طلب کی گئی ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے ہاتھوں یہ ای میل لیک ہوئی تاہم وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔

چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر برطرفی[ترمیم]

یکم ستمبر 2009ء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ کونسل کی اکثریت سے اس اقدام کی منظوری کے بعد پی سی بی نے انہیں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کے عہدے سے برطرف کر دیا کیونک ان کے پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کے ساتھ انتظامی معاملات پر اختلافات تھے۔ ان کے بعد وسیم باری کو بعد ازاں قائم مقام سی او او مقرر کیا گیا سلیم الطاف کو پی سی بی کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے 2005ء کے اوائل میں بھارت میں پاکستانی ٹیم کا منیجر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم پی سی بی کے اس وقت کے چیئرمین شہریار خان نے الطاف کو سائیڈ لائن کرکے انہیں 2011ء کے ورلڈ کپ سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے لیے ڈائریکٹر سپیشل پراجیکٹس مقرر کر دیا۔ درحقیقت یہ دوسرا موقع ہے کہ الطاف کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے، سابق چیئرمین نسیم اشرف کی جانب سے پریس کو حساس معلومات لیک کرنے کے الزام میں برطرف ہونے کے بعد انہیں اس وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کے نتیجے میں بحال کر دیا گیا تھا۔گورننگ کونسل کے رکن شکیل شیخ نے اعتراف کیا کہ

الطاف کی گزشتہ سال تقرری جلد بازی میں کی گئی۔ شیخ نے پی ٹی آئی کو بتایا، "لیکن اب اراکین کے لیے یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی وقت ہے کہ نئے سی او او کے طور پر کس کا عہدہ سنبھالنا بہتر ہے۔"

اس سے قبل ایک اور تنازعہ بھی سامنے آیا تھا جب اگست 2009 میں ائی سی ایل میں میچ فکسنگ کا ایک نیا تنازع ایک آڈیو ٹیپ کے جاری ہونے کے ساتھ سامنے آیا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو عہدیدار اس بارے میں بات کر رہے تھے یہ ٹیپ، جس کی آڈیو زیادہ واضح نہیں ہے، مبینہ طور پر قومی سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن محمد الیاس نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کو بتایا کہ آئی سی ایل میں میچز کیسے طے کیے گئے۔ الیاس بظاہر آئی سی ایل کے پہلے ایڈیشن کا حوالہ دے رہے ہیں، جس میں ان کے داماد عمران فرحت شریک تھے۔ مبینہ طور پر سابق ٹیسٹ کھلاڑی الیاس کی آواز اس بارے میں بتاتی ہے کہ کس طرح متعدد پاکستانی کھلاڑیوں نے میچز فکس کیے اور یہ بھی کہ کس طرح ایک مسترد ٹیسٹ بلے باز غیر مجاز لیگ میں نشے میں بلے بازی کرنے جاتا تھا۔ آڈیو ٹیپ میں الطاف کی طرف سے کچھ زیادہ نہیں آیا ہے جو زیادہ تر "ہاں، ہاں، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے" کہتے ہوئے سنا جاتا ہے۔

الیاس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ٹیپ پر ان کی آوازیں ہیں - گفتگو پنجابی میں ہے جبکہ الطاف نے کہا کہ اس نے ٹیپ نہیں سنی محمد الیاس نے کہا کہ "آواز پر آواز اٹھائی گئی ہے۔ کوئی پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے اور میں اپنے داماد کے کیریئر کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کچھ کیوں کہوں گا"۔ لیکن پی سی بی کے سابق سربراہ نسیم اشرف کے دور میں اہم عہدے پر رہنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق عہدیدار نے اعتراف کیا کہ یہ ٹیپ اشرف کی ہدایت پر الطاف کی ٹیلی فون لائن سے بنائی گئی ریکارڈنگز کے مجموعہ سے ہے۔ اہلکار نے کہا، "الطاف کی ٹیلی فون بات چیت کو خفیہ طور پر ٹیپ کیا جا رہا تھا اور وہ اس کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن اگر کسی نے عوامی طور پر جاری کیا ہے تو یہ غلط ہے جو کہ ایک نجی اور خفیہ ٹیپ ہے"۔

اس ٹیپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سلیم الطاف نے کہا تھا:

"الیاس کو یہ عادت ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر بھی بات کرتا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن اگر کچھ بھی ہو تو یہ ایک عام گفتگو ہو گی، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔"

اعداد و شمار[ترمیم]

سلیم الطاف نے 21 ٹیسٹ میچوں کی 31 اننگز میں 12 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 276 رنز بنائے جس میں 53 ناٹ آئوٹ ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 14.52 کی اوسط سے بنائے گئے ان رنزوں میں 1 نصف سنچری شامل تھی جبکہ 143 فرسٹ کلاس میچوں کی 185 اننگز میں 50 بار ناٹ آئوٹ رہ کر انہوں نے 3066 رنز بنائے۔ 111 ان کا بہترین سکور تھا۔ 22.71 کی اوسط سے بنائے گئے ان رنزوں میں 1 سنچری اور 11 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ جبکہ 6 ون ڈے میچوں میں 2 اننگز میں ایک بار ناٹ آوٹ رہ کر انہوں نے 25 رنز بناِئے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 1710 رنز دے کر 46 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ 11 رنز کے عوض 4 وکٹیں ان کا کسی ایک اننگ میں بہترین ریکارڈ تھا جبکہ 131 رنز کے عوض 7 وکٹوں کا حصول ان کے کسی میچ میں بہترین کارکردگی تھی۔ 37.17 کی اوسط سے لی گئی وکٹوں میں 2 دفعہ کسی ایک اننگ 2 دفعہ 4 وکٹ بھی شامل تھے فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 9578 رنز دے کر 336 وکٹ حاصل کئے 69/7 ان کی بہترین کارکردگی تھی 28.50 کی اوسط سے لی گئی ان وکٹوں میں 8 دفعہ کسی ایک اننگ میں 5 یا 5 سے زائد وکٹیں اور 1 دفعہ 10 وکٹیں شامل تھیں۔

حوالہ جات[ترمیم]