سیبیل کیکلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیبیل کیکلی
(جرمن میں: Sibel Kekilli خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sibel Kekilli, 2017 (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 جون 1980 (39 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حییلبرونن[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ہامبرگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Germany.svg جرمنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اداکارہ،  فلم اداکارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان جرمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

سیبیل کیکلی (جرمن/انگریزی: Sibel Kekilli، تلفظ: سی بے ل کے کِلّی) (پیدائش: 16 جون 1980) جرمنی سے تعلق رکھنے والی ترک نژاد اداکارہ اور سابق فحش اداکارہ ہے۔ اس نے 2004 میں بننے والی فلم ہیڈ آن سے شہرت حاصل کی۔ سیبیل نے ہید آن اور وین وی لیو نامی فلموں میں اپنی کارکردگی کی بنا پر دو لولا ایوارڈ جیتے۔ 2011 اس نے ایچ بی او کے ڈرامے دی گیم آف تھرونز میں اپنے کردار "شے" سے مزید نامور ہوئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سیبیل کی پیدائش اور پرورش ہائلبرون میں ایک ترک گھرانے میں ہوئی۔ اس کے والدین 1977 میں ترکی سے مغربی جرمنی آئے اور بقول سیبیل کے "کافی آزاد خیال" تھے۔ 16 سال کی عمر میں سکول چھوڑنے کے بعد اس نے دو سال مقامی شہری حکومت کے لیے کام کیا، پھر ایسن منتقل ہو گئی جہاں بہت سی ملازمتیں کیں جن میں "دلارا" کے نام سے فحش فلموں میں کام کرنا بھی شامل ہے۔

عملی زندگی[ترمیم]

2002 میں کلون کے ایک مال میں خریداری کرتے ہوئے سیبیل کو ایک کاسٹنگ ڈائریکٹر نے دریافت کیا۔ اسے فلم ہیڈ آن (جرمن: گے گن ڈی وانڈ ) میں مرکزی کردار کے لیے 350 امیدواروں میں سے چنا گیا۔ فلم 2004 میں جاری ہوئی اور بہت کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ فلمی میلوں میں کئی اعزازات کی فاتح بھی قرار پائی۔ اس کی فلمبندی سیبیل کے لیے ذاتی طور پر جانکش ثابت ہوئی۔ فلم کی ترکی میں عکس بندی کے دوران سیبیل کو اپینڈکس نکلوانا پڑا۔ ہیڈ آن کے اجرا کے ذرا بعد ہی سیبیل کے فحش نگاری میں کام کا چرچا ہو گیا۔ جرمن جریدے بلڈ زائے-ٹونگ میں چھپنے والی رپورٹ عوام میں سنسنی کا باعث بنی اور سیبیل کے والدین نے اس سے تمام روابط منقطع کر دیے۔ اسے 2004 میں ہیڈ آن میں اس کے رول پر "بہترین شوٹنگ ستا رہ " ہونے پر بیمبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹیوی پر نشر ہونے والی قبولیت اعزاز کی تقریر میں سیبیل نے پرنم آنکھوں کے ساتھ اپنے خلاف "گندی بدنامی کی مہم" اور "میڈیا ریپ" کی شکایت کی۔ بعد ازاں جرمن پریس کونسل (دوئچا پغیسے غاٹ) نے بلڈزائے-ٹونگ کی خبر کو غلط انداز سے چھاپنے پر سرزنش کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/129999679 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. بنام: Sibel Kekilli — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/be59bd319dcb4002ac1484e142be46ce — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. اجازت نامہ: CC0