سیزیرین سیکشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیزیرین سیکشن
Caesarian section
Intervention
Cesarian the moment of birth3.jpg
A team performing a Caesarean section.
ICD-10-PCS 10D00Z0
ICD-9-CM 74
MeSH D002585
MedlinePlus 002911

سیزیرین سیکشن یا سی سیکشن ایک جراحی کا عمل ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

سیزیرین آپریشن کو بڑا آپریشن بھی کہا جاتا ہے۔ اس نام کی وجہ کے لیے جو حکایت بیان کی جاتی ہے، اس کے مطابق روم کے بادشاہ جولیس سیزر کی والدہ کے ہاں جب جولیس سیزر صاحب کے آنے کی امید پیدا ہوئی تو اس زمانے کے نجومیوں نے پہلے ہی بیٹے کے آنے کی خبر دے دی۔ اکلوتے ہونے کی وجہ سے جولیس سیزر کو پیدائش سے پہلے ہی ولی عہد کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا۔ جب زچگی کا وقت قریب آیا تو ماہر ترین دائیاں بلائی گئیں تا کہ زچگی کے عمل کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ زچگی ماں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوئی اور بچہ ماں کے کولہے کی ہڈی کے تنگ ہونے جانے کی وجہ سے نارمل ڈلیور نہ ہو پایا .. درد کی شدت سے سیزر کی والدہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہوئی تو سیزر کے والد صاحب نے دائیوں کو پیغام بھجوایا کہ میرے تخت کے وارث کو کچھ ہوا تو تم سب کا زن بچہ کولھو میں پلوا دیا جائے گا۔ اسی دوران سیزر کی والدہ نے آخری سانس لی اور ختم ہو گئی۔ اب کوئی اور رستہ باقی نہ تھا سب سے بڑی دایا نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور وقت ضائع کرنے کی بجائے ایک لمبے خنجر سے ملکہ کا پیٹ چاک کر کے زندہ بچہ باہر نکال لیا ...

۔[1]اس زمانے میں بچہ پیدا ہوتے ہوئے ماں یا بچہ یا دونوں کا جان سے گزر جانا عام بات تھی لیکن سیزر کے معاملے میں ولی عہد کی جان بچانے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا گیا ..اس طرح سیزر کی پیدائش کا ذریعہ بننے والا طریقہ کار دنیا کی ان گنت ماں اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کا سبب بن گیا۔ اس طریقے وضع حمل کو جولیس سیزر کے نام کی مناسطت سے سیزیرین کہا جانے لگا ..

ایک اور روایت[ترمیم]

دنیا میں پہلا سیزیرین جو ریکارڈ پر ہے وہ 320 قبل مسیح میں ہندوستان کے موریا سمراٹ / شہنشاہ بندوسرا کی پیدائش کا ہے - جب بندوسرا کی ہیدائش سے کچھ وقت قبل اس کی ماں نے زہر پی لیا اور اس وقت چانکیا نے خنجر استعمال کرکے بندو سرا کو اس کی ماں کا پیٹ چاک کرکے نکالا گیا - بندو سرا، مشہور شہنشاہ اور موریا خاندان کے بانی مہاراجا چندرا گپتا موریا کا بیٹا اور مہاراجا اشوک کا باپ تھا  [حوالہ درکار]-

سی سیکشن آپریشن کی وجوہات[ترمیم]

بڑے آپریشن میں کم از کم دو زندگیاں شامل ہوتی ہیں یعنی ماں اور بچہ۔ دونوں کے حوالے سے الگ الگ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ماں کی وجوہات[ترمیم]

  • ماں بہت کم عمر ہو یا ضعیف العمر، اس کے لیے محفوظ طریقہ وضع حمل آپریشن ہے۔
  • ماں کی کولہے کی ہڈی کا تنگ ہونا( contracted pelvis )۔ اس صورت حال میں ہر صورت آپریشن ہی کیا جائے گا۔
  • ماں کا بلڈ پریشر انتہائی زیادہ ہونا ( pre (eclampsia یا دورے پڑنا ( Eclampsia )۔ اس میں بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے جسم پر سوجن اور پیشاب میں پروٹین کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ انتہائی سیریس ایمرجنسی ہے جو ماں اور بچے کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
  • پچھلے دو یا دو سے زیادہ آپریشن (previous atleast two c -sections )
  • پرانے زخم میں درد کا ہونا (scar tenderness )
  • ماں میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت ختم ہو جانا ../تھک جانا ( !maternal distress )
  • دردوں کے باوجود رحم کے منہ کا نہ کھلنا۔ .( failure to progress )
  • پیدائش کے راستے میں رکاوٹ کا ہونا مثلارسولی fibroid
  • آنول کا آگے آ جانا (placenta previa complete )۔ اگر آنول اس طرح بنے کہ اس کی خون کی نالیاں رحم کی گہرائی تک چلی جائیں تب ایسی صورت حال میں بے شک بچہ نارمل پیدا ہو یا بڑے آپریشن سے ..ماں کی زندگی بچانے کے لیے آپریشن کر کے کم از کم آنول اور زیادہ سے زیادہ رحم بھی نکالنا پڑ سکتی ہے۔
  • ماں کی خواہش( patient wish ) پر بھی آپریشن کیا جاتا ہے جب وہ نارمل ڈلیوری کروانا ہی نا چاہے۔

بچہ کی وجوہات[ترمیم]

  • پہلا بچہ الٹا ہونا (Breech presentation )
  • بچے کی پوزیشن ترچھی یا مکمل ٹیڑھی ہونا (Oblique or Transverse lie )
  • بچہ کی دل کی ڈھڑکن کا بہت تیز یا بہت مدھم ہو جانا(Foetal distress )
  • بچے کا رحم میں پاخانہ کر دینا (Foetal distress )
  • بچہ اگر زیادہ پل جائے (good size baby ).. یعنی زیادہ وزن اور بڑے سائز کا ہو۔.
  • بچے کا سر بڑا ہو (macrosomia) یا اس کے سر میں پانی ہو(hydro cephalus ). ایسا عموما شوگر کے مریضوں میں ہوتا ہے یعنی بچہ کا سائز زیادہ بڑا ہو جاتا ہے۔ جیسے عام طور پر بچے اڑھائی سے تین کلو تک کے پیدا ہوتے ہیں لیکن شوگر پیشنٹ کا بچہ چار پانچ کلو تک کا بھی ہو سکتا ہے .. لیڈی ولنگڈن میں میں نے 8 کلو کے بچے کی پیدائش بھی دیکھ رکھی ہے۔
  • بچے کا چہرہ سامنے ہونا (face presentation ).. اس صورت میں آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
  • بچہ قیمتی ہونا۔ .(precious pregnancy )۔ ویسے تو ہر بچہ ہی قیمتی ہوتا ہے لیکن سات بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا پہلا بیٹا کتنا قیمتی ہے۔ . یا شادی کے بیس سال بعد ملنے والی بیٹی کی اہمیت کیا ہے .. ایک کپل کے چار پانچ حمل ضائع ہو جانے کے بعد ملنے والی اولاد کی کیا وقعت ہے .. یہ سب وہی جان سکتے ہیں جو اس سے گزرے ہیں ..
  • precious pregnancy کو بھی آپریشن سے ڈلیور کیا جاتا ہے۔ .

دیگر وجوہات[ترمیم]

ماں اور بچے کے علاوہ کچھ چیزیں اور بھی اہم ہیں . مثلا بچے کی تھیلی میں پانی کی مقدار کم، بہت کم یا بہت زیادہ ہونا۔ . فوڈ پائپ (کارڈ umbilical cord) کا بچے کی گردن میں لپٹ جانا یا cord accidents placental or .. مثلاً کارڈ کا ٹوٹ یا اکھڑ جانا .اور خون کا ضائع ہونا (concealed ' hemorrhage ..revealed ) , کارڈ کا بچہ کی پیدائش سے پہلے رحم سے باہر نکل آنا .. ماں کے رحم اور بچے کی پوزیشن کا ایک دوسرے کی سیدھ میں نہ ہونا۔..دردوں کی حالت میں بچے کا غلط رخ پر گھوم جانا جس کی وجہ سے نارمل کے طور پر شروع کیا جانے والا کیس سیزیرین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

  • ماں کی تکلیف کی شدت اور طوالت سے اقربا میں بے چینی کا پھیلنا۔
  • مریض یا اقربا کا ڈاکٹر کی صلاحیت پر عدم اعتماد اور اس کا اظہار
  • میڈیا کا ہر جگہ پہنچ جانا اور ہمیشہ ڈاکٹر کے خلاف پارٹی بننا۔ . جس سے ڈاکٹر کی ریپوٹیشن خراب ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ ۔

ان وجوہات کی وجہ سے کسی برے نتیجہ سے بچنے کے لیے بھی آپریشن کا فیصلہ نسبتا جلد لے لیا جاتا ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]