شاہ قلی خان (گورنر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ قلی خان (انگریزی: Shah Quli Khan) 16 صدیمغلیہ سلطنت کے اہلکار، گورنر اور فن کے دلدادہ تھے۔ شاہ قلی خان نے نارنول, بھارت میں مغلیہ سلطنت کے گورنر کے فرائض سر انجام دیے۔ اپنی گورنری کے دوران شاہ قلی خان نے ریاست میں بہت سی مشہور عمارات تعمیر کرائیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

نارنول کا جل محل، جسے شاہ قلی خان نے 16 ویں صدی میں تعمیر کرایا تھا

قلی خان 16 ویں صدی میں مغلیہ سلطنت کی اثر ورسوخ رکھنے والے خاندان سے تھے۔ قلی خان بیرم خان کے ساتھ کام کر چکے تھے۔بیرم خان نے جلال الدین اکبر کے ابتدائی دور میں نائب السلطنت (ریجنٹ) کے طور پر بھی کام کیا تھا۔ بیرم خان کے ساتھ تعلق کی وجہ سے قلی خان کو مغلیہ دربار میں بہت سے حامی مل گئے تھے۔[1] 1550 کی دہائی میں مغلوں اور سلطنت سور کے بیچ لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا[1]۔جنگ کے دوران قلی خان کو مغل فوج کے ساتھ تعینات کیا گیا۔لڑائی کےد وران انہوں نے نمایاں شہرت حاصل کیا۔ 1556ء میں قلی خان نے پانی پت کی دوسری لڑائی میں سلطنت سور کی فوج کے کے کمانڈر کے خلاف لڑائی لڑی اور فتح حاصل کی۔[1] اس لڑائی کی فتح نے مغلوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ شہنشاہ اکبر نے قلی خان کو دولت، خطاب اور زمین عطا کی۔ [1][2] 1570ء کی دہائی میں مغلوں نے انہیں نارنول کا گورنر بنا گیا۔ [2] بطور گورنر قلی خان نے پوری ریاست میں کئی بڑے تعمیراتی پروگرام شروع کیے۔ ان کا پہلا بڑا تعمیراتی پروگرام اپنے لیے ہی مقبرے کی تیاری تھا۔ مغلیہ طرز تعمیر کا یہ شاندار شاہکار مقبرہ 1774 اور1775 کے درمیان مکمل ہوا۔ [1], [1] اس مقبرے میں منصوبہ بندی کے ساتھ باغ بھی لگایا گیا۔ .[1] اپنے مقبرے کی تعمیر کے 15 سالوں بعد قلی خان نے اپنے لیے ایک محل کی تعمیر شروع کی۔ یہ عمارت جل محل کے نام سے مشہور ہوئی۔ [2] یہ محل ایک مصنوعی جھیل کے بیچ میں بنایا گیا ہے۔[1]

وفات[ترمیم]

شاہ قلی خان بہت سخی تھی۔ ان کا کوئی وارث نہیں تھا۔ اسی وجہ سے مرتے ہوئے انہوں نے اپنی جائداد اپنے مصاحبوں میں تقسیم کر دی۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح ASHER، CATHERINE؛ Asher، Catherine B.؛ Asher، Catherine B. (1992-09-24). Architecture of Mughal India (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. ISBN 9780521267281. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. ^ ا ب پ Aexander Mikaberidze, (2011). Conflict and Conquest in the Islamic World a Historical Encyclopedia. Santa Barbara: ABC-CLIO. p. 707. بین الاقوامی معیاری کتابی عدد 9781598843378.