شرمیلاپن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک تمل بولنے والی خاتون کیمرے سے اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے بچنے کی کوشش کے طور پر اپنے چہرے کے آگے ہاتھ رکھ رہی ہیں۔

شرمیلاپن یا شرمیلا پن (انگریزی: Shyness) ایک تذبذب، بے چینی یا اکھڑے پن کا جذبہ جو کوئی شخص دوسرے لوگوں کی موجودگی میں محسوس کرتا ہے۔ یہ عام طور سے نئے ماحول یا نامعلوم لوگوں کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔ شرمیلاپن ان لوگوں میں بہ طور خاص عام ہو سکتی ہے جن خود کی شناخت کا احساس کم ہے۔ سخت قسم کے شرمیلے پن کو سماجی تجسس یا سماج کے خوف کا نام دیا جاتا ہے۔ شرمیلاپن کی تعریف طے کرنے والی خصوصیت اپنی انا سے تیار کردہ یہ خوف ہے کہ دوسرے لوگوں کسی شخص کے برتاؤ کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص بہت زیادہ اس بات سے خوف زدہ ہو جاتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے یا کیا کہ رہا ہے، جس پر کہ شاید منفی رد عمل ظاہر ہوگا، جگ ہنسائی ہوگی، شرم سار کیا جائے گا یا اس سر پرستی کی جائے گی، اسے تنقید کا نشانہ بنایاجائے گا یا مسترد کیا جائے گا۔ ایک شرمیلا شخص ایسی سماجی صورت حال سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر سکتا ہے۔ [1]

شرمیلاپن، غیر معمولى طور سے اپنے آپ پر توجہ کرنے کے طور پر دوسروں سے روبہ رو ہونے سے بچنے کے معنى میں ہے ـ شرمیلا پن حیا کے مترادف نهیں ہے، حیا، قدرت نفس کے معنى میں ہے، جو ایک ارادى و قابل قدر امر ہے ـ لیکن شرمیلا پن مکمل طور پر ایک غیر ارادى مظہر ہے جو ناپسند اور انسان کى روحى ناتوانى کى حکایت کرتا ہے۔ خجالت اور شرمیلے پن کى بنیادیں حسب ذیل امور پر مشتمل هیں: احساس کم ترى، احساس تنہائى، گوشہ نشینى کا خوف، مذاق کا سبب بننا، قابل قبول نہ هونا، اپنى جسمانى یا باطنى عیبوں کو بڑا جاننا، انکسارى کو شرمیلا پن سمجھنا اور خود اعتمادى کا فقدان وغیره۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Shyness and social phobia". Royal College of Psychiatrists. 2012. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2014. 
  2. شرمیلے پن کى بنیاد کیا ہے ؟