ظفرنامہ رنجیت سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیتا رام کوہلی کا مدون کردہ ظفرنامہ رنجیت سنگھ کے نسخہ کا ابتدائیہ- 1928ء

ظفرنامہ رنجیت سنگھ (وقائع نامہ فتوحات مہاراجا رنجیت سنگھ) دیوان امرناتھ کی تصنیف ہے جس میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی فتوحات کا تذکرہ ہے۔سکھ سلطنت کی ابتدائی فتوحات سے متعلق اِس کتاب کو مؤرخین مصدقہ تسلیم کرتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ظفرنامہ رنجیت سنگھ کب تحریر میں آیا؟۔ اِس حوالے سے محققین کی رائے ہے کہ غالباً یہ کتاب 1837ء سے 1840ء کے دورانیہ میں تحریر میں لائی گئی کیونکہ اِس کتاب کا اِختتام 1837ء کی فتوحات پر ہوجاتا ہے اور کتاب کے اِختتام پر مہاراجا رنجیت سنگھ کی وفات اور 1837ء کے بعد کے احوال و واقعات مذکور نہیں ہیں۔ اِس سے کتاب کی حتمی تاریخ 1837ء معلوم ہوتی ہے۔

فارسی متن[ترمیم]

کتاب اصلاً فارسی زبان میں ہے۔ ظفرنامہ سے مراد وہ کتاب ہوتی ہے جس میں بادشاہ یا کسی شہنشاہ یا حکمران کی فتوحات کا تذکرہ کیا جائے۔ اِس کتاب میں دیوان امرناتھ نے مہاراجا رنجیت سنگھ کی 1800ء سے 1837ء تک کی فتوحات کی تفصیلات تحریر کی ہیں جو مؤرخین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر وقائع ہیں۔[1] دیوان امرناتھ کی حیثیت وقائع نگار کی سی ہے جو اِن فتوحات کا تذکرہ روز بہ روز کی طرز پر تحریر کرتا رہا ہے۔ کتاب برابر چار مختلف حصوں میں منقسم ہے۔

اصل فارسی متن میں جو واقعات مذکور ہیں، وہ 1822ء سے قبل کے دیوان امرناتھ نے مختلف کتب سے اخذ کیے ہیں مگر اُن کتب کا حوالہ نہیں لکھا، علاوہ ازیں اِس میں کچھ سرکاری کتب اور شاہی معاہدات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس میں 41 ابواب موجود ہیں۔ 1830ء اور اُس کے بعد کے کئی حالات کا مصنف خود عینی شاہد ہے۔ دوسرے حصہ میں لاہور کے باغات اور اُن سے مہاراجا رنجیت سنگھ کی نگہداشت سے متعلق مواد موجود ہے۔ اِسی حصہ میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی وصیت بھی مذکور ہے۔ تیسرے حصہ میں عشقیہ نظمیں موجود ہیں اور بعد ازاں مرزا اکرم بیگ اور الٰہی بخش سے متعلق احکامات اور واقعات مذکور ہیں۔ چوتھے حصہ میں مہاراجا رنجیت سنگھ کے اعزاز میں ایک طویل نظم بزبانِ فارسی موجود ہے۔[1] فارسی متن کا یہ نسخہ مؤرخ سیتا رام کوہلی نے لاہور سے 362 صفحات پر شائع کروایا۔[2]

پنجابی متن[ترمیم]

ظفرنامہ رنجیت سنگھ کا پنجابی متن (گرمکھی) جو پٹیالہ، بھارت سے 1983ء میں شائع کیا گیا۔ اِس کتاب میں نمایاں مقامات میں چند مشہور مقامات میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی فتوحات سنہ 1800ء سے لے کر فتح کانگڑہ 1809ء تک اور بعد ازاں خالصہ فوج کو نئے انداز پر منظم کرنے کے واقعات اور مہاراجا رنجیت سنگھ کی اصلاحات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اشاعت[ترمیم]

ظفرنامہ رنجیت سنگھ کا پہلی بار فارسی متن سیتا رام کوہلی نے لاہور سے 1928ء میں شائع کیا اور پنجابی زبان (گرمکھی لہجہ) میں پٹیالہ، بھارت سے 1983ء میں شائع کی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب انسائیکلوپیڈیا آف سکھ اِزم: جلد 4، صفحہ 452۔ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی، پٹیالہ، 2011ء۔
  2. سیتا رام کوہلی: ظفرنامہ رنجیت سنگھ، مرتب کردہ: سیتام رام کوہلی در زبانِ فارسی، مطبوعہ لاہور، 1928ء