عبد اللہ بن سعد ابی سرح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد اللہ بن سعد ابی سرح صحابی رسول اور کاتب وحی ہیں یہ عثمان غنی کے رضاعی بھائی ہیں، فتحِ مکہ سے پہلے ہی ایمان قبول کیا اور ہجرت کی، پھر شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہو گئے اور مشرکینِ مکہ سے جا ملے، فتحِ مکہ کے دن عثمان غنی کی سفارش پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امان دیا، پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بہت پختہ مسلمان رہے، اسلام ہی پر ان کا خاتمہ ہوا [1]

ارتداد سے پہلے دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں کتابت کا بھی موقع نصیب ہوا، اہلِ تاریخ و سیر کا اس پر اتفاق ہے۔ [2]

ان کے سلسلے میں بعض کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ: ابن ابی سرح قرآن مجید کی کتابت میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے، اس پر ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی نے بڑی مفصل گفتگو فرمائی ہے انہوں نے متعدد روایتوں کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

”حقیقت یہ ہے کہ سارا قصہ غلط ہے اور ابن ابی سرح کی طرف غلط منسوب ہے․․․․ اس طرح کی بات کی نسبت متعدد لوگوں کی طرف کی گئی ہے، انھیں میں سے عبداللہ بن خطل انصاری بھی ہے، جو مرتد ہو کر مرا تھا اور دفنائے جانے کے بعد زمین نے اس کو باہر پھینک دیا تھا، [3]

قرآن مجید کی ہر قسم کی تحریف سے سلامتی ،اللہ تعالیٰ کا اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھانا اور نبی اکرم ﷺ کی قرآن مجید کے معاملہ میں نمایاں درجہ کی احتیاط جس کی شہادت دوستوں سے قبل دشمنوں نے دی، ان تمام چیزوں کی موجودگی میں،ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ ہم قرآن مجید میں تغیر کے اس قسم کے قصوں کو تسلیم کر لیں، خصوصاً ایسی روایات کی بنا پر جو بے سند ہیں اور جن کو ابن ابی سرح کے دشمنوں نے تراشا اور پھر ان سے دوسروں نے نقل کی۔

”معتمد علیہ قدیم مصادرمیں ابن ابی سرح کے متعلق اس قسم کا کوئی قصہ مذکور نہیں ہے ، قدیم مصادر میں سے ہمارے پاس سیرة ابن ہشام، سیرة ابن اسحاق وغیرہ ہیں ان میں صرف کتابت اور ارتداد کی بات ہے اور بس“۔

” اصل میں یہ حکایت ابن کلبی سے منقول ہے جو شیعہ تھا اور عثمانیوں کا دشمن تھا اور واقدی سے منقول ہے جو ضعیف بلکہ وضعِ حدیث کیساتھ متہم تھا ۔“اخیر میں خلاصہ کے طور پر لکھتے ہیں:

”کاتبانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کوئی ایسی بات کہ فلاں اور فلاں قرآن میں تحریف کیا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم اس سے غافل تھے، جھوٹی اور خلافِ واقع بات ہے، دین اس قسم کی ہفوات کو تسلیم کرتا ہے نہ علمی مباحث میں ایسی باتوں کو کوئی حیثیت حاصل ہے“۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاستیعاب 2/ 375، فتح الباری 8/ 11، البدایہ والنہایہ 5/35
  2. (سیرة ابن ہشام 3/ 405، تاریخ خلیفہ بن خیاط 1/ 77
  3. تاریخ القرآن ص 55
  4. ”نقوش“ رسول نمبر 7/ 173 تا 176