عطیہ داؤد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عطیہ داؤد
Attiya Dawood.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اپریل 1958 (62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عطیہ داؤد کی پیدائش یکم اپریل 1958ء کو ہوئی۔[1] وہ ایک سندھی شاعرہ اور مصفہ ہیں۔ وہ مولڈینو لاڑک نوشهرو فیروز ، سندھ ، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں۔[2][3] انہیں اپنے وقت کی ایک انتہائی اہم سندھی مصنفہ کی حیثیت سے سراہا گیا ہے[2] عطیہ دائود نے اپنی شاعری کا استعمال روایت کے نام پر پاکستانی معاشرے میں خواتین پر ہونے والے ظلم کو اجاگر کرنے کے لئے کیا ہے۔ وہ 1980 سے اشعار لکھ رہی ہیں۔ [3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عطیہ داؤد سن 1975 میں کراچی منتقل ہوئیں ، اور 1980 سے باقاعدگی سے شاعری لکھ رہی ہیں۔ [2][3] ان کے والد اسکول کےاستاد ، شاعر اور حافظ تھے۔[3][2] سندھی زبان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی ان کی پہلی نظم کو ، ان کے بھائیوں کی طرف سے منفی ردعمل ملا جس کے تتیجے میں انھوں نے اپنا نام عطیہ لاریک سے تبدیل کرکے عطیہ داؤد رکھ لیا [3] عطیہ داؤد کی سوانح عمری کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 2009 میں شائع کیا تھا۔ اس سے قبل کا اس کا ایک ورژن ہندوستان میں ہندی میں سن 2000 میں راجکمال پرکاشن نے شائع کیا تھا۔عطیہ داؤد نے اپنی زندگی کی کہانی نئی دہلی کے سنسکرتی مرکز میں رہائش گاہ کے دوران میں لکھی [3][2][4] ایک ایسا ادارہ جو فنکاروں کی مدد کرتا ہے۔[5][6]

منتخب کام[ترمیم]

عطیہ داؤد کے پاس ان کی ساکھ کے لئے بے شمار اشاعتیں ہیں۔ وہ زیادہ تر سندھی میں لکھتی ہیں۔ وہ دیہی سندھ میں لڑکیوں کے تکلیف دہ تجربات سے متاثر ہوئیں۔[7][4] اس کی نظموں کا جرمن ، انگریزی اور اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔[8] ان کی شاعری اخلاص اور جوش کے لئے مشہور ہے۔ [9]

ایواڈ [6][7][ترمیم]

2001 میں انہیں سندھی ادیب ایوارڈ سے نوازا گیا جو اکھیل بھارت سندھی بولی اور سہیت سبھا انڈیا کی جانب سے دیا گیا۔ ساہتیہ اکیڈمی بھوپال میں ان کے اعزاز میں دو ادبی نشستیں بھی ہوئیں۔

شاعری [8][ترمیم]

امر گیت

سفر

بےرنگ تصویر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. User، Super. "Attiya Dawood (Member)". www.iefsindh.org (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ "T2F » In Their Own Voice: Attiya Dawood". www.t2f.biz (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث "URDU LITERATURE: Story of a lifetime". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 2010-01-31. اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  4. ^ ا ب Baloch، Saher (2013-12-19). "Diary of a six-year-old's pastoral experiences". DAWN.COM (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  5. "Sanskriti Kendra". www.sanskritifoundation.org. اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  6. ^ ا ب "Rebellion in Writing: Pakistani Author Attiya Dawood". REVOLUTIONS IN MY SPACE: A BLOG BY RITA BANERJI (بزبان انگریزی). 2010-11-12. اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  7. ^ ا ب Editor، Chief (2010-12-05). "Who is who in Pakistan: Attiya Dawood". Who is who in Pakistan. اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  8. ^ ا ب "Poets translating Poets – Poets – Goethe-Institut". www.goethe.de (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017. 
  9. "Attiya Dawood & Her Writings: Feminist writings by Pakistan's leading activist-poet". www.geocities.ws. اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2017.