علی بنات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی بنات
(انگریزی میں: Ali Banat ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 16 فروری 1982  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سڈنی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 مئی 2018 (36 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سڈنی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سرطان  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Australia (converted).svg آسٹریلیا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ کاروباری شخصیت،  انسان دوست،  سماجی کارکن،  کارجو  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل انسان دوست  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علی بنات (16 فروری 1982ء[1]29 مئی 2018ء) آسٹریلیا کے ایک کاروباری شخص تھے جو اپنی دستاویز فلم "سرطان کا تحفہ" کی بنا پر خاصے مشہور ہوئے۔ اپنی اس فلم میں علی بنات نے سرطان سے متعلق یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ اس بیماری کا شکار ہونا گویا ایک نعمت یا عطیہ ہے۔[2]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

علی بنات آسٹریلیا میں مقیم تھے جہاں ان کے کئی کاروبار چلتے تھے۔ سنہ 2015ء میں انہیں پتا چلا کہ وہ سرطان کا شکار ہو چکے ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنی بقیہ زندگی خیراتی کاموں میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ علی بنات نے سرطان ایک تحفہ ہے کے عنوان سے ایک ویڈیو بنائی جس میں ان کے ایک دوست محمد ہوبلوس ان کا انٹرویو لے رہے ہیں اور اس ویڈیو کو تیار کرکے انہوں نے یوٹیوب پر شائع کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے سارے کاروبار کو سمیٹا اور اپنی ساری پونجی لے کر مغربی افریقا کے ایک غریب ملک ٹوگو پہنچ گئے۔ اس ملک کی پچپن فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے اور ملک کے باشندگان میں بارہ سے بیس فیصد مسلمان ہیں۔ علی بنات نے بڑی سرعت سے اپنی رقم کو صرف کرنا شروع کیا، مسجد بنائی اور بچوں کے لیے اسکول اور مکتب قائم کیے۔ جلد ہی انہیں خیال آیا کہ ان خیراتی کاموں کے لیے ایک منصوبہ بند پروگرام بنایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے "دنیا بھر کے مسلمان" (Muslims around the World) کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا اور اگلے تین برسوں میں 797 ہزار ڈالر جمع کر لیے اور ان سب کو خیراتی کاموں میں صرف کرتے رہے۔[3]

وفات[ترمیم]

سنہ 2015ء میں علی بنات کو معلوم ہوا کہ وہ سرطان کا شکار ہیں۔ ان کے معالج کا کہنا تھا کہ علی بس سات مہینوں کے مہمان ہیں، لیکن وہ تین برس تک زندہ رہے۔ بالآخر علی بنات نے اسی موذی مرض میں 29 مئی 2018ء کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں وفات پائی اور 30 مئی کو ان کی تدفین ہوئی۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Ali Banat: the man with the Gift of Cancer - Daily Times". Daily Times (امریکی انگریزی میں). 2018-05-31. مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-31.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  2. Gifted with Cancer - Emotional & True Story، 2015-11-17، اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-01  Unknown parameter |news= ignored (|newspaper= suggested) (معاونت)
  3. بريس، هوية (2018-06-01). "مليونير مسلم.. اعتبر السرطان نعمة ووهب ثروته للمحرومين". هوية بريس (بزبان عربی). 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 جون 2018.