عہد مغلیہ کے ہندو علما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عہد اکبری  کے ہندو علما[ترمیم]

شہنشاہ اکبر کے دربار میں جہاں بڑے بڑے عالم فاضل اور باکمال مسلمان جمع تھے وہیں بڑے بڑے قابل اور نامور منڈتوں کو ہی اعزاز اور رتبہ حاصل تھا۔ ابو الفضل نے آئین اکبری اور جہاں دانش اندوزان دولت کی فہرست دی ہے ہندو علما کے حسب ذیل نام شمار کیے ہیں۔ مہا دیو، بھیم ناتھ، بابا بلاس، نرائن ، سیو جی، مادھو ، رام بھدر، سری بھٹ ، مادھو سرستی، جدروپ ، بشن ناتھ، مدسوون ، رام کشن ، نارائن اسرم ، ملہدر مصر، ہزجی سور، باسدیو مصر، دانو درہٹ ، باہن بھٹ، رام تیرتھ، بدہ نواس، نرسنگ گوری ناتھ، برم اندر، گوپی ناتھ، بجی سین سور، کشن پنڈت ، نہال چند، پھٹا چارچ، کاشی ناتھ۔

عہد جہانگیری کے ہندو علما[ترمیم]

جہانگیر کے دربار میں پھٹا چارچ بنارسی ، پھتان مصر، جدوپ سناسی، جوتکر اے انجم کو بڑی عزت و تکریم حاصل تھی۔

عہد شاہجہانی کے ہندو علما[ترمیم]

شاہجہان کے دربار میں ہرناتھ ایک ہندو فاضل خطاب مہاپاتر سے موصوف تھا۔ 15 شوال 1049ھ کو خلعت اور اسپ و فیل کے ساتھ ایک لاکھ دام اس کو انعام میں شاہجہان نے مرحمت کیا۔ اسی طرح جگ ناتھ خطاب مہا کب رائے (ملک الشعرا ) سے موصوف تھا۔ بادشاہ کی اس پر اس قدر نظر نظر عنایت تھی کہ کئی دفعہ روپوں سے اس کو تلوا کر ہم وزن زر انعام عنایت کیا۔ ان کے علاوہ بنارس کے ایک فاضل برہمن کی دو ہزار روپیہ سالانہ پنشن مقرر تھی۔

عالمگیر کے عہد کا ہندو فاضل[ترمیم]

اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں سندر نام کا ایک برہمن بہت لائق و فائق تھا۔ خطاب کب رائے سے موصوف تھا۔ غرض کہ کوئی اسلامی دربار ایسا نہ تھا جس میں ہندو فاضل اعزاز و توقیر کے ساتھ موجود نہ تھے۔ اس کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ بھاری بھرکم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ عہد مغلیہ میں جتنی جاگیریں ہندو علما اور منصب داروں کو عطا ہوئیں تھیں ان میں سے زیادہ تر اس وقت بھی موجود ہیں جس کی تصدیق ہر ضلع کے رجسٹر معافیات سے ہو سکتی ہے۔ پہاڑی پٹھانوں نے جو پرگنہ جالور (ریاست جودھ پور ) کے رئیس تھے، کئی گاؤں برہمنوں کو جاگیر میں دے رکھے تھے وہ اب تک ان کے قبضے میں موجود ہیں۔

کتابیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عہد مغلیہ میں ہندو امرا ، منشی محمد سعید احمد مارہروی