فاطمہ بیوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فاطمہ بیوی
تفصیل=

Governor of Tamil Nadu
مدت منصب
25 جنوری 1997 – 3 جولائی 2001
Fleche-defaut-droite-gris-32.png کرشن کانت
Dr. C. Rangarajan Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Member of National Human Rights Commission of India
مدت منصب
1997 – 2001
judge at بھارتی عدالت عظمیٰ
مدت منصب
6 اکتوبر 1989 – 29 اپریل 1992
معلومات شخصیت
پیدائش 30 اپریل 1927 (92 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پتانم تیٹا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایم فاطمہ بیوی (پیدائش 30 اپریل 1927ء) سپریم کورٹ آف انڈیا کی سابقہ جج ہیں۔ 1989ء میں ان کو مسند عدالت کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ پہلی خاتون جج تھیں جن کو سپریم کورٹ آف انڈیا کا حصہ بنایا گیا اور پہلی مسلمان خاتون کے طور پر ملک کے نظام عدلیہ میں بھرتی ہوئیں[1][2][3][4][5][6]۔ عدالت سے ریٹائرمنٹ پر قومی انسانی حقوق کمیشن کی رکن کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور اس کے بعد 1997ء سے 2001ء تک ریاست تاملناڈو بھارت کی گورنر کی حیثیت سے کام کیا۔ فاطمہ بیوی 30 اپریل 1927ء کو پتھینا متھیٹٹا ، تریونکور ، جو اب بھارتی ریاست کیرالہ کا حصہ ہے، میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد اناویتل میرا صاحب اور والدہ خدیجہ بی بی تھی۔ انہوں نے کیتھولک ہائی اسکول پتھینامتھیٹٹا سے اپنیاسکول کی تعلیم مکمل کی اور بی ایس سی یونیورسٹی کالج تریونڈم سے حاصل کی۔ انہوں نے اپنا بی ایل گورنمنٹ لا کالج تھروانتھپورم سے مکمل کیا۔ فاطمہ کو14 نومبر 1950ء میں ایڈووکیٹ کی حثیت سے داخلہ ملا۔ انہوں نے کیرالہ میں چھوٹی عدلیہ میں اپنا کیرئیر شروع کر دیا۔ انہیں مئی 1958ء میں ذیلی -باضابطہ عدالتی کارروائی میں منصف کے طور پر مقرر کیا گیا۔ 1968ء میں ذیلی باضابطہ جج کے طور پر ان کی ترقی ہوئی اور 1972ء میں چیف جسٹس مجسٹریٹ ڈسٹرکٹ اور 1974ء میں سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ جنوری 1980ء میں وہ جوڈیشل رکن کی حیثیت سے انکم ٹیکس سے متعلق اپیل کی ضابطہ کارروائی میں مقرر ہوئیں۔ 4 اگست 1983ء میں ہائی کورٹ کی جج کے طور پر ان کی ترقی کی گئی۔ 14 مئی 1984ء میں ہائی کورٹ کی مستقل جج بن گئیں۔ 29 اپریل 1989ء کو انہیں ہائی کورٹ کے جج کر طور پر ریٹائر کیا گیا لیکن پھر 6 اکتوبر 1989ء کو مزید دو سال کے لیے جج کی حیثیت پر باقی رکھا گیا۔ اور یوں ان کی ریٹائرمنٹ 2 اپریل 1991ء میں ہوئی۔ پھر اس کے بعد وہ 25 جنوری 1997ء میں ریاست تاملناڈو کی گورنر مقرر ہوئیں۔ ریاستی گورنر کی حیثیت سے اس نے راجیو گاندھی قتل کیس کی مذمت کی اور اس میں ملوث چار قیدیوں کی رحم کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "M. FATHIMA BEEVI"۔ supremecourtofindia.nic.in۔ مورخہ 5 دسمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2009۔
  2. "Welcome to Women Era.۔."۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-01-15۔
  3. "Women in Judiciary"۔ NRCW, Government of India۔ مورخہ 23 دسمبر 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-01-15۔
  4. "FIRST WOMEN OF INDIA:"۔ womenofindia.net۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-01-16۔
  5. "Convict Queen"۔ india-today.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-01-16۔
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ highcourtofkerala نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Governors of Tamil Nadu