قائم چاندپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قائم چاندپوری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1722  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بجنور ضلع  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1793 (70–71 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رام پور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارتی شہری  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قائم چاندپوری (پیدائش: 1722ء– وفات: 1793ء) اٹھارہویں صدی عیسوی میں اردو زبان کے شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری میں غزل کی صنف میں لکھنے والے اہم ترین شعرا میں سے ہیں۔ قائم چاندپوری مير تقی میر، خواجہ میر درد، مرزا محمد رفیع سودا، شیخ قلندر بخش جرات، شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی کے ہم عصر تھے۔

پیدائش[ترمیم]

قائم چاندپوری کا اصل نام محمد قیام الدین علی تھا۔ عرف محمد قائم اور تخلص بھی قائم ہی تھا۔1134ھ/ 1722ء میں چاندپور، بجنور میں پیدا ہوئے۔

اردو شاعری سے شغف[ترمیم]

قائم چاندپوری نوجوانی سے ہی اردو شاعری میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ علاوہ ازیں اُن کے زمانہ میں اردو زبان کے ممتاز ترین شعرا بقیدِ حیات تھے جن میں مير تقی میر، خواجہ میر درد، مرزا محمد رفیع سودا، شیخ قلندر بخش جرات، شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی شامل تھے۔ خواجہ میر درد کے شاگرد ہوئے مگر چند عرصہ بعد الگ ہو گئے۔ 1155ھ/ 1742ء میں جب شاہ عالم ثانی کے عہد میں دہلی میں غارت گری ہوئی تو ٹانڈہ کے مقام پر زندگی بسر کرنے لگے اور نواب محمد یار خان کی خدمت میں آ گئے۔ ٹانڈہ میں شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ چند دن کے بعد قائم چاندپوری نے شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی کو نواب محمد یار خان کے شعراء میں شامل کروا دیا۔

قائم چاندپوری بحیثیت شاعر[ترمیم]

قائم چاندپوری کا کلام اردو شاعری کی ہر صنف میں موجود ہے جیسے کہ غزل، رباعی، قطعہ، ٘مثنوی، قصیدہ، ترکیب، تاریخ اور بند۔ گویا ہر صنف شاعری میں قائم چاندپوری نے کلام کہا ہے۔ بعض اوقات ہجو اور فحش اشعار بھی کلام میں جابجا ملتے ہیں۔ قصیدہ پر بہت زور دیا ہے اور اکثر قصیدہ میں تلخ ترین اشعار بھی موجود ہیں۔ شاعری میں ایک دیوان بنام کلیاتِ قائم شائع ہوا ہے۔

تصنیف[ترمیم]

قائم چاندپوری کی تصانیف میں سے ایک تذکرہ مخزن نکات میسر آسکی ہے جو غالباً 1168ھ/ 1754ء میں تحریر کی گئی۔ اِس تصنیف میں ہر زمانے کے اردو شعرا کا تذکرہ ہے اور اِس کو مستند خیال کیا جاتا ہے۔

آخری ایام اور وفات[ترمیم]

رام پور میں قیام ٹانڈہ کے دوران یہیں ہنگامہ غارت گری واقع ہوا تو یہاں سے ہجرت کرتے ہوئے رام پور پہنچے اور عرصہ تک قیام رہا۔ رام پور میں قیام کے دوران تنخواہ قلیل تھی تو لکھنؤ چلے آئے۔ لکھنؤ میں راجا ٹکیت رائے سے اپنی جائداد اور وطن کے عامل کے نام شقہ حاصل کیا اور قدیمی یومیہ بحال کروا لیا۔ لکھنؤ میں قیام کے بعد رام پور چلے آئے اور چند دن بعد 1208ھ/ 1793ء میں 71 سال کی عمر میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]