محمد اشفاق چغتائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد اشفاق چغتائی

محمد اشفاق چغتائی ایک [1]عظیم صوفی اور ادیب تھے۔ وہ پابچ مئی انیس سو اٹھاون میں [2] میں پاکستان کے شہر میانوالی میں پیدا ہوئے انہوں نے اردو میں رباعی کی مشکل صنف کو زندہ جاوید کر دیا۔ ان کے رباعیات کے مجموعہ کا نام صراحی ہے]۔ اس کے علاوہ ان کا شعری مجموعہ چراغ کے نام سے شائع ہوا۔ تصوف کے موضوع پر ان کی دو کتابیں فقرِغیور اور تصورِ شہود و وجود کی بہت اہمیت ہے۔ ان کا تعلق میانوالی سے تھا۔ منصور آفاق نے ان کے حالات زندگی پر ایک کتاب اشفاق/آفاق== "کپکپاتی ہوئی یاد" [3] کے نام سے تحریر کی ہے۔ انہوں نے اٹھارہ نومبر دو ہزار] میں پاکستان کے شہر اسلام آباد میں وفات پائی۔ انہیں اہل علم و دانش بیسویں سدی کا کا عظیم صوفی شاعر قراردیتے ہیں۔منصور آفاق نے ان کے حوالے سے لکھا ہے {جہاں میں ہوں وہاں اکثر اوقات گردش ِ سرمایہ سے اکتائے ہوئے دوست احباب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ جو تیرے باطن کی بانسری سے نور و نکہت کے نغمے نکلتے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں۔ بظاہر تو ترے ماضی اور حال میں کوئی ایسا سُر نہیں دکھائی دیتا جس میں روحانیت کا سرگم موجود ہو۔ یہ سب کچھ کہاں سے ملا ہے تجھے۔۔۔۔ تو مجھے مجبور کہنا پڑتا ہے کہ یہ لازوال گیت، یہ الوھی نغمے میرے نہیں ہیں میں تو اپنے بھائی محمد اشفاق ؒ چغتائی کے لفظوں کی جگالی کرتا ہوں۔۔۔۔}

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد اشفاق چغتائی
  2. http://www.globalurduforum.org/authors/view/7607
  3. [httتp://kitaben.urdulibrary.org/Pages/Kapkapati.html کپکپاتی ہوئی یاد بقلم منصور آفاق]