محمد حسین نیلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد حسین نیلوی شاہ صاحب دیوبندی مکتب فکرکےمشہور عالم دین ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کاپورانام محمدحسین ھے آپکانسب کچھ یوں ہے :محمدحسین بن گل محمدبن محمدافضل بن بدرالدین بن سلطان احمدبن الغازی لطف الله بن نورمحمد[1]

پیدائش[ترمیم]

آپ صفرالمظفر 1341ھ بمطابق ستمبر 1922ء کو بمقام نیلہ ضلع چکوال میں اپنے ننہال کے ہاں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے آپ نیلوی کہلائے [1]

خاندان[ترمیم]

آپ کا تعلق ایک دیندار گھرانے سے تھا جو بھگوال ضلع چکوال میں آباد تھا آپ کے چچا محمد شاہ جہلمی معروف عالم دین اور حسین علی الوانی کے خلیفہء مجاز تھے۔ آپ کے جدامجد نور محمد بھی صوفی منش انسان تھے جن کا مزار آج بھی چکوال میں واقع ہے

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ چارسال کےتھےکہ آپ کےچچامحمدشاہ جہلمی انہیں اپنےساتھ چنیوٹ لےآئےاورآپ کی تعلیم وتربیت کاغیرمعمولی انتظام فرمایاآپ نے15سال تک چنیوٹ کی مختلف مساجدمیں رہ کراپنےچچاسےمختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کی اس کےعلاوہ عصری علوم اورفن کتابت سیکھنےکےلیےماسٹرعنایت الله گجراتی کی خدمات حاصل کیں(ناشرالقرآن ص 14،15)۔ عصری علوم اورفنون میں مہارت حاصل کرنےکےبعدآپ کےچچانےخط دےکرآپ کواپنے پیربھائی ولی الله کےہاں موضع انہی تحصیل ملکوال ضلع منڈی بہاو الدین بھیجاجہاں آپ نےمختلف علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل کی اسی دوران میں آپ کوحسین علی الوانی سےدرس قرآن پڑھنےاور بیعت ہونےکاشرف حاصل ھواانہی میں آپ کےساتھی شاگردوں میں رشیداحمد لدھیانوی اوربشیراحمدخوشابی بھی شامل تھے ۔[2] دورہ حدیث کےلیےآپ کومدرسہ امینیہ دہلی میں مفتی کفایت الله دہلوی کےہاں بھیجنےکافیصلہ ہواجہاں آپ نےمفتی صاحب کےعلاوہ خدابخش بھیروی اورضیاءالحق دیوبندی سے20سال کی عمرمیں دورۂ حدیث کی تکمیل کی آپ نےمفتی صاحب کی زیرنگرانی فتوی نویسی اورخوشخطی پر بھی دسترس حاصل کی۔

شادی[ترمیم]

آپ کو دہلی میں مفتی صاحب کی خصوصی شفقت حاصل رہی اور ان ہی کی زیرنگرانی آپ رشتہء ازدواج سے منسلک ہوئے۔

تدریسی اورتبلیغی سرگرمیاں[ترمیم]

آپ اسی مدرسہ میں درس و تدریس سےوابستہ ہوگئےجہاں آپ نےقیام پاکستان تک اپنےفرائض بخوبی نبھائےاس دوران میں آپ نےمختلف علوم وفنون کےنقشےاور رسالہ "انوارالمطالع فی ہدایات المطالع" تالیف فرما کرشائع فرمایاجن کو بحمدالله مقبولیت عامہ حاصل ہوئی۔1947ءسے1965ءتک کےاٹھارہ سالوں میں آپ نےبھیرہ،موچھ، فیصل آباد،سرگودھااور چوکیرہ کےمختلف اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دیں قیام موچھ ضلع میانوالی کےدوران میں آپ نےروزنامہ "شان" میانوالی اورروزنامہ "سرحد" پشاورکےلیےمتفرق مضامین تحریرفرمائے ۔[3] چوکیرہسے آپکی ہی استدعاپراحمدشاہ چوکیروی نےالفاروق جاری کیاتھا۔1965ءمیں آپ ضیاءالعلوم سرگودھاتشریف لائےاوراپنےپیر بھائی محمدامیربندیالوی کےساتھ مل کردین حق کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ محمدامیر بندیالوی اورآپ کارشتہ سگے بھائیوں سےبھی بڑھکرتھاچنانچہ دونوں نےملکرایک بڑےکام کی نیواٹھائی اوراس دوران میں تلقین شیعہ اوردعاءبریلویہ کی تردید میں "شفاءالصدورفی تحقیق عدم سماع من فی القبور"(عربی)،حیات النبی ص سےمتعلق مختلف مکاتب فکر مثلامرزائی،بریلوی،روافض وغیرہ کےعقائدکی تردیدمیں"الصراط المستقیم فی اثبات الحیاۃ البرزخیہ للنبی الکریم علیہ صلوۃوالتسلیم"(اردو) اورتقسیر "فیض الجلیل فی تسہیل التنزیل"(اردو،15جلدیں) جیسی نادرالوجودتصانیف معرض وجودمیں آئیں محمد امیربندیالوی کی وفات کےبعد آپ نےمدرسہ ضیاءالعلوم کا انتظام انتہائی متانت اورسنجیدگی سےچلایااورتقریباً 36سال تک اس سےوابستہ رہےاس دوران میں آپ نےفتوی نویسی،تصنیف وتالیف اوردرس وتقریرکاکام بھی جاری رکھااورخلق خداتک حق کاپیغام پہنچایاآپ سنہری مسجدبلاک اےسیٹلائیٹ ٹاؤن میں خطیب رہے۔۔[4] آپ نے2000ءکے آواخرمیں ضیاءالعلوم سےعلیحدگی اختیارکرلی اور 2001ءمیں محمدیہ کالونی گلی نمبر2سرگودھامیں جامعہ محمدیہ حسینیہ کی داغ بیل ڈالی لیکن معاشی بدحالی کی وجہ سے ادارہ کامیاب نہ ہوسکا۔

سفر آخرت[ترمیم]

2004ءمیں آپ نےکتاب"مظلوم کربلارض" شائع فرمائی جس کی بناپربعض لوگوں نےآپ پر گستاخئ حسین رض کامقدمہ درج کروایاجس کی وجہ سےآپ گرفتارہوکرپہلےسرگودھاجیل اورپھراڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل ہوگئےجہاں آپ شدیدبیمارپڑگئے اور18فروری2006ءبمطابق20 محرم الحرام1427ھ بروزاتوار کووفات پائی۔

تصانیف[ترمیم]

جس کام نےنیلوی شاہ کوجماعتی حلقوں میں سب سےزیادہ مقبول بنایاوہ ان کی تصنیفی خدمات ہیں۔ بلامبالغہ آپ نےجماعت کی نظریاتی بنیادوں کی وضاحت کی۔آپ کی تصانیف جماعت کی ترجمانی کرتی نظرآتی ہیں۔ آپ کواپنی زندگی میں معاشی بدحالی نے کچھ نہ کرنےدیا اورآپ کی وفات کےبعدنہ ہی جماعتی سطح پراورنہ ہی کسی ناشرنے یک سوہو کران کی کتابوں پرکام کیا۔اس فہرست میں وہ کتب اوررسائل شامل نہیں ہیں جوتفسیرفیض الجلیل یافتاوی حسینیہ کاحصہ ہیں مثلاتبیین القرآن،مرآۃالقرآن،رفع الاشتباہ،رفع عیسی ع وغیرہ کیونکہ یہ کوئی مستقل تصانیف نہیں ہیں بلکہ تفسیراورفتاوی حسینیہ کاہی حصہ ہیں:

  • تفسیرفیض الجلیل فی تسہیل التنزیل اردو۔
  • فتاوی حسینیہ۔
  • شفاءالصدورعربی۔
  • ندائےحق تین جلدیں۔
  • الصراط المستقیم فی اثبات حیات البرزخیہ للنبی الکریم علیہ الصلوة والتسلیم۔
  • فتح الرحمن فی قیام رمضان۔
  • مواہب رحمانی درمسائل قربانی۔
  • فیض المستغاث فی حکم الطلقات الثلاث۔
  • خیرالکلام فی تقبیل الابہام۔
  • الکلمات الصادقہ فی حکم الزنادقہ۔
  • الادلتہ المنصوصہ فی صفات الله المخصوصہ۔
  • القول الاتم فی حیات عیسی ابن مریم ع۔
  • رق منشورفی احکام الموتی والقبور۔
  • ناشرالقرآن سوانح حسین علی الوانی رح)
  • الریاض الناظرہ فی جمع الفروق المتناثرہ عربی۔
  • اسلوب بیان القرآن۔
  • فتح المغیث شرح تحریرات حدیث عربی۔
  • ردمنکرات حیات الاموات۔
  • ضیائے حق عربی(رسائل خمسہ)۔
  • دنیا میں اروح کاملین کے تصرف کاعقیدہ۔
  • القول المرعی فی القبر الشرعی۔
  • عقائدعلمائے دیوبندالمعروف احسن العقائد۔
  • صلوة وسلام برنبی علیہ السلام۔
  • ایصال ثواب اوراہل سنت کاعقیدہ۔
  • ادعیہ مبارکہ۔
  • اطیب الکلام فی نکاح یوسف ع۔
  • طلاق دینے کا شرعی طریقہ۔
  • عیدمیلادالنبی ص اوراس کی شرعی حثیت۔
  • بشریت نبوی ص۔
  • پیران پیرتاریخ کی روشنی میں۔
  • معراج النبی ص حقائق کی روشنی میں۔
  • ازالة الاشتباہ عن اخبار یا عبادالله۔
  • فضل المعبودفی ہیت المرأة فی السجود۔
  • حق الاظہار فی تحقیق معنی الشغار۔ م
  • قدرت الرب فی ولادت عیسی ع من غیر اب۔
  • مرزاقادیانی کی تضادبیانی۔
  • مرزا قادیانی کی تحریف قرآنی۔
  • خاتم النبیین ص۔
  • کلمہء طیبہ اورنمازکاتشریحی ترجمہ۔
  • نظم اللغات فی سلک الابیات۔
  • غایة المنی فی وجوب اعفاء للحیی۔
  • اصول کتب ستہ۔
  • فیض المغیث فی اصول الحدیث۔
  • شجرات۔
  • المیراث۔
  • سواداعظم۔
  • ظریف اللغات۔
  • لغت۔
  • یزید کون تھا؟۔
  • حاشیہ الجریدتین علی القبر۔
  • حاشیہ میزان البلاغہ۔
  • رسالہ ردالمتعہ۔
  • الفائدة البہیہ فی ردالتقیہ۔
  • وفیات المشاہیر۔
  • التعریفات۔
  • التوہینات۔
  • انوارالمطالع فی ہدایات المطالع۔
  • الفائض فی الدعا بعد الفرائض۔
  • اظہارالحق(روداد مناظرہ سمندری)۔
  • مظلوم کربلا رض۔
  • اپریل فول۔
  • رذیل عادتیں۔
  • القائد فی العقائدعربی۔
  • المصطلحات المختلفہ۔
  • جمع الفنون علی نہج القانون۔
  • تلخیص الاصول۔
  • نظم الاصول فی علم الاصول۔
  • تحقیق من دون الله۔
  • منظوم کلام۔
  • طریقہء مناسک حج۔
  • اسلام کے سات کلمات۔
  • تصویرکی شرعی حثیت۔
  • بدرمنیرحاشیہ تفسیربےنظیر۔
  • اصلاح النیة فی تحصیل علوم الدینیہ۔
  • منزل۔
  • اسراء ومعجزة النبی ص۔
  • التلبیس والتدلیس۔
  • شرائط ایمان۔
  • مسائل ضروریہ۔
  • رسمی مسلمان۔
  • خیرالصلوة۔
  • البیان التام فی التلاوة علی الطعام۔
  • خلاصة الافکارمن کلام الرحمن والآثار۔
  • غسل رجلین۔
  • حسین علی الوانی کااسلوب تفسیر۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ناشرالقرآن ص 14،محمد حسین نیلوی،گلستان پرنٹنگ پریس سرگودھا
  2. سعادت دارین قلمی ص 97،محمدطیب واسطی
  3. نداۓحق ج1ص385،محمدحسین نیلوی،مکتبہ اشاعت الاسلام دہلی ہندوستان
  4. ضلع سرگودھاکی علمی ودینی شخصیات ص 210،محمداحمدشاہ،تحقیقی مقالہ برائےایم فل علوم اسلامیہ،2002ء-2004ء،اسلامک سنٹرپنجاب یونیورسٹی لاہور