محمد نقیب اللہ شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد نقیب اللہ شاہ معروف بہ قدس اللہ سرہ العزیز 5 جنوری 1895ء کو بٹل شریف ضلع مانسہرہ (خبیرپختونخوا) کی پُر فزاء اور خوبصورت وادی میں دنیا میں تشریف لائے۔ آپ قدس اللہ سرہ العزیز کے دادا میر عبد اللہ شاہ بونیر شریف (سوات) میں پیر بابا کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ قدس اللہ سرہ العزیز کے والد موہڑہ شریف میں پیر خواجہ صوفی محمد قاسم شاہ سے بیعت ہوئے اور خلافت حاصل کی۔ قدس اللہ سرہ العزیز کا اسم گرامی والد نے نقیب اللہ شاہ رکھا۔ قدس اللہ سرہ العزیز اپنے آباؤاجداد سے ہی اولیاء سے وابستہ رہے اور ان کے فیضان سے نوازے جاتے رہے۔ قدس اللہ سرہ العزیز کی والدہ نہایت متقی، پرہیزگار، عارفہ وعابدہ اور شب بیدار خاتون تھیں۔ قدس اللہ سرہ العزیز کا خاندانی پیشہ کھیتی باڑی اور مویشی پالنا تھا۔ بچپن سے ہی اللہ رسیدگی کی لگن اور دنیا سے بے رغبتی کا رجحان آپ کو گودِ مادر سے ملا۔[1]

القابات[ترمیم]

مُرشد روشن ضمیر، مردحق، فدائے رحمتہ للعالمین، محب غوث پاک، سلطان العاعارفین والعاشقین، وارث علوم النبین، الفانی فی الذات سبحانی، سید الاسخیا، امام الاصفیا، سرتاج الاولیا، فخرالاولیا، پیروپیشوا حضرت خواجہ خواوجگاں۔

حالات زندگی[ترمیم]

تلاش معاش کے سلسلے میں قدس اللہ سرہ العزیز نے اپنے والدین سے اجازت لے کر 1920ء میں کوئٹہ تشریف روانہ ہو گئے جہاں آپ قدس اللہ سرہ العزیزنے مختلف ہنر سیکھے اور پھر آرمی میں سروس شروع کردی۔ اس طرح آپ اپنی زندگی کے روز شب گزارنے لگے۔ آپ قدس اللہ سرہ العزیز جو کماتے اپنے والدین کی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد باقی سب اللہ کی مخلوق کی خدمت میں خرچ کردیتے۔ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا شوق آپ کو دیوانگی کی حد تک تھا۔ آپ باقاعدگی سے درویشوں کی خدمت میں حاضری دیتے۔ چمن کوئٹہ میں قیام کے دوران آپ پیر سید علی شاہ الگیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کی درخواست کی۔ پیر سید علی شاہ الگیلانی نے فرمایا! آپ کا فیض ہمارے پاس نہیں ہے۔ آپ کو مطلوب اور فیض رساں جلد مل جائے گا۔ اس عرصے میں آپ اپنے روحانی مقصد کی تکمیل کے لیے ہر وقت بیتاب اور بے قرار رہتے۔

اسی بے قراری میں ایک رات آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شرف بازیابی ہوا۔ آپ ﷺ نے صوفی محمد حسن شاہ سلطان الاولیاء کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔”نقیب اللہ شاہ ان کے پاس چلے جاؤ ،آپ کے فیض رساں یہ ہیں۔“

1962ء میں آپ کو اپنے پیر مرشد کی طرف سے کوئٹہ چھوڑنے اور قصور جانے کا حکم ملا۔ آپ نے قصور کے قریب بھلو نامی گاؤں مین اپنی سکونت اختیار کی جو اب "نقیب آباد شریف" کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ آپؒ کو اپنے پیرومرشد کی طرف سے جشن جہانگیری (عرس مبارک مخلص الرحمٰن شاہ جہانگیر ہدیٰ منانے کی اجازت پاکستان بننے سے پہلے عطاکی گئی جو آج تک بڑی شاناشوکت سے منایاجاتا ہے۔ 1975ء میں آپؒ فریضئہ حج اور زیارت حرمین شریفین ہوئے۔ آپؒ کا روحانی سلسلہ جو سلسلہ عالیہ نقیبیہ کے نام سے مشہور ہے اور اس وقت پوری دنیا مین اپناحلقہ اثر رکھتا ہے۔ آپؒ نے مغربی ممالک کے علاوہ عرب امارات میں بھی تبلیغی دورے فرمائے۔

وفات[ترمیم]

26 رمضان المبارک 1415ھ، 27 فروری 1995ء|کو آپ نے دنیا فانی سے پردہ فرمایا۔

عرس[ترمیم]

آپ کا عرس ؛"جشن نقیبی" نقیب آباد شریف قصور میں آپ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی کے زیرِ سایہ بڑی شان وشوکت سے منایا جاتا رہا ہے ۔گزشتہ سال 2016ء میں خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی نے پردہ فرمایا۔ اب اس سال " جشن نقیبی" آپ کے پوتے صاحبزادہ خواجہ صوفی محمد نقیب الرحمٰن شاہ مدظلہ العالی اور آپ کے پوتے صاحبزادہ خواجہ صوفی محمد اسداللہ شاہ مدظلہ العالی کے زیر سایہ بڑی شان وشوکت سے 24،25،26،27 شوال المکرم، 19،20،21،22 جولائی 2017ء کو نقیب آباد قصور شریف میں منایا جائے گا۔ جشن نقیبی میں پوری دنیا اور پاکستان بھرسے آپ کے مریدین اور عقیدت مند جوق در جوق شرکت کریں گے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]