مسئلہ کلالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کلالہ اس کو کہتے ہیں جس کے اصول و فروع میں سے کوئی نہ ہو اس کا ایک خاص حکم قرآن میں موجود ہے۔

لغوی تحقیق[ترمیم]

کلالہ اصل لغت میں کلال کی طرح مصدر ہے اور کلال کا معنی ہے تھکنا عاجز ہو جانا کَلَّ الرَّجُلُ فِیْ مَشْیِہٖ کَلَالاً فلاں شخص اپنی رفتار میں سست ہو گیا، تھک گیا۔ وکَلَّ السَّیْفُ عَن ضربتہ کَلُوْلًا وَ کَلَالَۃً اور تلوار مارنے سے کند ہو گئی کَلَّ اللِّسَنُ عَن الکَلَام زبان بات سے عاجز ہو گئی۔ تیز نہ رہی۔ مجازاً کلالہ سے مراد وہ قرابت دار ہوتے ہیں جن کا آپس میں رشتہ توالد نہ ہو یعنی باپ دادا اور بیٹے پوتے کا ان کے آپس میں رشتہ نہ ہو۔ یہ بھی ایک قسم کی عاجزی درماندگی ہوتی ہے پھر کلالہ کو ذی کلالہ کے معنی میں استعمال کر لیا جاتا ہے اور اس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جس کی نہ اصل ہو نہ نسل کہ اس کی وارث ہو یا یہ اس کا وارث ہو۔ (بیضاوی یہ کہتے ہیں)

اصطلاحی معنی[ترمیم]

بغوی نے لکھا ہے کہ کلالہ وہ شخض ہے جس کی نہ اولاد ہو۔ نہ والد۔ حضرت علی اورابن مسعود نے یہی فرمایا : گویا دونوں طرف اس کے نسبی ستون کمزور ہیں سعید بن جبیر نے کہا کلالہ وہ وارث ہے جو میت کا نہ والد (باپ دادا پر دادا وغیرہ) ہو نہ اولاد۔ ایسے وارث میت کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں لیکن بیچ میں کوئی نسبی ستون نہیں ہوتا جیسے سر پر بندھی ہوئی شاہی پٹی کہ جو سر کو چاروں طرف سے محیط ہوتی ہے مگر سر کا درمیانی حصہ خالی ہوتا ہے حضرت جابر والی حدیث میں کلالہ کا یہی مطلب ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا تھا کہ میرے وارث کلالہ ہیں یعنی نہ میری نرینہ اولاد ہے نہ والد۔

ابوبکر صدیق کا قول[ترمیم]

حضرت ابو بکر سے کلالہ کے متعلق دریافت کیا گیا۔ فرمایا : میں اپنی رائے سے کہتا ہوں اگر صحیح ہوگا تو اللہ کی طرف سے اور غلط ہوگا تو میری طرف سے ہوگا اور شیطان کی طرف سے، میرے خیال میں کلالہ وہ ہے جو نہ (کسی کا) والد ہو اور نہ اولاد جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو فرمایا : ابو بکر نے جو کچھ کہا مجھے ان کی تردید کرنے سے جھجک آتی ہے (یعنی ٹھیک ہے) (رواہ البیہقی عن الشعبی) ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں اس کو نقل کیا ہے اور حاکم نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت عمر کے اس قول کو حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث ہے کہ کلالہ کی تشریح میں آپ نے فرمایا : وہ ایسا شخص ہے جو نہ (میت کا) والد ہو نہ مولود۔ (رواہ الحاکم)

اصل و فرع[ترمیم]

ابو الشیخ نے حضرت براء کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اﷲ سے کلالہ کے متعلق دریافت کیا فرمایا : (میت کے ) والد اور اولاد کے سوا (جو وارث ہو وہ) کلالہ ہے۔ ابو داؤد نے مراسیل میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو والد کو چھوڑے نہ اولاد کو اس کے وارث کلالہ ہوتے ہیں میں کہتا ہوں کہ کلالہ کی تشریح میں والد اور ولد سے مراد ہیں مذکر اصول و فرع پس اگر میت کی ماں یا بیٹی موجود ہو اور باپ اور بیٹا نہ ہو تو وہ کلالہ ہے اس قول کا ثبوت حضرت جابر کی حدیث سے ملتا ہے کیونکہ نزول آیت کے وقت حضرت جابر کی ایک لڑکی موجود تھی، والد نہ تھے آپ کے والد عبد اللہ بن حرام کا انتقال احد کے دن ہوچکا تھا [1] تفصیلات۔ اگر مرنے والا مرد اور پسماندگان میں صرف ایک بہن ہے تو اسے نصف ملے گا۔ اور اگر کلالہ عورت ہے اور پسماندگان میں صرف ایک بھائی ہے تو اسے کل ترکہ ملےگا۔ بہنیں ایک سے زائد ہوں تو ثلثان ملےگا۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں تو مرد کو دو عورتوں کے برابر ملےگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی سورۃ النساء آیت 12