مسرت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنوبی افریقہ کی ایک سیاہ فام خاتون فرط مسرت سے سر شار ہو کر سمندری لہروں کا پانی اپنے پاؤں سے تیزی سے اچھالتے ہوئے چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔

مسرت (انگریزی: Joy) یا فرط مسرت ایک لفظ ہے جس سے مراد انتہا درجے کی خوشی کا موجود ہونا۔ خوشی اور فرط مسرت ایک ہی اندر جذبے کا اظہار ہے، تاہم یہ جذبہ مختلف لوگوں میں مختلف حالات اور کیفیات کی وجہ سے اور مختلف درجوں کا ہو سکتا ہے۔ ماں باپ ہر دن اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش تو ضرور ہو سکتے ہیں، مگر یہ خوشی اس خوشی یا فرط مسرت کے جذبے سے کافی کم ہوتی ہے جب انہیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ ان کا بچہ امتیازی نمبروں سے پاس ہو چکا ہے یا پھر کوئی ڈگری میں فارغ التحصیل ہوا ہے۔ ایک ملازم ہر روز گھر میں شام کے وقت واپس داخل ہو کر اپنے اہل و عیال کو دیکھ خوش تو ہو سکتا ہے۔ مگر اسے فرط مسرت اس وقت ہوتی ہے جب کی ملازمت کے مقام پر ترقی ہوتی ہے، تنخواہ میں زبر دست اضافہ ہوتا ہے یا پھر اس کی بیوی اس کے پہلے بچے کے ممکنہ آمد کی خوشخبری دے۔


مسرت کا فکری پہلو اور اس کا عملی اظہار[ترمیم]

کئی بار آدمی اپنی سوچ اور شوق کی وجہ سے مسرت کا احساس کرتا ہے اور اسی سے سر شار ہوتا ہے۔ یہ جذبہ غالبًا یہ جذبہ ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں کی سمجھ میں اکثر نہیں آتا۔

دسمبر 2014ء کے مہینے میں تلنگانہ، بھارت کے عادل آباد سے تعلق رکھنے والا کم سن بچہ بالو شدید بیمار اور مہلوک مرض کی وجہ سے حیدرآباد کے مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپتال میں شریک ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی ایک آخری خواہش یہ ظاہر کی کہ وہ تیلگو فلم کے ادا کار چیرنجیوی کا مداح ہے اور وہ ان سے ملنا چاہتا ہے۔ اس خبر کے ملنے کے بعد چیرنجیوی نے اس لڑکے کی معاشی بد حالی سے قطع نظر اس سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دواخانہ پہنچ کر نہ صرف لڑکے سے ملاقات کی بلکہ اس کے لئے ایک تحفہ پیش کیا۔ انہوں نے لڑکے کے ہاتھ پر ایک دھاگا باندھتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ صحت یاب ہوجائے گا۔ چیرنجیوی نے کمسن لڑکے کے ساتھ کافی وقت گذارا۔ انہوں نے کم سن مریض کو اپنے ساتھ بٹھاکر کچھ دیر اس سے بات چیت کی اور اسے دلاسہ دیا کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہوکر گھر واپس ہوگا۔ چرنجیوی نے لڑکے کے علاج کے سلسلہ میں ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔ چرنجیوی کی موجودگی کے دوران موذی مرض کا شکار بالو فرطِ مسرت سے سرشار بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر تک ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اپنے مرض کو بھول چکا ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]