مسیحا (امریکی ٹی وی سیریز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Messiah
Messiah-Netflix.jpg
نوعیتسنسنی خیز (صنف)
تخلیق کارMichael Petroni
نمایاں اداکار
تھیم موسیقی
  • Johnny Klimek
  • Gabriel Isaac Mounsey
نشرUnited States
زبانEnglish
تعدادِ دور1
اقساط10 (اقساط کی فہرست)
تیاری
عملی پیشکش
فلم ساز
  • Brandon Guercio
  • David Nicksay
مدیر
  • Martin Connor
  • Joseph Jett Sally
عکس نگاریDanny Ruhlmann
کیمرا ترتیبSingle-camera
دورانیہ38–55 minutes
پروڈکشن ادارہ
نشریات
چینلنیٹ فلکس
تصویری قسم4K (16:9 الٹرا ہائی ڈیفینیشن ٹیلی ویژن in high dynamic range)
صوتی قسمDolby Digital
1 جنوری 2020ء (2020ء-01-01)
بیرونی روابط
ویب سائٹ

مسیحا (مسیاہ) ایک امریکی تھرلر ویب ٹیلی ویژن سیریز ہے جسے آسٹریلوی فلم مصنف و ہدایتکار مائیکل پیٹرونی نے تشکیل دیا ہے۔ اس ویب سیریز کا پہلا سیزن دس اقساط پر مشتمل ہے ، جو یکم جنوری ، 2020 کو نیٹ فلکس پر جاری کیا گیا۔ [1] [2] اس سیریز میں مہدی دہبی ، ٹومر سیسلے ، مشیل موناگھن ، جان اورٹیز ، میلنڈا پیج ہیملٹن ، اسٹیفانیہ لاوی اوون ، جین ایڈمز ، سید العلمی ، فریس لینڈوولسی اور ول ٹراول شامل ہیں۔

ویب سیریز میں ایک ایسے شخص کے بارے میں جدید دنیا کے رد عمل پر روشنی ڈالی گئی ہے ، ایک عام خوبصورت نوجوان جو مشرق وسطی میں پہلی بار عیسیٰ (عیسیٰ) کی عدم واپسی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی مدد کرتا ہے، لوگوں کے دلوں میں اپنے اچھے کاموں سے ایک مقام بناتا ہے اور بڑی بڑی آفتوں میں انسانوں کی مدد کرتا ہے ۔ اس کے اچانک ظہوراور ظاہری معجزات دیکھ کر بین الاقوامی پر اس کے پیروکاروں کی تعداد بڑھنے لگتے ہیں ۔ جس نے عالمی حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں میں اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، یہ معاملہ سی آئی اے آفیسر کے ذریعہ تفتیش کیا جاتا ہے۔ [3]

کہانی[ترمیم]

نیٹ فلکس کی یہ ویب سیریز دراصل ایک  نوجوان (مہدی دیبی ) کی کہانی ہے، جو سب سے پہلے ملک شام میں اُس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ جب قدیم شہر دمشق داعش کے قبضے میں چلا جاتا ہے، یہاں کے لوگ بدحال اور پریشان تھے، وہ نوجوان جنگ سے متاثرہ دمشق میں برہم عوام کے سامنے کھڑا ہے جبکہ داعش فورسز نے شہر کو گھیرے میں لیا۔ اس نے لوگوں کو داعش میں شامل ہونے کے خلاف انتباہ کیا ، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے خدا کے الفاظ کو کس طرح توڑ مروڑ رہے ہیں۔ عین اسی وقت مافوق الفطرت ریت کا ایک طوفان نمودار ہوتا ہے جوکئی دن تک دمشق شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھتا ہے، اس طوفان کے سبب داعش کی سپلائی لائن کٹ جاتی ہے اور انہیں دمشق شہر سے فرار ہونا پڑتا ہے۔  یہ دیکھ کر بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس نوجوان مسیحا نے اسے قابو کر لیا اور دو ہزار کے قریب مسلمان اس کے پیروکار بن جاتے ہیں اور اس کے پیچھے پیچھے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں اسرائیل کی سرحد تک جا پہنچے ہیں، ان پیروکاروں میں ایک لڑکا جبرل مدینہ (سید العلمی) ہے ، جو شام کا یتیم فلسطینی ہے، وہ شام کی صحرائی راستے سے اسرائیلی سرحد تک مسیحا کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔ یہاں لوگ اس شخص کو امام اور مسیحا کے خطابات دیتے ہیں۔ مسیحا اسرائیلی سرحد کو عبور کرتا ہے، جہاں کی فوج اسے گرفتار کرلیتی ہے، وہاں ، اسے ایک اسرائیلی ایجنٹ (ٹومر سیسلی) کی تحویل میں لایا جاتا ہے۔ تفتیش کے دوران مسیحا ایجنٹ کے ماضی کے بارے میں ذاتی معلومات تک بتا کر اسے الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ اسرائیلی انویسٹی گیشن آفیسر اس کی باتیں سن کر چکرا جاتا ہے۔ اسی رات وہ نوجوان مسیحا اس جیل سے پراسرار طور پر غائب ہوجاتا ہے۔ اس کی تلاش شروع ہوتی ہے، امریکی سی آئی اے ایجنٹ ایوا گیلر (مشیل موناگھن) اس کیس کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لیتی ہے ، اس کا خیال ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے نظریات کے تحت مشرق وسطی میں کسی جنگ کو بھڑکا سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ پراسرار نوجوان بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے پاس نظر آتا ہے اور وہاں موجود مسلم ہجوم سے خطانب کرتا ہے۔ اسرائیلی فورسز پہنچ جاتی ہے، کہیں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ایک چھوٹا لڑکا زخمی ہو گیا۔ اس پراسرار نوجوان نے اس بچے کے جسم سے گولی نکالنے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اپنی ہتھیلی لڑکے کے پیٹ پر رکھتا ہے اور گولیوں کے زخم کو بھر دیتا ہے۔ بچہ کے جسم پر کہیں کوئی زخم نہیں ہوتا، یہ مافوق الفطرت کرامت دیکھ کر ہزاروں لوگ اس کے گن گانے لگتے ہیں۔

سی آئی اے کی تحقیقات کی دوران کیمروں کی فوٹیج میں یہ پراسرار شخص پہلے اردن میں نظر آتا ہے اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد امریکا میں ۔ امریکی ریاست ٹیکساس کا ایک پادری فیلکس آئیگرو (جان اورٹیز)اپنے مالی حالات سے بہت پریشان ہوتا ہے،کیونکہ لوگ چرچ میں آنا اور اسے چندہ دینا چھوڑ دیتے ہیں سو یہ دل برداشتہ ہوکر اپنے چرچ کو آگ لگانے والا ہوتا ہے کہ عین اسی وقت اس علاقے میں بادبانی طوفان ٹورنیڈو آجاتا ہے اور یہ پراسرا نوجوان اس کی بیٹی اور چرچ کو طوفان سے بچاتا ہے۔ جب لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک مسیحا نے آکر طوفان سے چرچ کی حفاظت کی تو وہ جوق در جوق اس ملنے چلے آتے ہیں، اب اس چھوٹے اور طوفان سے تباہ حال شہر میں ایک میلا سا لگ جاتا ہے۔ وہیں دوسری طرف مسیحا کہلائے جانے والے اس پسرار نوجوان پر امریکا میں غیر قانونی طور پر گھس آنے کے الزام میں مقدمہ چلتا ہے،جہاں وہ کہتا ہے کہ اسے جنگ کے سبب یہاں آنا پڑا ہے،عدالت میں مسیحا نامی یہ نوجوان اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک مسلمان نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام مذاہب سے ہے۔ اس کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں اس کے ماننے والوں پر برا اثر چھوڑتا ہے اور وہ اسے ایک جھوٹا اور فریبی انسان ماننے لگتے ہیں۔عدالت سے اسے امریکا میں پناہ مل جاتی ہے۔پناہ مل جانے کے بعد جب ٹیکساس نامی ریاست میں اس کے خوب پیروکار جمع ہوجاتے ہیں تو یہ انہیں لے کر واشنگٹن ڈی سی یعنی امریکیدارالحکومت چلا جاتا ہے جہاں وہ لاکھوں افراد اور میڈیا کی موجودگی میں پانی پر چلنے کا مظاہرہ کرتا ہے، یہ دیکھ کر لوگ دیوانہ وار اس کے عقیدت مند بن جاتے ہیں، علاج معالجے اور اپنی دیگر پریشانیوں کے حل کے لیے اس کے پاس آتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اسے اور اس کے ساتھیوں یعنی پادری کی فیملی کو اچھے سے ہوٹل میں رہائش دی جاتی ہے اور ان پر ہر وقت نظر رکھی جاتی ہے۔ یہاں رہتے ہوئے آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے اس شخص کے دعووں کی حقیقت واضح ہوتی جاتی ہے،جو لوگ اس کے پاس علاج معالجے کے لیے آتے ہیں انہیں سخت مایوسی سہنا پڑتی ہے۔ جبکہ دوسری سی آئی اے آفیسر ایوا گیلرکڑیوں سے کڑیاں ملاتی اس مسیحا کی حقیقت تک پہنچ جاتی ہے اورجان لیتی ہے کہ یہ شخص دراصل ایران کا ایک شعبدے باز نفسیاتی مریض ہے۔ پیام گل شیریں نامی یہ شخص اپنے بھائی اور ایک چچا کے ہمراہ ایران کے شہر تہران میں رہتا ہے۔ اس کا چچا یوسف ایک جادوگر ہے جو سڑکوں پر چھوٹی موٹی جادوئی کرتبیں دکھا کر لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے اور اپنے بھتیجوں کو بھی لوگوں کو چکما دینے کا یہ ہنر سکھاتا ہے۔  پیام گل شیریں کو ڈلیوژن نامی ایک بیماری ہے، اس بیماری میں انسان خود کوکوئی اور شخص تصور کرنے لگتاہے،اسی بیماری میں مبتلاپیام گل شیریں کو لگتا ہے کہ وہ ایک مسیحا ہے، جسے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے پیام گل شیریں کو ایران کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں علاج بھی کروانا پڑتا ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس دوران مسیح نامی یہ آدمی امریکا کے پریزیڈنٹ تک کو اپنی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے متاثر کرلیتا ہے،اس سے پہلے کہ امریکا کی پریذڈنٹ سے کوئی غلط کام کروائے، امریکا کی اسٹیبلشمنٹ اسے ایک پرائیوٹ جہاز میں خفیہ طور پر اسرائیل روانہ کردیتی ہے۔ لیکن یہ جہاز اسرائیل پہنچنے سے پہلے ہی افریقہ کے کسی پسماندہ ملک میں کریش کرجاتا ہے۔ دوسری طرف اس شخص کی تمام تر معلومات جو ایوا گیلر نے  حاصل کی ہوتی ہے، میڈیا پر نشر ہوجاتی ہے، اب وہ لوگ جو اس سے عقیدت رکھتے تھے، خود پرلعنت ملامت کرتے ہیں۔لیکن اب جہاں اس مسیحا کا جہاز گرتا ہے وہاں ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوتا ہے،جہاز کے عملے کے اکثر لوگ مرجاتے ہیں اور کچھ بری طرح زخمی ہیں لیکن اس مسیحا نامی آدمی کو ایک کھروچ تک نہیں آتی،جبکہ اسرائیلی ایجنٹ کو ایک افریقی بچہ بتاتا ہے کہ اس آدمی نے تمہیں زندہ کیا ہے کیونکہ تم مرچکے تھے اور یہیں مسیحا کے سیزن ون کا اختتام ہوجاتا ہے۔

کردار[ترمیم]

مرکزی کردار[ترمیم]

  • مہدی دہبی -بطور- المسیح (میساہ)
  • ٹومر سیسلی -بطور-ایورام دہن، اسرائیلی انویسٹی گیشن آفیسر
  • مشیل موناگھن -بطور-سی آئی اے کیس آفیسر ، ایوا گیلر
  • جان اورٹز -بطور- فیلکس آئیگرو ٹیکساس کا پادری
  • میلنڈا پیج ہیملٹن -بطور-انا آئیگرو [3] پادری کی بیوی
  • اسٹیفینیا لاوے اوون -بطور-ربیکا آئیگرو پادری کی بیٹی
  • جین ایڈمز -بطور-مریم کینیلی جرنلسٹ
  • سیدالعلمی -بطور- جبریل مدینہ فلسطینی
  • کرایہ لینڈوولسی -بطور-سمیر
  • وائل ٹراول -بطور-ول میچر امریکی ایجنٹ

دیگر کردار[ترمیم]

  • فلپ بیکر ہال -بطور-کیلمن کٹز [4]
  • بیو برج -بطور-ایڈمنڈ ڈی گیولیس
  • ہیوگو آرمسٹرونگ -بطور-روبن
  • باربرا حوا ہیرس -بطور-کیتھرین
  • نمرود ہوچن برگ -بطور-اسرائیل
  • ایملی کنی -بطور-اسٹیکی کرمینی
  • جیکسن ہارسٹ -بطور-جونا کرمینی
  • نکول روز سکیمیکا -بطور-رئیسہ کرمانی
  • اوری فائفر -بطور-ایلون
  • کینیٹ ملر -بطور-لیری
  • اسد بواب -بطور- قمر معروف

اقساط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nemetz، Dave (December 3, 2019). "Messiah Trailer: Is This Miracle Worker a Con Man, or the Second Coming?". TVLine. اخذ شدہ بتاریخ December 3, 2019. 
  2. D'Alessandro، Anthony (October 24, 2019). "Michelle Monaghan Under The Spell Of Blumhouse-Sony's 'The Craft'". Deadline. اخذ شدہ بتاریخ November 21, 2019. 
  3. ^ ا ب Pedersen، Erik (7 June 2018). "'Messiah': Netflix Adds Nearly A Dozen To Cast Of Suspense Thriller Series". Deadline. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2018. 
  4. Pedersen، Erik (June 28, 2018). "'Messiah': Beau Bridges & Philip Baker Hall To Recur On Netflix Drama Series". Deadline Hollywood. اخذ شدہ بتاریخ December 5, 2019. 

بیرونی روابط[ترمیم]