مصحف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مصحف یا صَحِیْفَہ کے لفظی معنے عربی میں پھیلی ہوئی چیزم لکھا ہوا کاغذ، ورق، کتاب، رسالہ، چھوٹی کتاب کے ہیں۔ اس کا زیادہ تر استعمال الہامی کتاب جو اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی رسول پر اتاری گئی پر ہوتا ہے۔ جمع صُحْفٌ اور صحائف ہے۔قرآن مجید میں مصحف کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کی جمع صُحْفٌ (صحیفہ) کا ذکر آٹھ دفعہ کیا گیا ہے۔[1] عام طور پر قرآن کو مصحف کہا جاتا ہے۔ قرآن ایک مصحف (کتاب) ہے مگر ضروری نہیں ہر مصحف قرآن ہو۔[2]

سابق انبیا کے مصحف[ترمیم]

آسمانی کتابوں میں سب سے قدیم صحیفہ ابراہیم علیہ السلام کا ہے لیکن وہ محفوظ نہیں رہا ہے موسیٰ علیہ السلام کے صحیفے تو ان سے مراد تورات ہے جو اپنی اصل شکل میں تو اس وقت موجود نہیں ہے۔ البتہ اس کے کچھ اجزاء عہد نامہ عتیق (انگریزی: Old Testament) کی پانچ کتابوں میں ہیں جو پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثناء کے نام سے پائی جاتی ہیں، دیکھے جا سکتے ہیں۔[3] حسن بصری نے کہا، ان ھذالفی الصحف الاولی۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کی تمام کتب ہیں۔ صحف ابراھیم و موسی۔ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو ان پرنازل ہوئیں، ان سے یہ مراد نہیں کہ بعینہ یہی الفاظ ان صحیفوں میں تھے بلکہ مقصود معنی ہے یعنی ان کلام کا معنی ان صحیفوں میں تھا، آجری نے حضرت ابوذر سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ، صحف ابراہیم سے کیا مراد ہے؟ فرمایا، وہ سب امثال تھیں اے بادشاہ جس نے تسلط جمایاہوا ہے آزمائش میں مبتلا ہے اور دھوکا میں ڈالا گیا ہے میں نے تجھے اس لیے دنیا میں نہیں بھیجا کہ تودنیا کو ایک دوسرے کے اوپر جمع کرے بلکہ میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو مظلوم کی دعا کی مجھ سے لوٹائے میں اس کی دعا کو نہیں لوٹاؤں گا اگرچہ وہ کافر کے منہ سے نکلے اس سے مراد امثال تھیں عقل مند پرلازم ہے کہ اس کی تین گھڑیاں ہوں، ایک گری میں وہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے، ایک ساعت ایسی ہو جس میں وہ اپنے نفس کامحاسبہ کرے جس میں وہ اللہ تعال کی صفت میں غور و فکر کرے ایک ساعت ایسی ہوجس میں وہ اپنے کھانے پینے کا اہتمام کرے، دانش مند پرلازم ہے کہ وہ تین چیزوں کے سوا کسی کے لیے سفر نہ کرے آخرت کے لیے زاد راہ، زندگی کوبہتر بنانے کے لیے حلال چیز میں لذت پانے کے لیے، دانش مند پر یہ بھی لازم ہے وہ اپنے زمانہ پرنظر رکھتا ہو اپنی حالت کی طرف متوجہ ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو، جو آدمی زبان کوبھی اپنے اعمال میں شمار کرتا ہے تو اس کی گفتگو کم ہوجاتی ہے مگر جو اس کے لیے معاون ہو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفے کیا ہیں؟ فرمایا، سب عبرت آموز باتیں تھیں۔ میں تعجب کا اظہار کرتا ہوں اس آدمی پر جو موت کا یقین رکھتا ہے کہ وہ کیسے خوش رہتا ہے، میں تعجب کا اظہار کرتا ہوں اس آدمی پر جوتقدیر پر ایمان رکھتا ہے تو وہ کیسے اس پر مطمئن ہوجاتا ہے، میں متعجب ہوتا ہوں اس آدمی پر جوحساب پریقین رکھتا ہے پھر وہ عمل نہیں کرتا،[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن اور مصحف میں فرق
  2. کتاب فاطمہ
  3. تفسیر دعوت قرآن،شمس پیرزادہ، سورۃ الاعلیٰ، آیت19
  4. تفسیر قرطبی،ابوعبد اللہ قرطبی،سورۃ الاعلیٰ،آیت 18،19