مختصر الطحاوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(معانی الآثار سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

کتاب مختصر الطحاوی جسے فقہ حنفی کا پہلا متن سمجھا جاتا ہے اور مذہب احناف کا حقیقی سرمایہ کہلاتی ہے

کتاب کا نام[ترمیم]

مختصر الطحاوی کا اصل نام شرح معانی الآثار ہے۔ بعض دفعہ اختصار اور تخفیف کی وجہ سے معانی الآثار بھی استعمال ہوتا ہے۔ آثار سے مراد احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ ہیں

مصنف[ترمیم]

اس کے مصنف ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن عبد الملك بن سلمہ الازدی الحجری المصری المعروف امام ابو جعفرطحاوی (متوفى: 321ھ)ہیں۔ امام طحاوی مسائل میں امام ابو حنیفہ،امام ابو یوسف امام محمد ،امام زفر اور امام حسن بن زیاد کے اقوال کو نقل کرتے ہیں اور پھر اس میں ترجیح دیتے ہیں اور بعض اوقات ان حضرات کی رائے کے مقابلے میں اپنی مستقل رائے نقل کرتے ہیں۔[1]

حدیث اور فقہ کا امتزاج[ترمیم]

شرح معانی الآثار فن حدیث میں ایک عظیم کتاب ہے۔ اس کتاب میں حدیث فقہ اور اسماء الرجال کے کئی علوم کو بڑی خوبصورتی سے سمو دیا گیا۔ اس جیسا حسین امتزاج کسی اور کتاب میں بہت کم نظر آتا ہے۔

کتاب کا مقصد[ترمیم]

اس کتاب کا مقصد امام طحاوی کا احادیث جمع کرنا نہیں بلکہ احناف کی تائیداور یہ ثابت کرنا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مسلک کسی جگہ بھی حدیث کے خلاف نہیں اسی طرح یہ کتاب روایت اور درایت کا حسین امتزاج ہے ان محاسن سے تمام صحاح ستہ کی کتابیں بھی خالی ہیں۔

سبب تالیف[ترمیم]

امام طحاوی کہتے ہیں مجھے اہل علم نے فرمائش کی کہ ایسی کتاب تصنیف کروں جس میں احکام کے متعلق احادیث رسول جمع ہوں اور ان تعارض کو دور کروں جو ظاہری طور پر دکھائی دیتے ہیں اور ان میں وہ تاویلات بھی شامل کروں جو کتاب و سنت اجماع اور اقوال صحابہ سے تائید کرتے ہوں۔ منسوخ روایات پر دلائل پیش کروں تاکہ وجہ نسخ ظاہر ہو جائے اور مخالفین کے طعن کا جواب بھی ہو جائے۔

اسلوب کتاب[ترمیم]

تمام امہات کتب میں امام طحاوی کا اسلوب مختلف ہے وہ پہلے حدیث بیان کرتے ہیں پھر اس سے استنباط ہونے والے مسائل کا ذکر کرتے ہیں پھر اس کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے احناف کی دلیل اس حدیث سے دیتے ہیں جو بظاہر اس کی مخالف ہے پھر اس کے متعدد طرق بیان کرتے ہیں۔ پھر احناف کی تقویت کے لیے دونوں حدیثوں کا الگ محل اور تعارض دور کرتے ہیں۔ احناف کے مخالف حدیث کا ضعف یا منسوخ ہونا بیان کرنے کے بعدعموما عقلی دلیل بھی بیان کرتے ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قاموس الفقہ جلد اول،صفحہ 380،خالد سیف اللہ رحمانی،زمزم پبلشر کراچی2007ء
  2. طحاوی شریف ،جلد 1،صفحہ 12،امام ابو جعفر الطحاوی،حامد اینڈ کمپنی لاہور