معرکہ العقاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
معرکۂ العقاب
بسلسلۂ: استرداد
Navastolosa.jpg
تاریخ 16 جولائی 1212ء
مقام العقاب
نتیجہ عیسائیوں کی فتح
متحارب
موحدین عیسائی اتحاد
قائدین
محمد الناصر الفانسو ہشتم
سانچو ہفتم
پیٹر ثانی
افانسو ثانی
قوت
تین لاکھ ایک لاکھ 20 ہزار
نقصانات
ایک لاکھ نامعلوم

اسپین کے مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی عیسائی مہم استرداد کے سلسلے کی ایک اہم جنگ جو خلافت موحدین اور عیسائیوں کے اتحاد کے مابین تیرہویں صدی میں لڑی گئی۔ اس میں عیسائیوں سے فیصلہ کن فتح حاصل کی اور اسے اسپین میں مسلم اقتدار کے خاتمے کے سلسلے میں اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔

پس منظر[ترمیم]

یورپ نے سرزمینِ فلسطین پر مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کا بدلہ اندلس و مراکش سے لینا چاہا کیونکہ وہ اس سے زیادہ قریب تھا۔ اس مقصد کے لیے یورپ کے تمام عیسائی برشلونہ اور لیون کے عیسائی سلاطین کے پاس جمع ہونے لگے۔ پاپائے روم نے موحدین کی حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور اس کی زبردست تیاریاں ہونے لگیں۔

موحدین کے خلیفہ ابو عبداللہ المعروف محمد الناصر الدین نے عیسائیوں کی اس تیاری اور مسلمانوں کے خلاف یورپ کے اعلان جہاد کے بارے میں سنا تو اس نے بھی مراکش و اندلس سے افواج کو جمع کرکے تقریباً چھ لاکھ فوج جمع کرلی لیکن ناصر الدین کی بدقسمتی سے اس بڑے لشکر میں دشمنوں سے جہاد کا جوش و جذبہ نہ تھا جس کی وجوہات میں ناصر کی التفاتی اور سرداروں کا بد دل ہونا، فوج میں پہلے جیسی طاقت و ہمت نہ رہنا، انہیں کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنا اور ناصر الدین کا بذات خود جنگ میں شرکت نہ کرنا شامل تھے۔

ان تمام باتوں کے باوجود اس نے ایک عظیم فوج جمع کرلیا جبکہ دوسری جانب الفانسو ہشتم کے گرد یورپ کے ہر ملک اور ہر علاقے سے عیسائی جمع ہورہے تھے بلکہ براعظم یورپ کی تمام تر طاقت سلطنت موحدین کےخلاف مجتمع ہوگئی تھی اور یہ کثیر لشکر اپنی تیاریوں کو مکمل کرکے العقاب کے مقام پر خیمہ زن ہوا جہاں اس کا ٹکراؤ ناصر الدین کی افواج سے ہوا۔

طبلِ جنگ[ترمیم]

عیسائیوں میں انتہائی جوش تھا کیونکہ ایک طرف ان کا وہی مذہبی اختلاف اور دوسری طرف سرزمین فلسطین پر شکستوں کا صدمہ تھا جس کی تلافی وہ اندلس میں مسلمانوں کو شکست دے کر کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ 609ھ میں العقاب کے مقام پر عیسائی اور اندلس کے مسلمان صف آرا ہوئے۔ اسلامی لشکر کے کئی سرداران چونکہ بد دل تھے اس لیے وہ جنگ سے قبل ہی فوج سے علیحدہ ہوگئے اور لشکر کی تعداد نصف رہ گئی جبکہ بعض سرداران نے دانستہ جنگ کے دوران اپنی حرکات سے کمزوری کا اظہار کیا اور ناصر الدین کے احکامات کی تعمیل نہ کرکے اس زبردست جنگ کو مسلمانوں کے لیے شکست میں بدل دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقریباً پورا لشکر اپنے انجام کو پہنچا اور صرف ایک ہزار سپاہی ناصر الدین کو بمشکل بچا کر میدان جنگ سے واپس لائے۔

ناصر الدین شکست کھا کر اشبیلیہ آیا اور ادھر عیسائیوں نے اندلس کے مفتوحہ شہروں میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم کردیا۔

اس جنگ نے اندلس میں اسلامی سلطنت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا اور سلطنت موحدین تیزی سے زوال کی جانب گامزن ہوگئی۔

جنگ العقاب میں شکست کھاکر ناصر الدین دل برداشتہ ہوگیا اور مراکش آنے کے کچھ عرصے بعد 610ھ میں اس کا انتقال ہو گیا۔