مغیرہ بن سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مغیرہ کذاب بن سعید عجلی
معلومات شخصیت
پیشہ جادوگری

مغیرہ بن سعيد عجلی فرقہ مغیریہ کا بانی ہے جو غلاة روافض کا ایک گروہ تھا۔ یہ شخص خالد بن عبداللہ قسری والی کوفہ کا آزاد کردہ غلام اور بڑا غالی رافضی تھا۔ حضرت امام محمد باقر کی رحلت کے بعد پہلے امامت کا اور پر نبوت کا دعوی کرنے لگا۔

غیب دانی کا دعوی[ترمیم]

مغیرہ کا دعوی تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کی مدد سے مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں۔ کہا کرتا تھا کہ اگر میں قوم عاد ، ثمود اور ان کے درمیانی عہد کے آدمیوں کو زندہ کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں۔ یہ شخص مقابر میں جا کر بعض ساحرانہ کلمات پڑتا تھا تو ٹڈیوں کی وضع کے چھوٹے چھوٹے جانور قبروں پر اڑتے دکھائی دینے تھے۔ محمد بن عبدالرحمن بن ابو لیلی کا بیان ہے کہ بصرہ کے ایک صاحب طلب علم کے لیے آ کر ہمارے ہاں ٹھہرے۔ ایک دن میں نے اپنی خادمہ کو حکم دیا کہ یہ دو درہم لے جا اور ان کی مچھلی خرید لا۔ یہ حکم دے کر میں اور بصری طالب العلم مغیرہ بن سیعد عجلی کے پاس گئے۔ مغیرہ مجھ سے کہنے لگا اگر چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ تم نے اپنی خادمہ کو کس کام کے لیے بھیجا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ پھر کہنے لگا اگر چاہو تو میں تمہیں یہ بھی بتادوں کہ تمہارے والدین نے تمھارا نام محمد کیوں رکھا تھا؟ میں نے کہا نہیں۔ پبر خود ہی کہنے لگا کہ تم نے اس کو دو درہم کی مچھلی خریدنے کے لیے بھیجا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم دونوں اس کے پاس اٹھ کر چلے گئے۔ غرض مغیرہ کو سحر میں کامل دستگاه حاصل تھی اور اس نے یہ نجات و طلسمات دیکھا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔

عقاید و تعلیمات[ترمیم]

مغیرہ کہتا تھا کہ معبود حقیقی نور کا ایک پیکر انسانی صورت پر ہے۔ الف اس کے دونوں قدموں کی مانند ہے۔ عین اس کی دونوں آنکھوں کے مشابہ ہے۔ کہتا تھا کہ اللہ کے سر پر نورتاج رکھا ہے۔ جب اللہ تعالی نے دنیا کی آفرینیش کا قصد کیا تو اپنے اسم اعظم سے معاً اس اسم نے پرواز کی اور تاج کی شکل اختیار کر کے اس کے فرق مبارک پر آ گیا چنانچہ کہتا تھا کہ یہ آیت سبح اسم ربك الأعلے میں اسم اعلی سے یہی تاج مراد ہے اور کہتا تھا کہ جب رب العزت نے کائنات عالم کو پیدا کرنا چاہا تو اعمال عباد کو اپنی انگلیوں سے لکھا جب رب الارباب نے اپنے بندوں کے ذنوب و معاصی پر غضبناک ہوا تو اس کا جسم عرق آلود ہو گیا جس سے دو دریا بہے نکلے۔ ایک شیریں ہے۔ پھر خدائے قدوس نے دریائے شیر ہیں کی طرف نظر کی تو اس کی شکل و صورت دریا میں منعکس ہوئی۔ حق تعالی نے اپنے پر تو اعمال کا کچھ حصہ لے کر اس سے سورج اور چاند بنائے اور باقی ماندہ عکس کو فنا کر دیا۔ تاکہ اس کا کوئی شریک باقی نہ رہے۔ پر دریائی شیریں میں سے شیعہ پیدا کیے اور دریائے تلخ سے کفار (یعنی غیر شیعہ ) کی تخلیق فرمائی۔

  • (کتاب الخطاط مقریزی ج4 ص176)

پھر اس نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی۔ لیکن انہوں نے اس امانت کو اٹھانے سے انکار کیا۔ یہ امانت کیا تھی ؟ اس بات کا عہد تھا کہ وہ سب حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت میں مزاحم نہ ہوں گے۔ لیکن انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا۔ چنانچہ عمر بن خطاب نے ابوبکر صدیق سے کہا کہ وہ اس بار امانت کو اٹھا کر علی کو اس سے روک دیں اور عمر نے اس شرط پر معاونت کا وعدہ کیا کہ وہ اپنے بعد انہیں خلیفہ بنائینگے۔ ابو بکر نے اس بات کو اٹھا لیا اور ان دونوں نے غلبہ پا کر علی کو اس سے روک دیا۔ یہ شخص تمام صحابہ کرام رضوان الله علم اجمعین کی باستثناء ان حضرات کے جنہوں نے حضرت علی کی رفاقت اختیار کی۔ (معاذ الله) تکفیر کرتا تھا۔

  • (الفرق بين الفرق ص 231 ، 229 )

جھوٹی پیش گوئی[ترمیم]

مغیرہ کا عقیدہ تھا کہ حضرت علی، حسن، حسین کے بعد امامت جناب محمد بن عبداللہ بن حسن مثنی بن امام حسن مجتبی بن امیر المومنین علی کرم اللہ وجہ کی طرف منتقل ہو گئی جو نفس ذکیہ کے لقب سے مشہور تھے۔ اس شخص کا استدلال اس حدیث نبوی سے تھا جس میں پیغمبر علیہ الصلوة والسلام نے حضرت مهدی علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے کہ ان کا اور ان کے والد کا نام میرے اور والد کے نام کے موافق ہو گا۔ یہ وہی محمد بن عبداللہ حسنی ہیں جنہوں نے خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے عہد خلافت میں خروج کر کے حجاز مقدس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور خلیفہ منصور نے ان کے مقابلہ میں عیسی بن موسی کے زیر قیادت مدینہ منورہ فوج بھیجی تھی اور جناب نفس زکیہ اس معرکہ میں جرعہ مرگ پی کر دار الخلد چلے گئے تھے۔ یہ 145ھ کا واقعہ ہے لیکن مغیرہ اس سے چھبیس سال پہلے خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی کے عہد خلافت میں حلف تیغ بن چکا تھا جناب نفس زکیہ کو مهدی آخر الزمان قرار دے کر اور یہ کہ کر جھوٹ بولا تھا کہ یہی روئے زمین کے مالک ہوں گے حالانکہ نفس زکیہ سپاه منصوری کے ہاتھ سے قتل ہو گئے اور نہ صرف روئے زمین کے بلکہ اس کے بیسویں تیسویں حصہ کے بھی مالک نہ ہو سکے۔ البتہ ایک گروہ بدستور اپنی خوش اعتقادی پر ثابت قدم رہا۔ موخر الذکر جماعت نے مرزائیوں کی طرح سخن سازی سے کام لے کر اپنے دل کو بہلا لیا اور یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت محمد بن عبد الله نفس زکیہ قتل نہیں ہوئے بلکہ وہ کوہ حاجر میں جا کر مستور ہو گئے ہیں اور جب انہیں حکم ہوگا تو ظاہر ہو کر رکن اور مقام ابراہیم کے در میان لوگوں سے بیعت لیں گے اور مخالف احزاب و جیوش کو منہزم کر کے روئے زمین پر اپنا عمل و دخل کر لیں گے۔ جب ان لوگوں سے سوال کیا جاتا کہ پھر وہ شخص کون تھا جسے خلیفہ ابو جعفر منصور کے لشکر نے نذر اجل کیا تو اس کاوه یہ مضحکہ خیز جواب دیتے کہ وہ ایک شیطان تھا کہ جس نے محمد بن عبداللہ نفس زکیہ کی شکل و صورت اختیار کر لی تھی۔ غرض روافض کی موخر الذکر جماعت اس بنا پر محمدیہ کے نام سے موسوم ہے کہ لوگ مین عبداللہ نفس زکیہ کی آمد کے منتظر ہیں۔

  • (القرق ص132)

زندہ نذر آتش کیا جانا[ترمیم]

جب خالد بن عبد الله قسری کو جو خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا امیر تھا معلوم ہوا کہ مغیره مدعی نبوت ہے اور اس نے طرح طرح کی شناختیں جاری کر رکھی ہیں۔ تو اس نے 119ھ میں اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اس کے چھ مرید بھی پکڑے آئے۔ خالد نے مغیرہ سے دریافت کیا کہ تمہیں نبوت کا دعوی ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر اس کے مریدوں سے پوچھا کہ کیا تم اس کو نبی یقین کرتے ہو؟ انہوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔ خالد نے مغیرہ کو ارتداد کی وہ بڑی سے بڑی سزا دینی چائی جو اس کے خیال میں سما سکی۔[1] خالد نے مغیرہ کو سرکنڈوں کے گھٹوں کے ساتھ باندھا اور تیل چھڑک کر اس کو زندہ جلا کر جہنم واصل کر دیا۔ خالد نے جوش میں آ کر اس کو آگ کی سزا دی ورنہ حدیث شریف میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت کی گئی ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جھوٹے نبی مولف ابو القاسم رفیق دلاوری صفحہ 128 اور 133 تا 136
  2. بائیس جھوٹے نبی تالیف نثار احمد خان فتحی صفحہ 39