ملکہ نور اردن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نور
(عربی میں: نور الحسينخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ملکہ نور 2011
ملکہ نور 2011

اردن کی ملکہ رانی
دور حکومت 15 جون 1978 – 7 فروری 1999
ساتھی yes
معلومات شخصیت
پیدائشی نام Lisa Najeeb Halaby
اصل نام نور الحسین
پیدائش 23 اگست 1951ء (عمر سال)
واشنگٹن ڈی سی، امریکا
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا (1951–1978)
Flag of Jordan.svg اردن (1978–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
شوہر شاہ حسین بن طلال
(دوران 1978–99; وفات شدہ)
والد Najeeb Halaby
والدہ Doris Carlquist
خاندان ہاشمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل
دیگر معلومات
مادر علمی Princeton University (A.B.)
پیشہ مصنف،آپ بیتی نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

اردن کی ملکہ۔ مرحوم شاہ حسین کی بیوہ ۔ واشنگٹن ڈی سی میں پیدا ہوئیں۔ پیدائشی نام لیزا نجیب حلبی اور والد کا نام نجیب حلبی ہے۔ 15 جون 1978ء سے 7 فروری 1999ء تک اردن کی ملکہ رہیں ملکہ نور کے والد نجیب حلیمی امریکہ میں امریکی ورلڈ ائیرویز کے سی ای او تھے انہوں نے یو ایس کے ڈیفنس ڈپٹی سیکرٹری کے فرائض بھی سرانجام دئیے ۔ ملکہ نور کے چار بچے ہیں جن کے نام حمزہ ، ہاشم ، ایمان ، ریاح ہیں۔

ملکہ نور پوری دنیا میں امن و انصاف اور تعلیم کے فروغ کے لیے عالمی تنظیموں میں بہت سرگرم عمل ہیں اور خواتین کے حوالے سے مختلف اداروں میں انہوں نے ان کے حقوق کے بارے میں آواز اٹھائی ۔ ملکہ نور نے عالمی اداروں کے فورم پر مغربی اور مشرقی لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ عرب مسلم خواتین کا کلچر ہے اور وہ کس طرح سیاست میں حصہ لے سکتی ہیں اور ان میں انہوں نے یہ بیداری اجاگر کر دی کہ عرب مسلم خواتین سیاست میں حصہ لے کر اپنے حقوق کے لیے کردار ادا کریں انہوں نے عرب مغربی تعلقات ، غربت ، مہاجرین ، گم شدہ افراد اور دیگر مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی فورم پر آواز اُٹھائی اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مسائل ہیں ان کو حل کرنا اور ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امن قائم کیا جائے۔

ملکہ نور کے ایچ ایف اور کنگ حسین فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی سربراہ ہیں اور اس تنظیم کو انہوں نے 1999ء میں بنایا ۔ اس تنظیم کا کام اردن اورخاص کر پوری قوم کے مقامی طور پر اور عالمی سطح پر تعلیم کے حوالے سے لیڈر شپ اورمعاشی ترقی کے حوالے سے فن و ثقافت کے حوالے ڈائیلاگ کرنا ہے اور ان کے ملک کا میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔