موتی رام بھٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موتی رام بھٹ
(نیپالی میں: मोतिराम भट्ट خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Motiram Bhatta.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1866  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کھٹمنڈو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1896 (29–30 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کھٹمنڈو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Nepal (1775–1962).svg سلطنت نیپال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان نیپالی،  وسنسکرت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

موتی رام بھٹ (نیپالی: मोतीराम भट्ट؛‏ 1866ء–1896ء) نیپالی شاعر اور ادیب تھے۔ نیپالی ادب کے لیے ان کی بے مثال خدمات ہیں۔ انہوں نے گویا نیپالی ادب میں نئی روح پھونکی۔ وہ موتی رام ہی تھے جنہوں نے نیپالی ادیب بھانو بھکت آچاریہ کی راماین کو شائع کر کے فروغ دیا اور نیپال بھر میں پھیلایا اور یوں نیپالی زبان اور ادب کا نیا عہد شروع ہوا۔[1]

سوانح[ترمیم]

1866ء (مطابق 1923 وکرم سمبت) میں نیپال کے شہر کھٹمنڈو کے مقام بھوسیکو ٹولما (भोसिको टोलमा) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بنارس میں ہوئی جہاں انہوں نے سنسکرت، ہندی اور انگریزی کے علاوہ اردو اور فارسی بھی سیکھی۔ بعد میں وہ کھٹمنڈو کے دربار اسکول میں شریک ہوا اور انٹرنس امتحان کامیاب کرنے کے بعد کلکتہ کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔ وہاں ان کی ملاقات ہندی کے ادیب بھارتیندو ہریش چندر سے ہوئی جو ان کے دوست اور رہبر بن گئے۔ بنارس میں وہ رام کرشن برما کے "بھارت جیون پریس" سے منسلک رہے اور وہیں سے "بھارت جیون" کے نام سے نیپالی میں ایک رسالہ نکالا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وہیں سے بھانو بھکت آچاریہ کی راماین اور کئی کتابیں جن میں بھانو بھکت آچاریہ کی سوانح حیات بھی شامل ہے، شائع کیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں شکنتلا، پریہ درشکا، گجندرمکش، پرہلادبھکتی کتھا، اوشاچرتر وغیرہ مقبول ہیں۔ 1896ء (مطابق 1953 وکرم سمبت) میں علالت کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔[1]

موتی رام نے نیپال میں پہلا کتب خانہ قائم کیا تھا۔ بعد میں یہی کتب خانہ مطالعہ اور علمی گفتگو کے لیے مرکز اور شعور اجاگر کرنے کا فورم بنا۔ موتی رام ایک انقلابی مصنف تھے، ان سے قبل شعرا، مصنفین قدیم طرز تحریر اپناتے تھے۔ موتی عام نے اس روایت کو توڑا اور اس زبان میں لکھا جس کو تمام سمجھ سکیں۔ ترتیب اور آہنگ موتی رام کی نظموں کا معیاری فارمولا جیسا ہے۔ یہی طرز موتی رام کی پہچان ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Motiram Bhatta - Legend of Nepali Literature" (انگریزی زبان میں)۔ Kathmandu: We All Nepali۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-25۔