وقار حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وقار حسن
ذاتی معلومات
پیدائش12 ستمبر 1932(1932-09-12)
امرتسر، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ بھارت)
وفات10 فروری 2020(2020-02-10)
کراچی
بلے بازیRight-hand بلے بازی
گیند بازیRight-arm گیند بازی
حیثیتبلے بازی
تعلقاتپرویز سجاد (بھائی)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ16 اکتوبر 1952  بمقابلہ  بھارت
آخری ٹیسٹ21 نومبر 1959  بمقابلہ  آسٹریلیا
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 21 99
رنز بنائے 1,071 4,741
بیٹنگ اوسط 31.50 35.64
100s/50s 1/6 8/27
ٹاپ اسکور 189 201*
گیندیں کرائیں 6 294
وکٹ 0 2
بولنگ اوسط 86.00
اننگز میں 5 وکٹ 0
میچ میں 10 وکٹ 0
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 10/– 47/–
ماخذ: کرک انفو، 10 فروری 2020ء

وقار حسن (12 ستمبر 1932ء| 10 فروری 2020ء) انڈیا کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے تھےایک پاکستانی کرکٹر ہیں۔جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 21 ٹیسٹ میچ کھیلے وقارحسن ایک ماہر سٹروک پلیئرتھے اور بہت عمدہ فیلڈر بھی۔ انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کا آغاز17 سال کی عمر میں کیا انہوں نے پاکستان ایگلزکی طرف سے1951ء میں انگلینڈ کادورہ کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز[ترمیم]

1952-53 میں دورہ بھارت کے دوران میں جب ممبئی کے مقام پر تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم صرف 60 رنز پر6 وکٹ گنوا چکی تھی تو وقار حسن نے پہلی اننگز میں 81 رنز بناکر ٹیم کوسہارادیا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں بھی65رنزبنائے تاہم بھارت یہ ٹیسٹ10وکٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہوگیاتھا۔اسی سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میں انہوں نے ایک مرحلے پر ہاتھ سے نکلنے والے میچ میں پانچ گھنٹے کریزپرجمے رہ کر97 رنز کی باری مکمل کی اورٹیسٹ کوڈرا تک لے گئے یہی نہیں بلکہ وقار حسن نے کئی مواقعوں پر ٹیم کے لیے مردِ بحران کاکرداراداکیا۔بھارت کے خلاف اس اولین سریزمیں انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی آٹھ اننگز میں 357 رنز بنائے۔44.62 کی اوسط سے تین نصف سنچریوں کے ساتھ وہ پاکستان کی طرف سے نمایاں سکورر تھے۔ اگلی سیریز میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں وہ زیادہ متاثر نہ سکے اورصرف 14.71 کی اوسط سے 53 رنز کی واحد نمایاں باری ہی ان کے کھاتے میں درج ہوئی۔ اس کے بعد بھارت کے خلاف ملکی سرزمین پرانہوں نے دونصف سنچریاں بناڈالیں۔ 52 رنز کی بڑی اننگزکے ساتھ ان کی اوسط30.50تھی جبکہ مجموعی رنز 244 تھے۔اگلی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف تھی یہاں ان کو لاہورکے ٹیسٹ میں اپنی اعلیٰ کارکردگی دکھانے کاموقع ملا۔ جس میںبھی پاکستان کی ٹیمایک مرحلے پر 111 رنز پر 6 وکٹ گنوا چکی تھی اس موقع پروقاراحمد نے امتیازاحمد کے ساتھ مل کر300 رنزکی شراکت قائم کی جوایک عرصے تک ریکارڈ رہا۔اس کے بعد وقارحسن نے آسٹریلیا اورویسٹ انڈیزکے خلاف چارٹیسٹ میچ بھی کھیلے مگر کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھاسکے۔ آسٹریلیاکے خلاف 1959ء میں لاہورٹیسٹ ان کا آخری ٹیسٹ تھا تاہم وہ أ1965ء تک فرسٹ کلاس کرکٹ سے وابستہ رہے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

وقارحسن کی شادی بھارت کی ابتدائی فلمی اداکارہ سلطانہ رضا کی بیٹی جمیلہ رزاق سے ہوئی' سلطانہ رضا بھارت کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر فاطمہ بیگم کی پوتی تھی اوربھارت کی پہلی بولتی فلم عالم آرا کی اداکارہ زبیدہ کی نواسی تھی۔1954ء میں وقار حسن لاہور سے کراچی منتقل ہوگئے اورپاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ سینما انسپکٹر کے طورپر کام کرنے لگے ۔1960ء کے آغاز میں وہ کاروباری شعبے میں آگئے اورملک کے ایک بڑے ادارے نیشنل فوڈز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے۔وقار حسن کے مطابق ’کاروبار شروع کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ 1960 میں ٹیسٹ ٹیم میں میری جگہ نہیں بن رہی تھی مگر بنیادی وجہ معاشی تھی۔ میں نے 27 سال کی عمر میں ہی اپنا کاروبار شروع کر لیا تھا کیونکہ میں نے عامر الہیٰ اور وزیر علی جیسے ساتھی کھلاڑیوں کو بہت اچھی زندگی گزارتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔‘2002ء میں انہوں نے کرکٹ جرنلسٹ قمراحمد کی معاونت سے اپنی آب بیتی ''کرکٹ اینڈ کنٹری'' تحریر کی۔

پرکشش سٹروک میکر[ترمیم]

برطانوی صحافی کرسٹوفر مارٹن جینکنز نے ’ورلڈ کرکٹرز، ایک بائیوگرافیکل ڈکشنری (آکسفورڈ، 1996)‘ میں وقار کے بارے میں لکھا کہ ’وقار حسن ایک پرکشش سٹروک میکر اور مشکل صورت حال کے بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ فیلڈر تھے۔‘

دی کرکٹ منتھلی‘ کو انٹرویو[ترمیم]

نومبر 2012 میں ’دی کرکٹ منتھلی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وقار حسن نے کہا تھا کہ ’اس سے مجھے بے حد اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ میں نے ’پاکستان کا پہلا کھلاڑی‘ ہونے کے متعدد اعزاز اپنے نام کیے۔ میں ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں نصف سنچری بنانے والا پہلا کھلاڑی بنا، انگلینڈ میں پہلی نصف سنچری بنائی، پاکستان میں کھیلتے ہوئے پہلی نصف سنچری بنائی، ہوم ٹیسٹ میں دو نصف سنچریاں بنانے والا کھلاڑی بنا، حنیف محمد کے ساتھ پہلی سنچری پارٹنرشپ قائم کی اور 1955-56 میں امتیاز احمد کے ساتھ پہلی ڈبل سنچری پارٹنرشپ بنائی۔‘

وفات[ترمیم]

پاکستان کی اولین کرکٹ ٹیم کے یہ آخری کھلاڑی 10 فروری 2020ء کو کراچی میں 87 سال اور 157 دن۔کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]