وقار حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وقار حسن
ذاتی معلومات
پیدائش12 ستمبر 1932(1932-09-12)
امرتسر, پنجاب, برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے (now بھارت)
بلے بازیRight-hand بلے بازی
گیند بازیRight-arm گیند بازی
حیثیتبلے بازی
تعلقاتپرویز سجاد (brother)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ16 October 1952  بمقابلہ  بھارت
آخری ٹیسٹ21 November 1959  بمقابلہ  Australia
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 21 99
رنز بنائے 1071 4741
بیٹنگ اوسط 31.50 35.64
100s/50s 1/6 8/27
ٹاپ اسکور 189 201*
گیندیں کرائیں 6
وکٹ 2
بولنگ اوسط 86.00
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 10/– 47/–
ماخذ: CricketArchive، 10 March 2013

وقار حسن (12 ستمبر 1932ء) کو امرتسر سابقہ ہندوستان میں پیدا ہوئے )ایک پاکستانی کرکٹر ہیں۔جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 21 ٹیسٹ میچ کھیلے وقارحسن ایک ماہر سٹروک پلیئرتھے اور بہت عمدہ فیلڈر بھی۔ انہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کا آغاز17 سال کی عمر میں کیا انہوں نے پاکستان ایگلزکی طرف سے1951ء میں انگلینڈ کادورہ کیا۔1953-1952 میں دورہ بھارت کے دوران جب ممبئی کے مقام پر تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم صرف 60 رنز پر6 وکٹ گنوا چکی تھی تو وقار حسن نے پہلی اننگز میں 81 رنز بناکر ٹیم کوسہارادیا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں بھی65رنزبنائے تاہم بھارت یہ ٹیسٹ10وکٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہوگیاتھا۔اسی سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میں انہوں نے ایک مرحلے پر ہاتھ سے نکلنے والے میچ میں پانچ گھنٹے کریزپرجمے رہ کر97 رنز کی باری مکمل کی اورٹیسٹ کوڈرا تک لے گئے یہی نہیں بلکہ وقار حسن نے کئی مواقعوں پر ٹیم کے لئے مردِ بحران کاکرداراداکیا۔بھارت کے خلاف اس اولین سریزمیں انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی آٹھ اننگز میں 357 رنز بنائے۔44.62 کی اوسط سے تین نصف سنچریوں کے ساتھ وہ پاکستان کی طرف سے نمایاں سکورر تھے۔ اگلی سیریز میں انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں وہ زیادہ متاثر نہ سکے اورصرف 14.71 کی اوسط سے 53 رنز کی واحد نمایاں باری ہی ان کے کھاتے میں درج ہوئی۔ اس کے بعد بھارت کے خلاف ملکی سرزمین پرانہوں نے دونصف سنچریاں بناڈالیں۔ 52 رنز کی بڑی اننگزکے ساتھ ان کی اوسط30.50تھی جبکہ مجموعی رنز 244 تھے۔اگلی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف تھی یہاں ان کو لاہورکے ٹیسٹ میں اپنی اعلیٰ کارکردگی دکھانے کاموقع ملا۔ جس میںبھی پاکستان کی ٹیمایک مرحلے پر 111 رنز پر 6 وکٹ گنوا چکی تھی اس موقع پروقاراحمد نے امتیازاحمد کے ساتھ مل کر300 رنزکی شراکت قائم کی جوایک عرصے تک ریکارڈ رہا۔اس کے بعد وقارحسن نے آسٹریلیا اورویسٹ انڈیزکے خلاف چارٹیسٹ میچ بھی کھیلے مگر کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھاسکے۔ آسٹریلیاکے خلاف 1959ء میں لاہورٹیسٹ ان کا آخری ٹیسٹ تھا تاہم وہ أ1965ء تک فرسٹ کلاس کرکٹ سے وابستہ رہے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

وقارحسن کی شادی بھارت کی ابتدائی فلمی اداکارہ سلطانہ رضا کی بیٹی جمیلہ رزاق سے ہوئی' سلطانہ رضا بھارت کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر فاطمہ بیگم کی پوتی تھی اوربھارت کی پہلی بولتی فلم عالم آرا کی اداکارہ زبیدہ کی نواسی تھی۔1954ء میں وقار حسن لاہور سے کراچی منتقل ہوگئے اورپاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ سینما انسپکٹر کے طورپر کام کرنے لگے ۔1960ء کے آغاز میں وہ کاروباری شعبے میں آگئے اورملک کے ایک بڑے ادارے نیشنل فوڈز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔2002ء میں انہوں نے کرکٹ جرنلسٹ قمراحمد کی معاونت سے اپنی آب بیتی ''کرکٹ اینڈ کنٹری'' تحریر کی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]