ولادہ بنت المستکفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ولادہ بنت المستکفی
(عربی میں: ولادة بنت المستكفي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش قرطبہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 مارچ 1091  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قرطبہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت اندلس  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آنکھوں کا رنگ نیلا  ویکی ڈیٹا پر (P1340) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ساتھی ابن زیدون  ویکی ڈیٹا پر (P451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد مستکفی باللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادہ بنت المستکفی اندلس کی شہزادی تھی، عربی زبان کی بہترین شاعرہ تھی۔ اندلس کی اموی سلطنت کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، اندلس کی اموی سلطنت کے گیارہویں حکمران محمد مستکفی باللہ کی بیٹی تھی۔ عربی شاعری اور عربی کلام کی فصاحت و بلاغت میں مشہور تھی، قرطبہ میں شعر و ادب کی محفل کا انعقاد کرتی تھیں جس میں بڑے بڑے ادبا اور شعرا "اندلس میں شعر و ادب" پر گفتگو کرتے تھے۔ والد کے قتل کے بعد ان کی زندگی بدل گئی تھی، ابن زیدون سے تعلق بھی رہا اور کچھ ہی عرصہ میں ٹوٹ گیا۔ پوری زندگی شادی نہیں کی۔[2][3][4]

نسب و ولادت[ترمیم]

نسب: ولادہ بنت محمد مستکفی باللہ بن عبد الرحمن بن عبید اللہ بن عبد الرحمن الناصر بن محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبدالرحمن ثانی بن حکم ربضی بن ہشام رضا بن عبد الرحمن الداخل امویہ قریشیہ۔

ان کی والدہ ایک ہسپانوی باندی تھیں، سفید جلد، سرخ بال اور نیلی آنکھیں اس سے وراثت میں پائی تھی، اپنے زمانے کے شعرا کے ساتھ اٹھتی بیٹھی بلکہ ان سے مقابلہ بھی کرتی تھیں۔

ولادت: ولادہ کی پیدائش اندلس میں حکمران خاندان کے گھر میں سنہ 994 عیسوی میں ہوئی۔

شعری نمونہ[ترمیم]

والدہ ایک فصیح الکلام ادیب اور بہترین شاعرہ تھیں، ان کے دو مشہور اشعار جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی قمیص کے کنارے میں لکھا رہتا تھا۔ دونوں اشعار کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

بخدا میں بلندیوں کی سزاوار اور مستحق ہوں، میں جب اپنی چال چلتی ہوں تو مست ہوکر کھو جاتی ہوں۔

میں اپنے عاشق کو اپنے رخسار کے صحن کا مالک بنا دیتی ہو، پھر وہ جتنا بوسہ چاہیے میں پیش کر دیتی ہوں۔

ابن زیدون سے تعلق[ترمیم]

ولادہ نے اپنے والد محمد مستکفی باللہ کے قتل کے بعد اپنے گھر کو شعر و ادب کا گہوارہ بنا لیا اور بہت سے لہو ولعب میں مشغول ہو گئی۔ اسی عرصہ میں ولادہ نے ابن زیدون سے تعلق قائم کیا اور دونوں کی محبت کے قصے مشہور ہونے لگے۔ مگر یہ عشق زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا، اس کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ابن زیدون نے ایک سیاہ فام باندی سے تعلق قائم کر لیا جو گایا کرتی تھی اور ولادہ کی غیرت کو بھڑکایا کرتی تھی۔ ولادہ نے شعر میں ابن زیدون پر یوں عتاب کیا ہے، اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

اگر تم ہمارے درمیان عشق و محبت میں منصف ہوتے تو یہ باندی ہمارے درمیان آ کر تم سے عشق ہر گز نہ لڑاتی۔

تم نے اس شاخ کو چھوڑ دیا جو پھل دے سکتی تھی، اور اس شاخ کی طرف نکل گئے جو پھل نہیں دے گی۔

مجھے معلوم تھا کہ میں آسمان کا چاند ہوں، لیکن پھر بھی میں مشتری سے فروخت ہو گئی تھی۔

تاہم ولادہ اپنے عشق کی ناکامی کی زیادہ پرواہ نہیں کرتی تھی، بس غصہ میں اس سے انتقام لینا چاہتی تھی، آغاز میں اس کے لیے ایک ناسمجھ آدمی کو تیار بھی کیا تھا۔ پھر بعد میں ولادہ نے ابن زیدون سے تمام تعلقات یکسر ختم کر لیے۔

وفات[ترمیم]

ولادہ نے طویل عمر پائی اور پوری زندگی شادی نہیں کی۔ وفات 28 صفر سنہ 484ھ مطابق 26 مارچ 1091ء میں ہوئی۔ ولادہ چونکہ اپنے زمانے کی بڑی شاعرہ اور ادیبہ تھیں، شعر میں ان کا ممتاز مقام تھا اس لیے ان کی وفات سے شعری ذوق رکھنے والے ان کے محبین کو کافی صدمہ پہنچا تھا۔

  1. ربط : https://d-nb.info/gnd/102369550  — اخذ شدہ بتاریخ: 22 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. "معلومات عن ولادة بنت المستكفي على موقع id.loc.gov". id.loc.gov. 16 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  3. . dbe.rah.es https://web.archive.org/web/20190411050210/http://dbe.rah.es/biografias/4838/wallada-bint-al-mustakfi. 11 اپریل 2019 میں [معلومات عن ولادة بنت المستكفي على موقع dbe.rah.es اصل] تحقق من قيمة |url= (معاونت) سے آرکائیو شدہ.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)
  4. "معلومات عن ولادة بنت المستكفي على موقع id.worldcat.org". id.worldcat.org. 16 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ.