ٹھگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ٹھگ
Group of Thugs.gif
Group of Thugs ca. 1894
قیام 1356 سے قبل
نام منسوب سنسکرت لفظ sthaga स्थग مطلب ہوشیار یا مکار، ہوشیاری، دھوکا دہی، بے ایمانی
مقام قیام وسطی ایشیا
فعال سال 450 سال تقریبا
خطہ برصغیر
نسلیت بھارتی
مجرمانہ سرگرمیاں قتل، ڈاکہ

ٹھگ (انگریزی: Thuggee; ہندی: نیپالی ठग्गी ṭhagī; اردو: ٹھگ; سنسکرت: sthaga; سندھی: ٺوڳي، ٺڳ; کنڑا: ಠಕ್ಕ thakka) وہ جرائم پیشہ لوگ جو سادہ لوح لوگوں کو دھوکا اور فریب دے کر لوٹ لیتے تھے۔ بعض اوقات یہ لوگ اپنے شکار کو جان سے مار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ایسے لوگ تقریبا ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو زوال آیا اور ملک میں طوائف الملوکی پھیل گئی تو یہاں ٹگی ایک منظم پیشہ بن گیا۔ یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے مسافروں کو لوٹ لیاکرتے تھے۔ اگر ایک ٹھگ ناکام رہتا تو وہ اپنے شکار کو دوسرے علاقے کے ٹھگ کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔ ان کا بڑا ہتھار رومال یا پھندا ہوتا تھا۔ جس سے وہ آناً فاناً اپنے شکار کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے۔

یہ لوگ کالی دیوی کے پچاری تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کالی دیوی ہی ان سے یہ جرائم کراتی اور ان کی حفاظت کرتی ہے۔ لاکھوں آدمی ان کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ آخر 1829ء میں لارڈ نبٹنگ نے ٹھگوں کے خاتمے کے لیے نفاذ قانون کے ادارے کاایک خاص محکمہ بنایا اور 1836ء میں ان کے انسداد کے لیے ایک خاص قانون وضع کرنا پڑا۔ تاکہ لوگوں کو سزا دی جائے۔ جو ان کی اعانت کرتے ہیں۔ بری مشکل کے بعد ان پر قابو پایا جاسکا۔

ٹھگوں کی فطرت[ترمیم]

قرون وسطٰی میں ٹھگوں کی سرشت میں بے رحمی اور دھوکا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے کسی بھی مسافر یا قافلے پر سیدھے طور پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ اکثر ان کے کام کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی مسافر راہ گیر سے یہ لوگ بھی مساوی طور پر ایک مسافر و راہ گیر کے طور پر ملتے تھے۔ یہ لوگ مسافروں کی ہم زبان گفتگو کرتے تھے۔ مسافروں کے حالات سننتے اور خود کے حالات کو بھی ان سے مشابہ بتاتے اور ان کی مکمل ہم دردی اور اعتماد حاصل کرتے۔ وہ لوگ کچھ معاملوں میں دوسروں کی مدد میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ اپنے حالات اور اپنے بیان کی سچائی کی خاطر اکثر ٹھگ مسافروں جیسے کپڑے پہنتے تھے اور ساتھ میں عام مسافروں جیسا ساز و سامان رکھتے تھے۔ یہ لوگ اپنی جگہوں کے جغرافیہ سے بہ خوبی واقف تھے اور عام مسافروں کو کئی بار راستوں کی رہ نمائی کرتے تھے اور ان کے ساتھ میلوں چلتے تھے۔ تاہم یہ ٹھگ اپنے شکار کو اکثر ایک ایسی جگہ لے جاتے تھے جو عام طور سے ویران ہوتی اور پھر اپنے شکار کو جھپٹ کر ہلاک کر دیتے تھے اور اس کا سامان لوٹ لیتے تھے۔ قتل کی اکثر وارداتیں یہ لوگ ویران مقامات پر انجام دیتے تھے۔ کبھی کبھی یہ لوگ حالات کا دوسری طریقے سے بھی ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان مواقع میں سے ایک صورت حال یہ تھی کہ ایک مسافر طویل چہل قدمی کے بعد تھک کر سو جاتا تھا۔ ایسے میں یہ لوگ اس شخص پر چاقو یا خنجر سے وار کرتے تھے اور سامان لوٹ لیتے تھے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی مسافر طویل راستہ چلنے کے بعد پیاس سے تڑپتا ہے، انتہائی تھکاوٹ سے اپنے آپ کو کسی کام کے قابل نہیں بتاتا۔ ایسے مواقع پر ٹھگ اپنی اصلیت دکھاتے اور اس شخص کو مارکر اس کا مال لوٹ لیتے۔ جب کئی مسافرین کا گروہ ایک مخصوص مقام سے سفر کرتا تھا، تب اکثر یوں ہوتا کہ ٹھگ بھی ان میں ایک یا دو گروہ کی شکل میں شامل ہوتے تھے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرتے تھے، مگر باطنی طور پر لوٹ مار کے صحیح موقع کا انتظار کرتے تھے۔ ہر ٹھگ گروہ کا ایک سردار تھا جو ان مواقع پر باقی لوگوں کو اپنی رہ نمائی کرتا تھا۔ اگر کبھی ایسا ہوتا کہ مسافر کسی گروہ یا اس ارکان پر شک کریں تو یہ لوگ اپنے ساتھیوں یا ساتھیوں کے دوسرے گروہ کو آگاہ کرتے تھے کہ وہ کوئی مشکوک اور مشتبہ حرکت نہ کریں۔ سب لوگ لوٹ مار اور قتل کے لیے صحیح وقت کا انتظار کرتے تھے۔ کوئی ٹھگ لوٹ یا قتل کو دل سے برا نہیں سمجھتا تھا۔ بلکہ یہ لوگ اسے اپنا مقدس فریضہ مانتے تھے۔ سبھی ٹھگ مرد ہوا کرتے تھے اور ان کے گروہ کی رکنیت موروثی تھی۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]