چندرکانت پنڈت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
چندرکانت پنڈت
Chandrakant Pandit.JPG
ذاتی معلومات
مکمل نامچندرکانت سیتارام پنڈت
پیدائش30 ستمبر 1961(1961-09-30)
بمبئی، مہاراشٹرا، ہندوستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
حیثیتوکٹ کیپر، بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 174)19 جون 1986  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ25 جنوری 1992  بمقابلہ  آسٹریلیا
پہلا ایک روزہ (کیپ 57)10 اپریل 1986  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
آخری ایک روزہ20 جنوری 1992  بمقابلہ  آسٹریلیا
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 5 36
رنز بنائے 171 290
بیٹنگ اوسط 24.42 20.71
100s/50s -/- -/-
ٹاپ اسکور 39 33*
گیندیں کرائیں
وکٹ
بولنگ اوسط
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ n/a
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 14/2 15/15
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو[1]، 4 فروری 2006

چندرکانت سیتارام پنڈت (پیدائش: 30 ستمبر 1961ء بمبئی، مہاراشٹر) ایک سابق ہندوستانی کرکٹر ہے جس نے 1986ء سے 1992ء تک 5 ٹیسٹ اور 36 ون ڈے کھیلے وہ ہندوستانی قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز تھے۔ انہوں نے 19 جون 1986ء کو ہیڈنگلے، لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا اسی میچ میں انگلینڈ کے وکٹ کیپر بروس فرنچ نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ آخر کار ہندوستان نے سیریز 2-0 سے جیت لی۔ 10 اپریل 1986ء کو آسٹریلیا-ایشیا کپ میں شارجہ میں ان کا ون ڈے ڈیبیو نیوزی لینڈ کے خلاف تھا۔ وہ 1987ء کے ورلڈ کپ کے لیے بھارت کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ تھے۔ اس نے اپنے آبائی شہر، ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ میں دلیپ وینگسرکر کی جگہ لی، اور تیز رفتار 24(30گیندوں پر) اسکور کیے؛ تاہم بھارت وہ میچ ہار گیا۔ [2]

بطور کوچ شہرت کیسے پھیلی؟[ترمیم]

پنڈت پھر کرکٹ کوچ بن گئے، ممبئی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کامیاب کام کرتے رہے۔ انہوں نے 2018ء اور 2019ء میں لگاتار دو رنجی ٹرافی جیتنے کے لیے ودربھ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی۔ وہ 2022ء میں مدھیہ پردیش کی ٹیم کے ساتھ رنجی ٹرافی بھی جیت چکے ہیں۔ بھارت کے سابق وکٹ کیپر بلے باز چندرکانت سیتارام پنڈت کا نام ان دنوں انڈیا کے کرکٹ میدانوں میں بہت گونج رہا ہے۔ لیکن ان کی تعریف ایک کرکٹر کے بجائے ایک کوچ کے طور پر ہو رہی ہے۔اپنی کوچنگ میں انھوں نے انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کو پہلی بار ’رانجی ٹرافی‘ کا چیمپیئن بنایا ہے۔ خیال رہے کہ رانجی ٹرافی انڈیا کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے اہم لیگ ہے۔ وہ 23 سال پہلے یعنی 1999ء میں بطور کپتان جو کام نہیں کر پائے تھے وہ بطور کوچ کر دکھایا۔ خیال رہے کہ ان کی کپتانی میں ان کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی۔اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ فائنل بھی بنگلور کے اسی چنّاسوامی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جہاں حال ہی میں ہی میں ختم ہونے والا رانجی ٹرافی کا فائنل کھیلا گیا۔ بہر حال 23 سال بعد فرق صرف اتنا تھا کہ چندرکانت پنڈت کی کپتانی میں مدھیہ پردیش فائنل میں کرناٹک سے ہار گئی تھی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔اس بار مدھیہ پردیش نے رنجی ٹرافی میں 41 مرتبہ کی چیمپیئن ممبئی کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے۔

رنجی ٹرافی کا چیمپیئن بننا کوئی معمولی بات نہیں[ترمیم]

یہ کارنامہ اس ٹیم نے آدتیہ سریواستو کی قیادت میں انجام دیا جو مدھیہ پردیش کی پہلی بار قیادت کر رہے تھے۔ کپتان چندرکانت پنڈت کے ہاتھ سے جو ٹرافی چھوٹ گئی تھی اسے پنڈت نے نم پلکوں کے ساتھ کوچ کے طور پر تھام رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فائنل جیتنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ’ہر ٹرافی خوشی دیتی ہے لیکن یہ خاص ہے۔ ان تمام سالوں کے دوران میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ میں نے کہیں کچھ کھو دیا ہے، اس لیے میں بہت جذباتی ہوں۔‘بہرحال 23 برسوں کے افسوس کا خاتمہ بالآخر خوشی پر ہوا۔ ویسے چندرکانت پنڈت کی کوچ کے طور پر یہ کامیابی نئی نہیں ہے۔ بطور کوچ یہ ان کا چھٹا رانجی ٹرافی ٹائٹل ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ ممبئی کو تین بار اور ودربھ کو دو بار رانجی ٹرافی چیمپیئن بنا چکے ہیں۔ ان کی کوچنگ میں ودربھ کی سنہ 2018ء اور 2019ء میں دو بار چیمپیئن بنی۔ مدھیہ پردیش کے کپتان آدتیہ سریواستو نے بھی ٹائٹل جیتنے کا سہرا کوچ چندرکانت پنڈت کے سر دیا اور کہا کہ ان سے ہی انھیں قیادت کے نکات معلوم ہوئے۔

ورلڈ کپ 1987ء میں شرکت[ترمیم]

چندرکانت پنڈت انڈیا کے سابق وکٹ کیپر بلے باز ہیں۔ وہ سنہ 1987ء کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں شامل تھے۔ وہ میچ ممبئی میں کھیلا گیا تھا جہاں وہ دلیپ وینگسرکر کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئے اور انھوں نے 24 رنز بنائے۔ انڈیا اس سیمی فائنل میں ہار گیا تھا۔ اس کے علاوہ چندرکانت پنڈت نے پانچ ٹیسٹ میچ اور 36 ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں بھی انڈیا کی نمائندگی کی ہے۔آخر چندرکانت پنڈت کی کوچنگ میں ایسی کیا خاص بات ہے جس نے انھیں انڈیا کی ڈومیسٹک کرکٹ کا سب سے کامیاب کوچ بنا دیا ہے؟ ان کی کوچنگ کے بارے میں کرکٹ ناقد وجے لوک پلّی کا کہنا ہے کہ بطور کوچ مدھیہ پردیش کو رنجی ٹرافی کا چیمپیئن بنانا ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اپنے الفاظ میں[ترمیم]

وہ کہتے ہیں: ’ایک بار جب ممبئی نے انھیں مسترد کر دیا تو انھوں نے ودربھ کو چیمپیئن بنایا۔ اب مدھیہ پردیش کو چیمپیئن بنایا جس نے کبھی یہ ٹرافی نہیں جیتی تھی۔ مدھیہ پردیش کی کرکٹ کی تاریخ بہت اچھی رہی ہے۔ لیکن یہ صرف چندرکانت پنڈت کی ہی سوچ تھی ہر کھلاڑی ذہنی طور پر مضبوط ہو اور نئے چیمپئن کھلاڑی تیار کریں۔‘وجے لوک پلی یہ بھی کہتے ہیں: ’چندر کانت پنڈت کھلاڑیوں سے کرکٹ کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہانیاں سناتے ہیں، مثالوں کے ساتھ وضاحت کرتے ہیں۔ کرکٹ کے بارے میں وہ جو سمجھ رکھتے ہیں، یا وہ جس طرح سے کرکٹ کو حالات کے مطابق سمجھتے ہیں وہ حیرت انگیز ہے۔ ان کی اپروج بہت سادہ اور عملی ہے۔ انھوں نے کبھی بڑے بڑے دعوے نہیں کیے۔‘ وجے لوک پلی نے مزید کہا: ’ان سے بہتر کوچ آج کوئی نہیں ہے۔ وہ ہر وقت لیپ ٹاپ کے بغیر کرکٹ کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ انھیں ’کرکٹ کا کیڑا‘ کہا جا سکتا ہے۔ میں انھیں ان کے کھیل کے دنوں سے جانتا ہوں۔ اتنی ساری کامیابیوں کے باوجود ان میں تکبر نہیں۔ وہ صرف اپنا کام کرتے ہیں اور وہ ایک شاندار انسان ہیں۔‘ ٹیم کو چیمپیئن ٹیم میں تبدیل کرنا چندرکانت پنڈت کے بارے میں انڈیا کے سابق آل راؤنڈر اور کوچ مدن لال کہتے ہیں: ’مدھیہ پردیش کو چیمپیئن بنانا ان کے لیے بہت بڑی بات ہے کیونکہ رانجی ٹرافی کا سیزن بہت طویل ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسی جیت سے ٹیلنٹ بھی ابھرتا ہے۔ کھلاڑیوں کو خود پر یقین ہوتا ہے کہ وہ بھی رنجی ٹرافی جیت سکتے ہیں۔ ویسے بھی رانجی ٹرافی انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ہے۔ اس میں سینکڑوں کھلاڑی کھیلتے ہیں۔‘مدن لال نے کھلاڑیوں اور مدھیہ پردیش کے کوچ چندرکانت پنڈت کو بھی خصوصی مبارکباد دی۔ وہ کہتے ہیں: ’ٹھیک ہے، یہ ٹیم ورک ہے جس میں چندرکانت پنڈت بالکل فٹ بیٹھتے ہیں۔ کوچ کی حکمت عملی کو کھلاڑی میدان میں کامیاب بناتے ہیں۔ چندرکانت پنڈت نے دکھایا ہے کہ کھلاڑیوں کو بہترین کارکردگی کی تربیت کیسے دی جا سکتی ہے۔‘وجے لوک پلی یہ بھی بتاتے ہیں کہ چندرکانت پنڈت کو اس جیت سے بڑی راحت ملی ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک بار انھیں اس گراؤنڈ میں شکست ہوئی تھی، اب اسی گراؤنڈ میں جیت ملی ہے۔‘ ان کا تھوڑا سا جذباتی لگاؤ ضرور ہو گا کہ بطور کوچ مجھے یہاں جیتنا چاہیے لیکن وہ کھلاڑیوں کو پورا کریڈٹ دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے اس کا سہرا نہ کبھی اپنے سر لیا ہے اور نہ ہی لیں گے۔ انھیں کبھی کبھی غصہ بھی آتا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ انھیں کھلاڑیوں سے پیار بھی ہے۔ وجے لوک پلی کے مطابق بی سی سی آئی ان کی طرف انڈین کرکٹ میں بڑے کردار کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’تمام بڑے نام انڈیا کے کوچ بن چکے ہیں جیسے روی شاستری، انیل کمبلے اور راہول ڈراوڈ، سب کی اپنی جگہ ہے، لیکن جو کچھ چندرکانت پنڈت نے گراس روٹ لیول پر کیا، ان میں سے کسی نے نہیں کیا۔‘

کوچنگ کا انداز[ترمیم]

چندرکانت پنڈت کی کوچنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رات ڈیڑھ بجے کھلاڑیوں کو اٹھا کر میدان میں لے جاتے ہیں اور صبح پانچ بجے تک فلڈ لائٹس میں سخت پریکٹس کراتے ہیں۔ اس طرح کی مشق کی وجہ سے یش دوبے، شبھم شرما، رجت پٹیدار اور گورو یادو جیسے کرکٹرز کو ٹیم میں جگہ ملی ہے۔ ویسے، ایک کرکٹر کے طور پر بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے لیے کھیلنے کے علاوہ چندرکانت پنڈت نے 138 فرسٹ کلاس میچز میں 48.57 کی اوسط سے 8209 رنز بنائے جس میں 22 سنچریاں اور 42 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انھوں نے وکٹ کے پیچھے 281 کیچز پکڑے اور 41 اسٹمپ بھی کیے۔ لیکن گذشتہ چند برسوں میں اپنی کرکٹ کوچنگ کی صلاحیت کے بل بوتے پر چندرکانت پنڈت نے رانجی ٹرافی میں جو کارنامہ انجام دیا، اب کرکٹ ناقدین بھی دبی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ ایسا کارنامہ کوئی اور کھلاڑی کر کے تو دکھائے[3]

چیئرمین[ترمیم]

وہ سال 2013ء کے لیے آل انڈیا جونیئر سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے بعد میں ان کی جگہ کونر ولیمز نے لی تھی۔ [4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Cricinfo profile
  2. "Full Scorecard of England vs India 2nd SF 1987/88 - Score Report | ESPNcricinfo.com". ESPNcricinfo (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 04 جولا‎ئی 2021. 
  3. https://www.bbc.com/urdu/sport-61962295
  4. Connor Williams