چپکے چپکے رات دن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
"چپکے چپکے رات دن"
غلام علی  کا سنگل
صنف غزل
دورانیہ 7:59
مصنفین حسرت موہانی

چپکے چپکے رات دن حسرت موہانی کی لکھی ہوئی مشہور غزل ہے۔[1] اس کی موسیقی کی بنیاد کافی راگ پر ہے[حوالہ درکار]۔ یہ ایک کلاسیکی اردو غزل ہے جو مغلیہ سلطنت کے دور کی بھارتی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس غزل کو غلام علی نے فلم نکاح (1982ء) میں گایا جس سے یہ مشہور ہو گئی۔[2][3]

مکمل غزل[ترمیم]

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
با ہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق
تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
بار بار اُٹھنا اسی جانب نگاہ ِ شوق کا
اور ترا غرفے سے وُہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے
جان کرسونا تجھے وہ قصد ِ پا بوسی مرا
اور ترا ٹھکرا کے سر، وہ مسکرانا یاد ہے
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو ازراہِ لحاظ
حال ِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا
سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکر ِ فراق
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رُلانا یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
آج تک نظروں میں ہے وہ صحبتِ راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے،تیرا بلانا یاد ہے
میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی
ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں،پر اب تک وہ ٹھکانہ یاد ہے
شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا
اور مِرا وہ چھیڑنا، گُدگدانا یاد ہے
با وجودِ ادعائے اتّقا حسرت مجھے
آج تک عہدِ ہوس کا وہ فسانا یاد ہے

شہرت[ترمیم]

اس غزل کو اپنے دور کے عظیم گلوکاروں نے گایا ہے جیسے غلام علی۔ انہوں نے اسے فلم نکاح (1982ء) کے لیے گایا۔ بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے اور بھارتی غزل گائک جگجیت سنگھ نے بھی اسے گایا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]