ڈارونیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ڈارونیت (Darwinism) سے مراد چارلس ڈارون کی عقل اور اعتقادات سے پیدا ہونے والے ان نظریات سے لی جاتی ہے کہ جن کے زریعے زندگی کے ارتقاء اور اس ارتقاء کے سلسلے میں ہونے والے فطری انتخاب کی انسانی رسائی عقل کے مطابق توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ گو جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ ڈارونیت میں اکثر بحث کو ارتقاء بہ وسیلہء فطری انتخاب پر مرکوز رکھا جاتا ہے ، یعنی بہ الفاظ دیگر فطرت کو خالق کے درجہ پر پہنچادیا جاتا ہے ، لیکن نیچے کی عبارت میں یہ بھی واضع ہوجاۓ گا کہ ارتقاء کے مفہوم کو وسیع ترکرکے اور ایسے افکار اور تخیلات و مشاہدات کو سمیٹ کر کہ جنکا براہ راست ڈارون کی تحقیق سے کوئی تعلق نہیں ڈارونیت میں نۓ نۓ پہلو اجاگر کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

1859 میں شائع ہونے والی ڈارون کی کتاب مبداء انواع (Origin of Species) کی پذیرائی کے بعد اس کے پس منظر میں ڈارونیت کی اصطلاح رائج ہوئی اور اس نے معاشرتی ، حیاتیاتی اور حیات سے متعلق موجود تمام ارتقائی اور (اکثر انقلابی ؛ مثلا دنیا کے کئی مقامات پر فلسفوں کے بطن سے جنم لینے والے مذہب نما خاکوں) کو اپنے احاطہ میں لے لیا (جیسا اوپر کے متن میں ڈارونیت کے مفہوم کے وسیع ہونے کا ذکر ہوا)۔

تنقید[ترمیم]

ڈارونیت کو غلط ٹھہراتے ہوئے، ترکی ایک ماہر حیاتیات “ہارون یحیٰ“ نے ایک نظریہ پیش کیا۔ ان کا یہ نظریہ “اٹلاس آف کرئیشن“ نامی کتاب میں پیش کیا ہے۔ ان کے نظریہ کے مطابق ڈارون کا پیش کردہ نظریہ غلط ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]