کائٹ رنر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کائٹ رنر
(انگریزی میں: The Kite Runner ویکی ڈیٹا پر عنوان (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Les Cerfs-Volants de Kaboul.jpg 

مصنف خالد حسینی  ویکی ڈیٹا پر مصنف (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر کام یا نام کی زبان (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف تاریخی ناول  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر ریورہیڈ بکز  ویکی ڈیٹا پر ناشر (P123) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 29 مئی 2003  ویکی ڈیٹا پر تاریخ اجرا (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آئی ایس بی این 1-57322-245-3  ویکی ڈیٹا پر آئی ایس بی این-10 (P957) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
او سی ایل سی 51615359  ویکی ڈیٹا پر او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
اے تھاؤزنڈ سپلنڈڈ سنز  ویکی ڈیٹا پر اگلا (P156) کی خاصیت میں تبدیلی کریں Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

"دی کائٹ رنر" افغانی نژاد امریکی ناول نگار خالد حسینی کا پہلا ناول ہے جسے ریورہیڈ بکز نے 2003ء میں شائع کیا۔اِس ناول میں ایک نوجوان لڑکے عامر کی کہانی بیان کی گئی ہے جو وزیر اکبر خان ضلع کابل کا رہنے والا ہے اور جس کا بہترین دوست حسن ہے۔

کہانی کا پسِ منظر[ترمیم]

سوویت یونین کی چڑھائی کے نتیجہ میں افغانستان میں زوال ہے۔ اِس کہانی میں افغانستان سے لوگوں کا ہجرت کر کے پاکستان اور امریکا چلے جانا اور طالبان کی حکومت سے متعلق واقعات بھی شامل ہیں۔

کہانی کا عنصر[ترمیم]

حسینی بذاتِ خود اِس ناول کو باپ بیٹے کی کہانی سمجھتے ہیں۔وہ اپنی کہانی میں ایک عنصر پہ بہت توجہ دیتے ہیں اور وہ ہے کنبہ۔اسی عنصر کو انھوں نے اپنی بعد کی تحریروں میں بھی استعمال کیا ہے۔حسن پہ تشدد کے عمل کے منظر کو دکھایا گیا ہے کہ عامر جسے روکنے میں ناکام رہتا ہے اور اسی لیے اُس کا احساسِ جُرم اور اِس سے چھُٹکارانمایاں طور پہ اِس ناول کے موضوعات ہیں۔کتاب کا آخری نصف حصہ عامر کی اُن کوششوں پہ مبنی ہے جو اُس نے اپنی خطا کی تلافی کے طور پہ دو دہائیوں کے بعد عامر کے بیٹے کو طالبان سے بچانے کے لیے کی ہیں۔

کتاب کی شہرت[ترمیم]

دی کائٹ رنر نے کاغذی پشتہ میں چھپنے کے بعد فروخت کا ریکارڈ قائم کر دیا اور کتابوں کے کلب میں بہت مشہور ہوئی۔ یہ دو سالوں تک نیویارک ٹائمز کی بہترین فروخت ہونے والی کتابوں میں سے ایک رہی۔اِس ناول کی ستر لاکھ کاپیاں متحدہ امریکا میں فروخت ہوئیں۔ جائزے عام طور پر مثبت رہے گو کہ کہانی کے کچھ حصے افغانستان کے لوگوں میں تنازعات کا سبب بنے۔

فلم[ترمیم]

اشاعت کے بعد کتاب میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ "دی کائٹ رنر" ناول اسی نام سے 2007 میں فلمایا بھی گیا۔

کردار[ترمیم]

عامر،حسن، آصف، بابا، علی، رحیم خان، ثریا، سہراب، صنوبر، فرید،

حوالہ جات[ترمیم]