کاربن ڈائی آکسائڈ
| Carbon dioxide | |
|---|---|
| اسم نظامی |
Carbon dioxide |
| دیگر نام | Carbonic acid gas; carbonic anhydride; dry ice (solid) |
| شناختساز | |
| کاس عدد |
[124-38-9] |
| پبکیم | |
| اینیکس عدد |
|
| UN number | 1013 Solid (dry ice): 1845 Mixtures with Ethylene oxide: 1952,3300 |
| ریٹکس عدد |
FF6400000 |
| اسمائلس | |
| شناختساز | |
| خـواص | |
| سالماتی_صیغہ | |
| مولرکمیت |
44.0095(14) g/mol |
| ظہور | colorless gas |
| کثافت |
1,600 g/L, solid; 1.98 g/L, gas |
| نقطۂ_پگھلاؤ |
−57 °C (216 K) (under pressure) |
| نقطۂ ابال |
−78 °C (195 K), (sublimes) |
| حل پذیری
پانی میں |
1.45 g/L |
| ترشیت (pKa) |
6.35 and 10.33 |
| لزوجیت |
0.07 cP at −78 °C |
| دوقطبی اثر |
zero |
| Structure | |
| Molecular shape | linear |
| وابستہ مرکبات | |
| Related oxides | کاربن مونو آکسائیڈ; carbon suboxide; dicarbon monoxide; carbon trioxide |
| ماسواۓ کسی خصوصی بیان کے، تمام مادی معطیات معیاری درجہ حرات و دباؤ یعنی 25°C, 100 kPa پر دیۓ گۓ ہیں۔ لاتعلقیتِ معلوماتی خانہ و حوالہ جات | |
کاربن ڈائ آکسائڈ (carbon dioxide) ایک ایسا کیمیائی مرکب (سالمہ) ہوتا ہے کہ جس جو کاربن کے ایک اور آکسیجن کے دو عدد جواہر (atoms) سے ملکر تشکیل پاتا ہے؛ اس کو علم کیمیاء میں علامتی طور پر CO2 لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے۔
یہ ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جو جلنے میں مدد نہیں دیتی۔ یہ ہوا سے ڈیڑھ گنا بھاری ہے۔ یہ گیس جلنے اور سانس لینے کے عمل میں پیدا ہوتی ہے جبکہ پودے ضیائ تالیف photosynthesis سے کاربن ڈائ آکسائڈ استعمال کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔
یہ گیس پانی میں بہت حل پزیر ہے۔ آبی پودے پانی میں حل شدہ کاربن ڈائ آکسائڈ کو جذب کر کے زندہ رہتے ہیں۔
کاربن ڈائ آکسائڈ کے سالمے (مالیکیول) میں آکسیجن کے دو اور کاربن کا ایک ایٹم ہوتا ہے۔ ایسے سالمے سورج کی توانائ جذب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاربن ڈائ آکسائڈ گرین ہاؤس ایفکٹ green house effect پیدا کرتی ہے جو دنیا کو گرم کرنے global warming کی بڑی وجہ ہے۔ fossil fuel مثلا کوئلہ تیل اور گیس جلانے سے ہر سال 25 بیلین ٹن کاربن ڈائ آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔
اگر کاربن ڈائ آکسائڈ کو سرد کیا جائے تو یہ مائع نہیں بنتی بلکہ منفی C° 78.51 پر براہ راست ٹھوس میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے خشک برف dry ice کہتے ہیں کیونکہ گرم ہونے پر یہ برف نہ گیلی ہوتی ہے اور نہ پگھلتی ہے بلکہ دوبارہ گیس بن کر اڑ جاتی ہے۔ اس عمل کو عمل تصعید sublimation کہتے ہیں۔ ہاں اگر دباؤ 5.1 atm سے زیادہ ہو تو خشک برف بھی گیلی ہو جاتی ہے کیونکہ اس دباؤ پر کاربن ڈائ آکسائڈ مائع حالت اختیار کر سکتی ہے
کاربن ڈائ آکسائڈ پانی میں حل ہو کر ایک کمزور تیزاب بناتی ہے جسے کاربونک ایسڈ carbonic acid کہتے ہیں یہ تیزاب انسانی خون میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر پیا جائے تو یہ تیزاب منہ میں ہلکی سی خوشگوار جلن پیدا کرتا ہے اس لیے پیپسی pepsi کوکا کولا coca cola اور بہت سارے دیگر مشروبات میں کاربن ڈائ آکسائڈ گیس دباؤ کے تحت حل کر دی جاتی ہے۔ اس کی حل پذیری کم درجہ حرارت پر بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایسی بوتلوں کو ٹھنڈا کیے بغیر کھول دیا جائے تو بیشتر گیس ضائع ہو جاتی ہے اور مشروب کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی بوتل میں گیس پانی میں حل ہو جاتی ہے اور بوتل کھولنے پر بہت کم گیس ضائع ہوتی ہے جس سے مشروب خوش مزہ ہو جاتا ہے۔
پتے (gall bladder) کی جراحی (surgery) کا ایک طریقہ ایسا بھی ہوتا ہے جس میں پیٹ پر چار سوراخ بنا کر ان میں کیمرا (camera) اور دوسرے اوزار داخل کیے جاتے ہیں اور TV پر اندرونی منظر دیکھتے ہوئے پتا (gall bladder) باہر نکال لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج پرانے طریقہ سے کم تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس جراحی کے دوران پیٹ میں کاربن ڈائ آکسائڈ بھری جاتی ہے تاکہ جراح کو کام کرنے میں سہولت ہو۔ اس طریقہ کو laparoscopic cholecystectomy یا lap choly کہتے ہیں۔